مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

نجی تعلیمی ادارے،کرونا اور یکساں نصاب۔۔سید وقاص جعفری

تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک کر لیاگیا ہے کہ نجی شعبے کی فعال شمولیت کے بغیر حکومتیں تنہا معیار کے ساتھ تعلیم کا تمام←  مزید پڑھیے

افغانستان میں نسلی تعصب کا منہ بولتا ثبوت۔۔اسحاق چنگیزی

اگر آپ افغانستان میں نسلی امتیاز اور تعصب کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو اس پر زیادہ محنت اور ریسرچ کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کو صرف افغانستان کے اس نقشے پر توجہ دینے کی ضرورت←  مزید پڑھیے

پاکستان میں نظام تعلیم کی تاریخ اور مستقبل۔۔فیصل ولی خان

سنسکرت میں ‘گُرو’ کا مطلب ہوتا ہے استاد اور ‘کولا’ کو کنبہ یا گھر کہا جاتا ہے۔ گروکولہ (گروکولم بھی کہتے ہیں) قدیم ہندوستان میں سب سے پہلے تعلیمی نظام کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جہاں شیشیا (طلبا) ایک←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ , چرچ یا مسجد ؟۔۔ڈاکٹر جون فاطمی

یقین کیجئے کہ قدیم رومی چرچ “آیا صوفیہ ” کو مسجد ، پھر میوزیم اور اب دوبارہ مسجد قرار دینے سے نہ تو کسی الباکستانی کی صحت پر کوئی فرق پڑتا ہے نہ  ہی وہاں موجود کسی ترک کی صحت←  مزید پڑھیے

چوتھا صنعتی انقلاب۔۔طلحہ سہیل فاروقی

یہ دنیا اپنے آغاز سے ہی انقلابی ادوار سے گزرتی رہی ہے۔ انقلابات زمانہ کی نوعیت ہر دور میں مختلف رہی ہےاور یہ تمام انقلابات محدود علاقائی سطح سے لے کر عالمگیر سطح  تک محیط رہے ہیں ۔ انسانی زندگی←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ۔۔عائشہ احمد

استنبول ، ترکی کا سابقہ گرجا گھر اور موجودہ مسجد آیا صوفیہ یعنی (حکمت خداوندی) مشرقی آرتھوڈوکس کا سابقہ گرجا گھر ہے جسے 1453 میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ سن 1935←  مزید پڑھیے

ڈنر سیٹ۔۔تبسم اعوان

والد صاحب کئی دنوں سے ایک ڈنر سیٹ کی تلاش میں تھے۔ ہمارا پرانا ڈنر سیٹ جو والدہ کے جہیز میں تھا، قریباً بیس بائیس برس سے ہر خاص موقع  پر مہمانوں کو طعام پیش کرنے کے لیے اپنی خدمات←  مزید پڑھیے

محبت اب نہیں ہوگی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ہاتھوں کی کٹوری بہتے پانی کے نیچے رکھی تو قسمت والی زندگی کی سبھی لکیریں مٹیالی لگنے لگیں ۔ ایسے لگا جیسے پانی چہرہ چھوئے بناپلٹ گیا ہو ۔ بس آنکھیں  ہی تو بھیگی ہیں ۔۔ ہسپتال سے چارسال بعد←  مزید پڑھیے

مذہب اور پُرتشدد سیاست کی شروعات۔۔صائمہ جعفری

ریاست پاکستان کے موجودہ ڈھانچے میں مذہبی جماعتوں کے افکار اور مذہبی سیاست کا بڑا عمل دخل ہے ،نائن الیون کے واقعے کے بعد مغربی دنیا میں اسلام، جہاد اور تشدد کے فلسفے اور تکفیری نظریات کو سمجھنےکے لئے تحقیق←  مزید پڑھیے

کورونا سے نہ مرے تو کیا بھوک سے بچ پائیں گے ؟۔۔شہنیلا ارمان

کچھ عرصہ  پہلے حکومت پاکستان کی  جانب سے ایک سروے این ایس ای آر (نان سوشیو ایکنامک رجسٹری ) شروع ہوا تھا جس میں لوگوں کے گھروں میں جا کر انکا ڈیٹا لیا جا رہا  تھا  ۔ اس سروے کے←  مزید پڑھیے

ان لائن کلاسسز کیسے؟اصغر شمل خلجی

کورونا نے ملک بھر کے تمام معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے ،جو شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو۔ اس وبا کا پس منظر سامنے رکھتے ہوئے دنیا بھر کا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہے۔ جوکہ اکثر ممالک←  مزید پڑھیے

گناہ اور ثواب کا ’’فلسفہ‘‘۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

مریدکے سے ایک نوجوان حافظ عباس کہ مقفٰی و مسجع گفتگو کرنے کا عادی اور اِسی لکھنو ی طرز میں لکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے، حالانکہ اِس کی عمر ابھی سننے اور پڑھنے کی ہے، کئی دنوں سے اس←  مزید پڑھیے

عورت۔۔رعنا اختر

مرد کی ٹیرھی پسلی سے پیدا ہونے والی،غیرت کے  نام پہ قتل ہونے والی ،زمانہ جاہلیت میں زندہ دفنائی  جانے والی، نئے دور میں  زندہ درگور ہونے والی ، “عورت”۔ عورت پہ قلم اٹھانے والے مکمل عورت کو بیان کرنے←  مزید پڑھیے

فلسطین کو ضم کرنے کا اسرائیلی پلان اور کشمیر (دوسرا،آخری حصہ)۔۔۔افتخار گیلانی

حال ہی میں امریکہ کی طاقتور یہودی لابی نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہی اپنا ایک اعلیٰ سطحٰ وفد ان ممالک کے دورہ پر بھیجا تھا، جہاں ان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ مغربی کنارہ کو←  مزید پڑھیے

فلسطین کو ضم کرنے کا اسرائیلی پلان اور کشمیر (حصہ اوّل)۔۔۔افتخار گیلانی

گو کہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے خطے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی اعتبار سے کوسوں دور ہیں، مگر تاریخ کے پہیوں نے ان کو ایک دوسرے کے قریب لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ دونوں خطے تقریباً ایک ساتھ 1947-48ء←  مزید پڑھیے

فاعل اور فاعلِ حقیقی۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

معلوم تھا “تقدیر اور تدبیر” ایسے دقیق موضوع پر محض ایک نشست اور ایک مضمون بجائے تشفی کے تشنگی کو شدید تر کرنے کا موجب بن جائے گا۔ اس موضوع پر برادرم جمیل احمد عدیل کا ایک سوال نما تبصرہ←  مزید پڑھیے

بائیں بازو کی جدوجہد کا نیا عہد۔۔حسنین جمیل فریدی

تقریباً پچھلے آٹھ سالوں سے میں لیفٹ کی سیاست کا حصہ ہوں۔ 2012 میں لاہور آتے ہی انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ لیفٹ کے مختلف گروپس سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر گروپ مجھے اپنی طرف زبردستی کھینچنے←  مزید پڑھیے

بالکنی۔۔عنبر عابر

یہ ایک حیرت انگیز بات تھی اور میرا دوست ارسلان یہ معمہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ میرے سامنے اس کا وسیع و عریض بنگلہ تھا جو اس نے حال ہی میں تعمیر کرایا تھا۔بنگلہ اگرچہ شاندار تھا لیکن اس کا←  مزید پڑھیے

موبائل فون اور ہمارے بچے۔۔فاطمہ وہاب

موبائل کی تباہ کاریوں سے کون ناواقف ہے؟ اور جب بات آجائے بچوں کی تو آج کے دور میں بچوں کا اس کے بغیر گزارا ناممکن سی بات لگتی ہے، اب چاہے ان بچوں کی عمر دو سال ہی کیوں←  مزید پڑھیے

برداشت!امن کے لئے لازم۔۔۔سحرش کنول

معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے۔ یہی گمبھیر صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی←  مزید پڑھیے