بائیں بازو کی جدوجہد کا نیا عہد۔۔حسنین جمیل فریدی

تقریباً پچھلے آٹھ سالوں سے میں لیفٹ کی سیاست کا حصہ ہوں۔ 2012 میں لاہور آتے ہی انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ لیفٹ کے مختلف گروپس سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر گروپ مجھے اپنی طرف زبردستی کھینچنے کی کوشش کرتا رہا۔ تمام گروپس میں جس سے بھی ملاقات ہوتی تو سب کے نظریات میں شدید اختلاف پایا۔ ان تمام گروپس میں دو چیزیں قدرے مشترک تھیں ایک تو یہ کہ ایک گروپ کے لوگوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 10 تھی، اتنی پرانی تنظیمیں ہونے کے باوجود میں ہر گروپ کا آخری ممبر تھا اور آخر تک آخری رہا۔ دوسری چیز جو شاید پہلی وجہ کی بنیادی وجہ تھی وہ یہ کہ ہر گروپ دوسرے گروپ سے مذہبی فرقہ واریت سے بڑھ کر نفرت کرتا تھا۔ میٹنگز اور سٹڈی سرکلز میں نظریاتی بحث کم دیگر گروپس اور شخصیات پر زیادہ تنقید ہوتی تھی۔ سال میں اِکّا دُکّا کوئی بھی بڑا سیاسی اجتماع جیسے فیض میلہ ، جالب کانفرنس اور دیگر کسی بھی پروگرام میں سٹیج اور تماشائی میں فقرے کسنا، ایک دوسرے کو طعنے دینا، فتوے لگانا، حتیٰ کہ ذاتیات تک کے حملے تک ہوتے جسے دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوتی مگر مجھے محسوس ہوتا کہ شاید ابھی میں نظریات سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں تھوڑا وقت اور لیکر ان میں سے کسی کو بہتر جان کر خود ہی جوائن کر لوں گا۔
خیر، اسی عرصہ کے دوران این ایس ایف، آئی ایم ٹی، یوتھ وزن، ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس الائنس اور انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ (جواد احمد) ان سب گروپوں سے مختلف اوقات میں جڑا رہا۔ ان گروپس میں موجود ہر انسان سے سے یہی کہتا کہ لیفٹ کے تمام گروپس کو یہ لڑائی چھوڑ کر ایک ہونے کی ضرورت ہے،کیونکہ ہماری آپسی لڑائی ہمارے مخالفین کو مزید مضبوط کر رہی ہے مگر ہم نظریاتی کام کی بجائے ذاتی جنگ و جدل میں مصروف ہیں جس سے لیفٹ کا کام آگے نہیں بڑھ پارہا۔ تمام گروپس میری اس بات سے متفق تھے مگر عملاً کوئی بھی اس مفاہمت کے لئے تیار نا تھا البتہ ہر کوئی اپنے آپ کو لیڈر اور عقلِ کل سمجھتا رہا اس لئے آج بھی بہت سے تنظیمیں نظریات کی بجائے شخصیات پر کھڑی ہیں۔
ڈگری بھی اختتام کے مراحل میں تھی اسی لئے مستقبل کی فکر بھی لاحق ہوگئی۔ لہذا ان حالات میں لیفٹ کی فرقہ واریت اور انکی آپسی گندی لڑائی سے تنگ آکر میں نے بائیں بازو کی سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور تقریباً دو سال نظریات دل میں دبائے غیر سیاسی زندگی گزارنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
اسی دوران پنجاب یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم ایس سی کی ڈگری کے آخری ایام میں کامریڈ عمار سے ملاقات ہوئی جن کی نظریاتی پختگی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ روزمرہ بنیادوں پر انکے سٹڈی سرکلز سنے، ان سے ملاقاتوں اور گفت و شنید کا سلسلہ بڑھ گیا۔ انہی کے توسط سے حیدر بٹ، مدبر، حیدر کلیم، محسن ابدالی، محبہ احمد، علی بہرام ، رضا گیلانی اور دیگر کامریڈز سے ملاقات ہوئی۔ کامریڈ زاہد ، حامد اور عروج اورنگزیب کو میں ڈی ایس اے کے ایام سے ہی جانتا تھا۔
پُرجوش نوجوانوں کے اس گروپ سے مجھے ایسے کوئی تاثرات نہ ملے جو میں ماضی کے لیفٹ کے گروپس میں دیکھ چکا تھا۔ یہ سب نوجوان کسی کی بھی برائی کئے بغیر اپنے کام میں مگن تھے۔ ان کا مثبت ، دوستانہ اور خوش آمدیدی رویہ مجھے خود بخود انکی طرف کھینچتا چلا گیا۔ یوں انکی بائیں بازو کی نظریاتی سوچ نے مجھے ان کے قریب تر کر دیا۔ ہم سب نے مل کر پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کو آگے بڑھایا ، مزدوروں کسانوں اور بائیں بازو کی دیگر تنظیموں کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے حقوقِ خلق موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ گویا ہم نے لیفٹ کو جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، بہت سے گروپس سے بات کی ، انکے ساتھ مل کر ہر سیاسی مسئلے پر آواز اٹھائی جس پر کامریڈ فاروق طارق، مرحوم کامریڈ لال خان اور اسلام آباد کے عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھیوں نے ہمارا مزاج سمجھتے ہوئے بھر پور ساتھ دیا۔ طلبہ یکجہتی مارچ کیلئے لاہور میں بائیں بازو کی تمام طلبہ تنظیموں کے الائنس سے وجود میں لائی گئی سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور تاریخی طلبہ یکجہتی مارچ لیفٹ کے اس نئے اتحاد کی عملی اور واضح مثال ہے۔
برکت مارکیٹ لاہور والا ہمارادفتر لیفٹ کے تمام گروپس کیلئے ہمہ وقت کھلا تھا جس میں بہت سے گروپس نے اپنی میٹنگز ، سٹڈی سرکلز اور دیگر ایونٹس منعقد کئے مگر ہم نے آج تک ان سے کسی قسم کی مانگ نہیں کی البتہ فنانشل کرائسز کے باعث جب ہمارا دفتر بند ہوگیا تو ہمیں میٹنگز اور سٹڈی سرکلز کرنے کیلئے بائیں بازو کے ایک سینئر کامریڈ نے اپنا دفتر استعمال کرنے کی اجازت دی مگر اس دفتر میں پہلی ہی میٹنگ سے قبل فون کر کے ایک میٹنگ کرنے کا 10 ہزار روپے کرایہ مانگ لیا گیا اور اب حالات یہ ہیں کہ اتنی بڑی تحریک چلانے کے باوجود بھی ہمارے پاس کوئی دفتر نہیں البتہ ہمارے ایک کامریڈ کا ذاتی دفتر ہم میٹنگز کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
میرے سمیت ہمارے بہت سے کامریڈز کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں۔ عارضی نوکریوں، پروجیکٹس ، جرنلزم، ٹیوشن اور پرائیویٹ ٹیچنگ جیسے شعبے سے منسلک ہو کر ہم نے سیاست کی جو کہ یقیناً ایک فل ٹائم جاب ہے۔ انتہائی کم وسائل میں ہم نے شدید محنت کی جو آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔کامریڈ عمار، کامریڈ ضیغم ، کامریڈ عروج اور بہت سے کامریڈز کو انکے نظریات کے باعث وقتاً فوقتاً نوکریوں سے نکالا جاتا رہا۔ اس کے باعث ہم سب کو خاندان والوں کی طرف سے بہت زیادہ پریشر کا سامنا کرنا پڑا یقیناً انہوں نے اتنا پڑھایا تو انکا ہم سے امیدیں لگانا بالکل جائز ہے۔ علاوہ ازیں دوستوں، عزیزواقارب اور دیگر تمام سرکلز سے روزانہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ سب لوگ پڑھنے والے لائق ہیں ، آپکو لکھنا ، بولنا آتا ہے تو یہ سب چھوڑ کر اپنے کیریئر پہ دھیان دیں آپکا بہت سکوپ ہے، ان تمام لوگوں کا اسرار رہا کہ لیفٹ ایک غیر عملی سیاست کا نام ہے۔ مگر ہم اسے عملی سیاسی نظام سمجھتے ہوئے اسکی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ سیاست نا ممکن کو ممکن بنانے کا ہنر ہے۔ شاید یہ نظریاتی کمٹمنٹ ہے کہ ہم سب انکی باتوں کو سنتے ضرور ہیں مگر ہمارے نظرئیے کی رو سے اجتماعی تسکین شاید انفرادی تسکین سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ان تمام پریشانیوں کے باوجود ہمارے حوصلے کبھی پست نہ ہوئے لہٰذا ہم اپنی بنیادی ضروریات پر ہی توقف کر کے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی زندگی کی مکمل آسائشوں سے آراستہ نہیں۔ ہم غریب اور متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں مگر ہماری سوچ انقلابی ہے جو کوئی بھی بڑی اور پر آسائش خواہش پالے بغیر بنیادی ضروریات پہ ہی اکتفا کر کے ایک سادہ اور سیاسی زندگی گزارنے کی خواہاں ہے۔
ان حالات میں جب ہمارے کچھ دوستوں نے اپنی معاشی کسم پرسی کے حالات میں سی ایس ایس کرنے کا فیصلہ کیا (جو یقیناً انکا انفرادی فیصلہ ہے) ۔ اپنے روزمرہ امور کو چلانے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمارے ساتھیوں عمار ، ٹیبی اور ضیغم سمیت چند لوگوں نے سی ایس ایس کی کلاسوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا تو وہی روائتی لیفٹ (جنہوں نے مشکل کی کسی گھڑی میں ہمارا ساتھ نا دیا) نے تنقید کی توپوں کا رخ پھر سے ہماری طرف کر لیا اور اب وہ ملاؤں کی طرح ہمیں نظریاتی کافر قرار دینے کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔
یہ وہی یوٹوپیا سوچ ہے جو اٹھارویں صدی کے خمار سے باہر نہیں نکل پا رہی، جس نے ملاؤں کی طرح جدیدیت سے کوئی سبق نا سیکھا ، جس نے کارل مارکس اور لینن جیسے جیّد فلاسفرز کے نظریات کو سمجھنے کی بجائے انہیں پوجنا شروع کر دیا جنکا برصغیر پاک و ہند کی سیاست یا سیاسی کلچر پر کوئی مارکسی تجزیہ نہیں، جو بغیر کسی حکمتِ عملی کے انقلاب کے خواب دیکھتے ہیں، جو خود سرمایہ داری کے آلہ کار ہیں یا اکائی کی صورت اسے منافع پہنچانے میں جُتے ہوئے ہیں۔ جو اس جدید دور کے سب سے بڑے سرمایہ کاروں کی بنائی فیس بک ، ٹویٹر، آئی فون اور سام سنگ پر ہمیں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھاشن دیتے ہیں۔ یقیناً سرمایہ داری کے پیدا کردہ استحصال کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا مگر سرمایہ داری کے خلاف کام کرنے کیلئے وہ کونسا خالص متبادل انقلابی ادارہ ہے جو ہمیں اور ہم سے منسلک نظریاتی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا جو ہماری روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکے اور جس کی بناء پر ہم اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھ سکیں؟ یہ سب لکھنے اور پوسٹ کرنے کیلئے بھی مجھے سرمایہ دارانہ موبائل کمپنی، اور سرمایہ دارانہ نیٹ ورک کے ایم بیز درکار تھے اور شاید آپ کو بھی پڑھنے کیلئے یہ سب درکار ہے تو کیا اسکے بغیر کوئی راستہ ممکن ہے؟
یقیناً ہم اس سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے استحصال کے خلاف عملاً اور بھر پور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مزدوروں ،کسانوں اور طالب علموں کے ساتھ مل کر ایک مزاحمتی سیاست کا نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ یہ ‘بائیں بازو کی جدوجہد کا نیا عہد’ ہے اور یہی ‘نیا بایاں بازو’ ہے۔ ہم ایسی سیاست کے قطعاً قائل نہیں کہ سماج میں انقلاب کی سعی کرنے والے کامریڈز کو دوسروں کا محتاج کر دیا جائے، ہمارے ساتھی بھوک سے مر جائیں اور روائیتی بائیں بازو کے ضعیف العمر انقلابیوں کی طرح بڑھاپے میں اس سیاست کو گالیاں دیں کہ اس نے ہماری جوانیاں تباہ کر ڈالیں کیونکہ ہمارے نظرئیے کی بنیاد مادہ ہے جو عصرِ نو کے تقاضوں کو نبھاتے ہوتے جدید متبادل سیاست پیش کرتا ہے۔ جس مزدور کو آپ اپنے حقوق کیلئے اٹھنے کا کہہ رہے ہیں انہیں بھی اپنی آواز بلند کرنے کیلئے پیٹ میں روٹی اور پانی درکار ہے اگر اسکے پاس یہ سب ہوگا تو ہی وہ میدان میں کھڑا ہوکر اس استحصالی نظام کے خلاف لڑ سکے گا۔ وگرنہ یہی سمجھا جائے کہ آپ چاہتے ہیں کہ مزدور ، کسان اور مزاحمتی سیاست کرنے والے تمام افراد بھوک سے مر جائیں مگر بھوکی مزاحمت کے سوا کچھ نا کریں۔ بالآخر اس پوری تحریر کے تناظر میں یہی عرض کرنا مقصود ہے کہ۔

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔۔!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *