خواجہ خورشید انور: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔انور اقبال

جون 1929 کی بات ہے، لاہور کی میکلوڈ روڈ پر لکشمی چوک کے اطراف میں واقع کشمیر بلڈنگ کے اپارٹمنٹ نمبر 69 میں پانچ، چھ افراد موجود ہیں اور وہ سب بڑے انہماک سے میز پر رکھے ہوئے تار کے ٹکڑوں اور لوہے کے بنے ہوئے چند شیل کو آپس میں جوڑنے میں مصروف ہیں، اسی میز پر کیمیکل سے بھری ہوئی چند بوتلیں بھی رکھی ہیں۔ اچانک دروازے پر زور سے دستک ہوتی ہے، کمرے میں موجود تمام افراد گھبرا جاتے ہیں اور کمرے میں قبرستان کی سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ اچانک باہر سے کمرے کا دروازہ توڑنے کی آواز آتی ہے، چند ہی لمحوں میں دروازہ ٹوٹ جاتا ہے اور پولیس کی وردی میں ملبوس دس، پندرہ افراد اندر داخل ہو کر کمرے میں موجود تمام افراد کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ پولیس اپنی تحقیقات شروع کرتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کشمیر بلڈنگ کے اپارٹمنٹ نمبر 69 میں دیسی ساخت کے بم بنائے جا رہے تھے اور یہ لوگ بھگت سنگھ کی انقلابی تنظیم نوجوان بھارت سبھا کے كاركن ہیں۔

مزید تحقیقات کے نتیجے میں لاہور شہر سے 32 افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ 10 جولائی 1929 کو ان افراد کے مقدمے کی کاروائی شروع کی جاتی ہے اور مجرموں کو دہشت گرد قرار دے کر مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ اُن مجرموں کی فہرست میں گورنمنٹ کالج لاہور کا ایک طالب علم بھی شامل ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے کالج کی سائنس لیبارٹری سے “پکرک ایسڈ” فراہم کیا تھا، جو بم بنانے کا ایک بنیادی جز ہے۔ اس طالب علم کو دو سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ اس طالب علم کا نام “خواجہ خورشید انور” ہے، جو آنے والے دنوں میں برصغیر کی فلمی دنیا کا عظیم موسیقار بنا۔ ایسا عظیم موسیقار جس کے سامنے بمبئی کی فلم انڈسٹری کی موسیقی کی دنیا کے چمکتے ستارے نوشاد اور روشن بھی ہاتھ باندھ کر خاموش کھڑے رہتے تھے۔

tripako tours pakistan
مضمون نگار:انور اقبال

خواجہ خورشید انور نے “بی اے” کا امتحان اپنی قید کے دوران جیل سے ہی دیا اور پورے صوبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے فلسفے میں ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی اور اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی جس کے نتیجے میں ان کو “نانک گولڈ میڈل” بھی دیا گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنا گولڈ میڈل وصول کرنے یونیورسٹی کی تقریب میں نہیں گئے کیونکہ اُس دن ان کے گھر پر ان کے موسیقی کے استاد توکل حسین کےساتھ موسیقی کی ایک تقریب تھی۔ 1936 میں انہوں نے انڈین سول سروس کے مقابلے کے امتحان میں حصہ لیا اور اس امتحان میں بھی “ٹاپ” کیا لیکن بدقسمتی سے ان کے باغیانہ خیالات اور انقلابی پس منظر کے پیشِ نظر انہیں کسی سرکاری عہدے کے لیے اہل نہیں سمجھا گیا۔ ان کی یہ بدقسمتی ہندوستانی فلم انڈسٹری کی خوش قسمتی ثابت ہوئی کہ خواجہ خورشید انور نے 1939 میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں شمولیت اختیار کر لی جہاں ان کی ملاقات اُس زمانے کے مشہور فلم ساز اور ہدایت کار “اے آر کاردار” سے ہوئی۔ اے آر کاردار ان کی ترتیب کردہ موسیقی سے بہت متاثر ہوئے اور فوراً ہی خواجہ خورشید انور کو اپنی اگلی پنجابی فلم “کڑ ماہی” کی موسیقی تیار کرنے کی پیشکش کر دی۔ خواجہ صاحب کو موسیقی کی شد بدھ اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ اُن کے والد خواجہ فیروز الدین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے لیکن وہ اپنے گھر میں مستقل بنیادوں پر موسیقی کی محفلیں منعقد کرتے رہتے تھے۔ ان محفلوں میں استاد توکل حسین خان، استاد عبد الوحید خان، استاد عاشق علی خان اور چھوٹے استاد غلام علی خان آتے تھے۔ ان محفلوں کی میزبانی کے فرائض خواجہ خورشید انور اور فیض احمد فیض سرانجام دیتے تھے۔ خواجہ خورشید انور اپنے گھر پر منعقد ہونے والی موسیقی کی ان نجی محفلوں میں میزبانی کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ استاد توکل حسین خان صاحب سے موسیقی کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔
فلم “کڑ ماہی” جب اگست 1941 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تو امیدوں کے بر عکس یہ فلم خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی لیکن فلم کے ہدایت کار “جے کے نندہ” کو خورشید انور کی موسیقی بھا گئی اور پھر ان دونوں نے مل کر 1943 میں فلم “اشارہ” کے لیے کام کیا۔ یہ فلم زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے 9 گانوں کی موسیقی خورشید انور نے ترتیب دی تھی جو سب کے سب بیحد مقبول ہوئے۔ اس کے بعد آنے والی کئی دہائیوں تک خواجہ صاحب کی تخلیق کی ہوئی موسیقی فلم بینوں کے کانوں میں مستقل رس گھولتی رہی۔

1947 کا سال ہندوستان کی آزادی کا سال تھا لیکن اس آزادی میں ہندوستان کی تقسیم بھی شامل تھی۔ خواجہ صاحب کی پیدائش چونکہ میانوالی کی تھی اور ان کا گھرانا لاہور میں مقیم تھا اور وہ خود فلمی صنعت سے منسلک ہونے کی وجہ سے بمبئی میں رہ رہے تھے۔ تقسیم کی وجہ سے وہ فوری طور پر بمبئی سے لاہور آگئے جو اب نوزائیدہ مُلک پاکستان کا ایک شہر تھا۔ ابھی وہ اپنے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کر ہی رہے تھے کہ بمبئی سے اُن کے پیچھے پیچھے فلمی دنیا کے اُن کے دیرینہ ساتھی “جے کے نندہ” بھی لاہور پہنچ گئے اور خواجہ صاحب کو بمبئی واپس چلنے کے لیے قائل کرنے لگے۔ بالآخر جے کے نندہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے اور خواجہ صاحب ان کے ساتھ بمبئی واپس لوٹ گئے۔ بمبئی پہنچ کر پھر ان دونوں کی جوڑی نے متعدد فلموں کی لازوال موسیقی تخلیق کی۔

Advertisements
merkit.pk

1947 میں فلم “پروانہ” میں خواجہ خورشید انور کی ترتیب دی ہوئی موسیقی پر برصغیر کی فلمی دنیا کے لیجنڈ گلوکار “کے ایل سہگل” نے اپنی زندگی کا آخری گیت گایا۔
1952 میں خواجہ خورشید انور مستقل طور پر بمبئی کو چھوڑ کر لاہور آگئے اور یہاں کی فلمی دنیا کے لیے کام کرنے لگے۔ پاکستان آنے کے بعد 1956 میں خواجہ خورشید انور کی تخلیق كرده موسیقی سے آراستہ پہلی فلم “انتظار” ریلیز ہوئی۔ یہ فلم بہت مشہور ہوئی۔ اس فلم کے پروڈیوسر سلطان جیلانی اور خواجہ خورشید انور تھے۔ “انتظار” کے سب گیتوں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ کہانی بھی خواجہ صاحب نے لکھی تھی جبکہ ڈائیلاگ امتیاز علی تاج کے تھے۔ اس فلم کی بدولت گلوکارہ و اداکارہ نور جہاں کے فن کو بھی نئی زندگی ملی۔
1958 میں فلم “زہر عشق” کے ذریعے خواجہ خورشید انور نے ناہید نیازی کو بطور گلوکارہ متعارف کروایا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نو آمیز گلوکارہ ناہید نیازی کی جادو بھری آواز نے شائقین کے دلوں کو مُسخّر کر لیا۔ ایک برس بعد خواجہ صاحب ہی کی تخلیق کردہ موسیقی پر ناہید نیازی کا فلم “جھومر” میں گایا ہُوا گیت “چلی رے، چلی رے، بڑی آس لگا کے چلی رے” اپنے دور کا مشہور گانا ثابت ہُوا۔ پاکستان میں خواجہ خورشید انور نے کئی فلموں کی کہانی بھی لکھی اور ہدایت کاری کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ یہ بات ہم سب کے لیے انتہائی دلچسپ ہے کہ خواجہ خورشید انور صاحب کو کوئی بھی موسیقی کا سازبجانا نہیں آتا تھا اور وہ اپنی دُھنوں کو ماچس کی ڈبیہ پر اپنی انگلیوں کی مدد سے ایک خاص انداز سے ضرب لگا کر ترتیب دیتے تھے۔
خواجہ خورشید انور نے ریڈیو پاکستان کی سگنیچر ٹیون بھی تخلیق کی تھی۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ “راگ مالا” اور “آہنگ خسروی” ہے، جس کے ذریعے کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیے گیے۔ یہ “مخصوص راگ” 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک مکمل البم ہے۔
30 اکتوبر 1984ء کو خواجہ خورشید انور دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی موت پر احمد راہی نے کیا خوب کہا تھا کہ
“عزت کی روٹی تو سب کھاتے ہیں لیکن عزت سے بھوکا رہنا صرف خورشید صاحب کو آتا تھا”

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply