اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔۔نورالحق فیض ژوبی

دین اسلام ہی اللہ تعالی کی وہ آخری نعمت ہے جو اس عالم کو دی گئی اور عصر حاضر کی تاریخ میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پروجود میں آیا ہے،اور اسی ملک کو ہر قسم کی معدنیات سے مالا مال یا گیا، جہاں ہر قسم کی نعمتیں پائی جاتی ہیں، پاکستان ہی وہ خوش قسمت سر زمین ہے جہاں چارموسم اورہر قسم کے پھل وسبزیاں ٲگتی ہیں، پاکستان ہی وہ خطہ ہے،جہاں کے باشندے انتہائی محنت کش اور محب وطن ہیں، مگر اس کے باوجود عرصہ ہوا  یہ ملک خوش قسمت کے بجائے بد نصیب بنتا جارہا ہے ،  بدترین حالات کا شکار ہوتا جارہاہے، جب جناب عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تونوجوان طبقہ کو امید کی کرن نظرآنے لگی، خصوصا ً جب خان صاحب نے کراچی میں نیٹو کو روکنے کے لئے دھرنا دیا، جو کہ حقیقت میں ایک سیاسی شو تھا، تو یہ گرگٹی عوام انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے، جب  خان صاحب مسند آراء  مملکت ہوئے اور آپ نے پہلے خطاب میں   ریاستِ مدینہ  کا نام لیکر اس سادہ لوح عوام کو اپنے خطاب   سے  گرویدہ بنا لیا، ہر کوئی یہ کہنے لگا موصوف بلا کے ذہین، زیرک اور عوام دوست انسان ہیں ، اور جناب کا  دورِ  حکومت سابقہ ادوار کی طرح نہیں ہوگا اور جب عہد نواز میں  پختونخوا  میں ان کی حکومت تھی، بعض امور ایسے پیش آئے تھے جن سے حسن ظن پیدا ہوگیا تھا، لیکن وائے ناکامی کہ موصوف جس وقت سے  اقتدار کی کرسی  پر براجمان ہوئے، حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہتے ہیں، جن سے یہ یقین ہوگیا کہ ان کی ساری ذہانت ان کی قوتِ  عمل، ان کی پالیسیاں، ان کی ٹیم کی جد وجہد صرف اور صرف اپنی ذات اورلاڈلوں کے لئے ہے، ملک وملت کوفائدہ نہیں پہنچ رہا ہے، وہ جب سے شہرِ اقتدار کے والی  ہوئے ہیں، ملک مسلسل فرقوں، فتنوں، اور بحرانوں کی منجدھار میں  ہچکولے کھا رہا ہے، انہوں نے سب سے پہلے بحران تبدیلی کے نعرے سے پیدا کیا، جس کے نتیجہ میں ملک تبدیل ہوتا جارہا ہے، دن بدن تبدیلی کو غربت کی شکل میں پذیرائی ملتی جارہی ہے، گویا ان کا اقتدار ان کے خود آوردہ بحران کی پیداوار ہے، اِنہوں نے مسلسل پے درپے اتنے بحران تخلیق کیے اور قوم وملک کے جسم پر اتنے چرکے لگا ئے کہ قوم نیم جان ہوکر رہ گئی۔
حکومت کا سب سے بڑا فرض یہ ہو تا ہے کہ وہ     عوام کو امن وامان اور راحت وآسائش کی ضمانت دے، مگر بدقسمتی سے مسٹر کپتان کا  دورِ  اقتدار   پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دور ہے جس میں ہر طرف مایوس کن گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، جس میں کسی کو سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہورہا ہے، اب ہر کوئی اس وطن سے نا امید ہوتا جارہا ہے، کسی نے تبدیلی نہیں دیکھی اگر دیکھی ہے تو ان کی غلط پالیسیوں کی بدولت گرانی اور افراط وتفریط دیکھی ہے، مہنگائی کا دور دورہ ہے، مصنوعی قحط کا دیو عریاں ناچ رہا ہے، عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے، ہر ایک کی زندگی اجیرن ہوچکی  ، اور ملازم طبقہ بدحالی وپریشانی کا شکار ہے، شدید ابتلاء کا دور گزر رہا ہے۔
توقع ہوگئی تھی کہ محترم پاکستان کی اقتصادی اور سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کےساتھ شاید ان کے عہد میں دینی اقدار کو بھی استحکام نصیب ہوجائے اور یہ انحطاط پذیر حیثیت نہ رہے لیکن افسوس:
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
تعجب وتا سف کا مقام یہ کہ ایک طرف تو ریاست مدینہ کی بات کی جارہی ہے لیکن دوسری طرف اسی ریاست مدینہ میں عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اسی کے ساتھ ساتھ دینی معیار کو بلند کرنے کے بجائے ان سے غفلت برتی جارہی ہے، بہرحال یہ وہ مایوس کن صورت حال ہے جس نے جو امید باندھی تھی اس کو خا ک میں ملا دیا۔
لیکن مایوس نہ ہو ں، ہر کو ئی رب سے معافی مانگے شاید یہ امت قابل معافی ہو جائےے اور ہم حق تعالیٰ  کے ابرِ  رحمت کے  مستحق ٹھہریں   ، جس سےدلوں کو سکون نصیب ہوجائے، دماغ کو چین حاصل ہو،  اور ایسی صورت پیدا ہوجائے  کہ ہزاروں مایوسیوں کے بعد یہ توقع ہو  کہ اس خداد مملکت میں قانون معدلت اور محاکم عدل کا نظام ہوسکے، اور ہمیں ایک ایسا حکمران نصیب ہوجائے، جس کے دین ایمان اور مخلصانہ زندگی پر یقین ہو، ان میں خدمت قوم کی  صحیح اہلیت ہو اور ان کے دل میں خدمت دین وملت کا صحیح جذبہ  ہو، حق تعالی اپنی رحمت کاملہ اور قدرت کاملہ سے پاکستانی عوام کو  یہ منظر دیکھنے کا موقع میسر  فرمائے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply