گناہ اور ثواب کا ’’فلسفہ‘‘۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

مریدکے سے ایک نوجوان حافظ عباس کہ مقفٰی و مسجع گفتگو کرنے کا عادی اور اِسی لکھنو ی طرز میں لکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے، حالانکہ اِس کی عمر ابھی سننے اور پڑھنے کی ہے، کئی دنوں سے اس موضوع پر گفتگو کرنے کی کوشش میں ہے۔ لکھتا ہے ‘ کیا ہم گناہ اور ثواب کی ماہیت پر گفتگو کر سکتے ہیں؟ مزید لکھتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں نیکی کا پہناوا پہنا جاتاہے اور بعض اوقات گناہ گار دکھائی دینے والا گناہ سے تائب ہوچکا ہوتاہے ، اس لئے ان منافقت زدہ رویوں پر بات کرنی چاہیے، مزید براں یہ کہ ہر شئے کی اصل ہوتی ہے، تو نیکی کی بھی ماہیت اور گناہ کی ہیئت پر بھی بات کرنا چاہ رہا ہوں۔

یہ نوجوان اور فلسفے کی طرف لپک رکھنے والے اِس کے دیگر ہمجولی، یہ بھول جاتے ہیں کہ گناہ اور ثواب فلسفے اور سائنس کا موضوع تو ہے ہی نہیں، یہ موضوع سرتاپا مذہبی نوعیت کا ہے۔ گناہ کا تعلق حکم عدولی اورثواب کاحکم کی بجا آوری سے ہے۔ حکم دینے والی اتھارٹی اگر زمینی حکومت ہے تو یہ حکم عدولی جرم کہلائے گی‘ گناہ نہیں۔ اگر حکم دینے والی ذات وہ ہے ٗجس سے زمین و آسمان کی یہ عظیم الشان سلطنت منسوب ہے‘ تو اُس کے احکام اُس کے رسولوں کے ذریعے اُس کی مخلوق تک پہنچتے ہیں، اور یہ مجموعہ قوانین و احکام بشمول اَوامر و نواہی do’s and don’ts مذہب کہلاتا ہے، ہمارے ہاں اسے دین کہتے ہیں۔ مذہب یا دین کے تصور کے ساتھ ہی ایک قادرِ مطلق ذات کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے۔ بس اسی خدائے واحد کی خوشنودی حاصل کرنے کا نام ثواب ہے، اور اُس کی بنائی ہوئی حدود کو پھلانگنے کا نام گناہ ہے۔ یہیں سے نیکی اور برائی کا تصور جنم لیتاہے ، اور خیر اور شر کا تصور بھی تشکیل پاتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اصطلاحات تو ایک نظام کی استعمال کریں اور ان کی تشریح کسی اور نظام میں کرنے کی کوشش کریں۔ کیمیکل کو کیمیسٹری کے قوانین ہی ڈیل کریں گے، فزکس کوبیالوجی کے نصاب میں نہیں پڑھا یاجا سکتا۔ سو، گناہ اور ثواب کی بنیادی ماہیت، گناہ اور ثواب کا تصور دینے والی ذات کی خوشنودی ہے۔ عبادت کی نیت بھی یہی کی جاتی ہے، یعنی عبادت کی نیت بھی حصولِ قربِ الٰہی سے عبارت ہے۔ خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش دراصل قرب حاصل کرنے کی تمنا ہوتی ہے۔ اگر ذاتِ الٰہی کا تصور اپنے تصورِ حیات سے نکال دیا جائے تو کیا گناہ اور کیا ثواب؟ کیا خیر اور کیا شر؟ سب کچھ فائدے اور نقصان کے نصاب میں دیکھا اور پرکھا جائے گا۔ نفع و نقصان کا عیار ہی ہر چیز کا معیار ٹھہرے گا۔ زندگی معیار سے نکل کر مقدار کی دنیا میں داخل ہو جائے گی ۔ حسن و قبح کا معیار مقدار کے باٹوں سے ماپا اور نکالا جائے گا۔ کسی معیارِ مطلق کی غیر موجودگی کا تصورانسان کے معیارِ اخلاق پر نظریۂ اضافت کا ایسا اطلاق کرتا ہے کہ انسانی زندگی اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راج کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔” عالم دوبارہ نیست” کے کلیے پر ہر انسان بابر کی طرح حکمران تو شاید نہ بن سکے لیکن عیش کوش ضرور ہو جاتا ہے۔

زمانہ طالب علمی میں ( آپس کی بات ہے‘ طالب علمی کا زمانہ کبھی ختم بھی ہوتا ہے کیا؟) راقم کی ایک تصنیف ’’پہلی کرن‘‘ کا ایک جملہ یادداشت کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، اس کتاب کو میں سند یافتہ کہتا ہوں کہ اس کے ایک ایک جملے پر مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی مہر تصدیق ثبت ہے۔ جملہ یوں تھا ’’کسی حکم کی حکمت جاننے کے بعد حکم ماننا دراصل ایک مشورہ ماننے کے مترادف ہے‘‘۔ مراد یہ کہ حکم ماننے کا مدعا اگرکسی فائدے کا حصول ہے ‘تو یہ دنیا داری ہے، دین کے پردے میں بھی اہتمام ِ دنیا داری ہے۔ نماز کے ورزشی فائدے گنوانے والوں کو نوید ہو کہ یوگا کے ورزشی فائدے شاید نماز سے بھی زیادہ ہیں۔ روزے کے طبی فوائد بتانے والے جانتے نہیں کہ سٹرس فروٹ فاسٹنگ کرنے والے بھی روزہ داروں ایسے جسمانی فایدے حاصل کر لیتے ہیں۔ حج کے معاشی فوائد کا حساب کتاب لگانے والے کنبھ کا میلہ بھول جاتے ہیں، کینز فیسٹول بھی شاید معاشی سرگرمی کا بہت بڑا “ہب” ہے۔ مدعا یہ کہ دینی حکم کا فائدہ صرف اتنا ہے کہ یہ بندے کو رب کے قریب کر دیتا ہے… اور یہ فائدہ اتنا بڑا ہے کہ باقی سب فواید اگر موجود ہوں تب بھی منزل کے مقابلے میں فقط گردِ راہ ہیں۔ اگر حکم کی تعمیل کے دوران میں اِس میں پوشیدہ کوئی حکمت اَز خود دل میں دَر میں آئے تو یہ انفرادی طور پرایک اضافی انعام ہے ٗ مجموعی طور پرتعمیل ِ حکم کی وجہ نہیں۔

دُعا کی طرح گناہ اور ثواب بھی ذات کا ایک ذات سے ذاتی تعلق کے ابواب میں سے ہیں۔ ہر وہ چیز جو محبوب ایسے رب کو‘ یا اپنے رب ایسے محبوب کی ناراضی کا باعث بنے ‘وہ گناہ ہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو اُسے راضی کرنے کا سبب بنے ‘ وہ ثواب بلکہ حسنِ ثواب کہلائے گا۔ اسی سبب سے روایتی اور عمومی اَوامر و نواہی سے ہٹ کر اپنے لیے کسی مخصوص اَمر کی تلاش بابا بلھے شاہؒ ایسے صوفیا کو یہاں تک لائی کہ
ع سِکھ چج کچھ یار مناون دا

اپنے دلبر کو خوش کرنے کیلئے ، اپنے یار کو منانے کیلئ، ٗکسی نے لنگر پکایا، کسی نے خلق کی خدمت اپنے ذمے لی، کسی نے بن باس لیا، کسی نے کوڑے کھائے، کوئی مظلوم کی خاطر شمشیر بکف ہوا، کوئی ظالم کے زندان کا اَسیر ہوا اور کوئی سرمدؒ و منصورؒ کی راہ پر چلتا ہوا واصل بحق ہوا۔ اِسی تناظر میں حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک شعر دامنِ توجہ کھینچتا ہے:
اپنے مالک سے تعلق کی نئی راہیں بھی ڈھونڈ
صرف سجدوں ہی سے روشن اپنی پیشانی نہ کر

فائدے اور نقصان کے فلسفے سے نکلنا چاہیے ، اِس سے دِل گھٹن میں آ جاتا ہے۔ دَم گُھٹنے سے پہلے دل گُھٹ کر رہ جائے تو زندگی ایک قیدِ تنہائی میں بدل جاتی ہے… پھر اِسے کسی چھوٹی جیل میں گزار لیا جائے یا کسی امریکن تھری سٹار جیل میں۔ فایدے اور نقصان کا نصاب صرف جسم کی دنیا کا نصاب ہے۔ سود وزیاں کا پیمانہ اگر دین میں دَر آئے تو یہاں بھی دنیا داری کی روش عام ہو جاتی ہے، بے رحمی کا چلن ہو جاتا ہے، لوگ عمل ِ خیر کے ذریعے روحِ دین تک پہنچنے کی بجائے اپنے ثوابوں کو گننے اور ان کو ’’گنا‘‘ میں بدلنے کے ’’گناہ‘‘ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ مرشدی حضرت ِ واصفؒ فرمایا کرتے کہ نیکی تو قبول ہو جانے کا نام ہے، وہ اگر قبول ہی نہ کرے تو جن اعمال کو آپ نیکی سمجھ کر کرتے جا رہے ہیں ‘ وہ معلوم نہیں کیا ہیں ۔ اِسی رَو میں آپؒ فرمایا کرتے’’ اللہ ہمیں اکارت ہو جانے والی عبادتوں سے بچائے‘‘ ۔روحِ دین سے لگّا نہ لگنے والی عبادتیں بشمول نمازیں سب اَکارت ہو جاتی ہے۔۔ اَز روئے قرآن ۔۔۔۔ روحِ دین ’’طعام المسکین‘‘ ہے ، احادیث میں فرمایا گیا کہ سب سے اچھا اسلام ہے ‘ سلام کرنا اور کھانا کھلانا۔ سلام کرنا دراصل سلامتی کا پیام بر بننا ہے۔ دین اپنے پڑوسی کے ساتھ اِحسان کی روش اختیار کرنے کا نام ہے، مخلوقِ خدا کیلئے بے ضرر اور پھر منفعت بخش ہونے کا نام ہے، منافقت سے بچنے کا نام ہے، سیدھی،صاف اور کھری بات کہنے کا طریق ہے۔ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ نہ ہوں‘ صاف سپاٹ الفاظ میں اُس کے اِسلام کی نفی کی گئی ہے۔ معلوم نہیں‘ یہ سبق ہم عام کیوں نہیں کرتے؟ دینیات میں اِخلاقیات کا سبق رائج کیوں نہیں کرتے؟ دین صرف مجموعۂ قوانین ہی نہیں‘ مجموعۂ اخلاق بھی ہے۔’’ویمنعون الماعون‘‘ کی آیت میں پوشیدہ ایک سبق ہے ٗجو بظاہر عام ہے لیکن بباطن بہت خاص … یہ زندگی میں ایک بھرپور رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہاں برباد ہونے والے نمازیوں کی ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مسکین کو کھانے کھلانے کی رغبت نہیں دلاتے اورباہم ایک دوسرے کو مانگے تانگے کی چیزیں عاریتاً بھی نہیں دیتے۔ ایک دوسرے کو عام روزمرہ کی چیزیں فراہم کرنا ٗ خواہ عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو ‘ دراصل آس پاس کے انسانوں کی زندگی آسان بنانے کی ایک آسان تدبیر ہے۔ گویا جو شخص دوسروں کی زندگی آسان نہیں کرتا ‘وہ خود مشکل میں پڑ جائے گا، اور اُس کی یہ مشکل عبادتوں کے حجم سے ٹلنے والی نہیں۔ آپؒ فرمایا کرتے، نماز قائم ہوتی ہے ‘ مسجد سے باہر آنے کے بعد ۔ جب مسجد کے اندر کی زندگی، مسجد کے باہر کی زندگی کے برابر ہو جائے تو سمجھو نماز قائم ہو گئی۔ یعنی نماز کے تقاضے پورے نہ ہوں ۔۔۔ تو نماز محض پڑھی جاتی ہے‘ قائم نہیں ہوتی، اور حکم نماز قائم کرنے کا ہے۔ فاتحہ پڑھنے اور فاتحہ پڑھ لینے میں فرق ہے۔ کیا خوبصورت جملہ یاد آیا‘ مرشد کا، ایک رعب دار کلاسیکی انگریزی میں فرمایا کرتے: پتہ  ہے دین کیا ہے؟ دین کا مطلب ہے:
O! brother! Thy need is greater than mine!
معلوم نہیں،گناہ اور ثواب کا فلسفہ کیا ہے؟ حافظ صاحب! اِس پر پھر کبھی بات کر لیں گے!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *