• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایران میں سودی نظام کے خلاف مراجع عظام کا احتجاج۔۔حمزہ ابراہیم

ایران میں سودی نظام کے خلاف مراجع عظام کا احتجاج۔۔حمزہ ابراہیم

کسی بھی ریاست کے نظام میں اسکے معاشی نظام کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سودی نظام کو نہیں چھیڑا گیا، بلکہ شراب کی بوتل پر دودھ کا لیبل لگا دیا گیا ہے۔ جس طرح ایران کا تعلیم، صحت، شہرداری اور پارلیمنٹ کا نظام سراسر مغربی ہے، اسی طرح اسکا اقتصادی نظام بھی مغربی ہے۔ البتہ کبھی کبھار اقتدار کی ذمہ داریوں سے دور رہنے والے مراجع صاحبانِ اقتدار علماء سے التماس یا تنبیہہ کرتے رہتے ہیں۔ ذیل میں اس سلسلے میں اس سودی نظام کے خلاف قم کے مراجع کے بیانات کا ترجمہ بمع لنک حاضر ہے:

آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی

 اپریل 2018ء

”قرآن نے شیطان کو مستکبر کہا ہے، لیکن میرے حافظے کے مطابق قرآن میں اس کو محارب نہیں کہا گیا۔ سودی بنک کاری اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ آپ بے شک کسی سال کا نام سالِ اشتغال و تولید رکھتے پھریں، (ایران کے رہبر نے اس سے پچھلے سال کا نام سالِ اقتصاد مقاومتی: تولید و اشتغال رکھا تھا)، جب تک سرمایہ سودی ہو گا، اصلاح نہیں ہو گی“۔
آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی
”کئی بار کہا ہے کہ ہمارے بنک قرضے دے کر جرمانے کے نام سے جو رقم وصول کرتے ہیں، وہ سود ہے اور حرام ہے۔ لیکن حکمرانوں کو یا تو ہماری آواز سنائی نہیں دیتی، یا وہ سنتے تو ہیں مگر عمل نہیں کرتے“۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی
”بنکوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ قرضِ حسنہ پر چار فیصد کی مستقل شرح سود پر لوگوں سے اپنا معاوضہ وصول کریں، ہر سال شرحِ سود میں چار فیصد مزید شامل کرتے کرتے یہاں تک لے جاتے ہیں کہ پانچویں سال قرض کی باقی ماندہ رقم پر واجب الادا سود بیس فیصد تک جا پہنچتا ہے۔ قرضِ حسنہ کے نام پر کھلم کھلا سود خوری جاری ہے“۔
آیت اللہ العظمیٰ مظاہری
”افسوس ہے کہ سود لینا اور سود دینا ایک عادت بن چکی ہے۔ بعض لوگ شرعی بہانے لگا کر ایسے سود کھاتے ہیں کہ مثلاً چوہے کو پانی سے دھو کر حلال قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح رشوت لینا اور دینا بھی نظام میں سرایت کر چکا ہے۔ معمولاً کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ کوئی گرہ رشوت کے بغیر نہیں کھلتی، نہ وکوئی  فائل پہیے لگائے بغیر آگے جاتی ہے“۔
آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی
”لوگ بنک سے قرضہ لیتے ہیں اور بنک ان سے سود لیتے ہیں۔ اس سود کے ساتھ ساتھ قرضہ واپس کرنے میں تاخیر پر بنک لوگوں کو جرمانہ بھی کر دیتے ہیں۔ سب مراجع نے اس کو حرام کہا ہے۔ علماء کی رائے کے مطابق عمل کریں“۔
آیت اللہ العظمیٰ علوی گرگانی
”آج کل اقتصادی حالات برے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگ اپنے دینی فرائض بھی ادا نہیں کر پا رہے۔ ایسے موقع پر (بنکوں کو) عوام سے سود لینے میں جلدی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اسلامی نظام میں ایسے بنک چاہتے ہیں جو لوگوں کے خدمت گذار، مدد گار اور دست و بازو بنیں۔ برائے مہربانی اپنے سود کی شرح کو تھوڑا کم کیجیے تاکہ لوگوں پر دباؤ کم ہو۔ یا کم از کم حالات کے حساب سے سود لیا کریں، مثلاً جب معاشی سرگرمی تیز ہو تو سود لینے میں کوئی ہرج نہیں مگر جب معیشت کا پہیہ سست ہو جائے تو لوگوں پر رحم کیا کریں اور کم سود لیا کریں“۔
ایران کی مثال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلاسود معاشی نظام کا نعرہ صرف ایک سراب ہے، جس کا مقصد سادہ لوح اور سماجی علوم سے بے بہرہ لوگوں کو استعمال کر کے جتھے بنانا اور  اقتدار کا حصول ہے۔ جب علماء کو سچ مچ ملک چلانا پڑے تو ”مصلحتِ نظام“ اسی میں ہوتی ہے کہ سودی کاروبار جاری رکھا جائے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایرانی ولی فقیہ جدید دور میں رہنے کیلئے سود کا نظام جاری رکھ سکتے ہیں، تو ہمیں اپنے کثیر الثقافتی معاشرے کیلئے  سیکولر ازم کی جدوجہد کرنے میں کیا امر مانع ہے، جبکہ یہ  مفہوم دین میں بھی اصولِ عدل کے عنوان سے موجود ہے؟

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *