مذہب اور پُرتشدد سیاست کی شروعات۔۔صائمہ جعفری

ریاست پاکستان کے موجودہ ڈھانچے میں مذہبی جماعتوں کے افکار اور مذہبی سیاست کا بڑا عمل دخل ہے ،نائن الیون کے واقعے کے بعد مغربی دنیا میں اسلام، جہاد اور تشدد کے فلسفے اور تکفیری نظریات کو سمجھنےکے لئے تحقیق کا آغاز ہوا ، موجودہ دور میں مسلم ممالک کی بدحالی، سیاسی اور سماجی کشمکش اورکنفیوزن کو سمجھنے کے لئے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ازحد ضروری ہے ۔

زیر نظر تحریر میں ان چند اہم ترین مذہبی شخصیات کا ذکر ہے، جن کے فلسفے، فکر اور افکار نے مسلم دنیا کی مذہبی جماعتوں اور گروہوں کی فکری تربیت کی۔

مولا ابوالاعلی مودودی:
برصغیر خصوصاً پاکستان کی مذہبی جماعتوں جیسے کہ جماعت اسلامی کی فکر اور سیاست مولا مودودی کی فکر کے مرہون منت ہے، جماعت اسلامی کی تنظیم سازی مولانہ ہی کے نظریات کی روشنی میں کی گئی۔

مولانا مودودی

برصغیر میں مسلح جہاد کے فلسفے اور فکر کو مولانا مودودی نے عام کیا، آپ کی پہلی کتاب “الجہاد فی اسلام” تھی، جس میں آپ نے جہاد کی فضیلت کے ساتھ ساتھ جہاد کے اسرار و رموز کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، مثال کے طور پر جہاد کیسے، کیوں اور کس کے خلاف کیا جائے، کس عمر کے افراد کو جہاد میں قتل کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔

مولانا مودودی کے فلسفے نے برصغیر کے متوسط طبقے کو بے حد متاثر کیا، مولانا نے ابتداء میں نئے مدارس تعمیر کرنے کی بجائے پہلے سے موجود مدارس کے ذریعے اپنی سوچ اور فکر کو عام کیا، مولانا کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے مذہب اور سیاست کوایک دوسرے سے الگ رکھا۔

گو کہ تقسیم کے وقت مولانا نے پاکستان کی مخالفت کی تھی مگر پاکستان بننے کے بعد آپ نے یہاں ہجرت کی اور اپنے فلسفے کا پرچار کیا، پاکستان کی مخالفت کی وجہ بھی مولانا کا مسلم اُمہ میں ایمان تھا، مولانا کے مطابق جوگرافیائی سرحدیں مسلمانوں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ جذبہ ایمانی کی وجہ سے تمام مسلمان ایک امت کا حصہ ہیں۔

سید قطب:
موجودہ دور میں جہادی فلسفے اور بنیاد پرستی کی جڑیں ڈالنے والی شخصیت سید قطب کی ہے، آپ نے مولانا مودودی کی طرح مذہب اور سیاست کو الگ نہیں کیا بلکہ آپ نے مذہبی سیاست کی بنیاد رکھی، جسے آج مغربی دنیا “ملیٹنٹ آئیڈیالوجی” کے نام سے جانتی ہے، سید قطب کے فلسفہ مذہب سے مذہب اور سیاست میں شدت پسندی کے رجحانات کی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سید قطب کے فلسفے سے متاثر تھے، درحقیقت القائدہ کی نظریاتی بنیادیں سید قطب کی فکر پہ ہی کھڑی ہیں۔

سید قطب کا تعلق مصر سے تھا، آپ نے جدید سیکولر تعلیم حاصل کی، آپ مذہبی اسکالر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادیب اور بہترین مقرر بھی تھے، آپ نے امریکہ کے کولاراڈو اسٹیٹ کالج آف ایجوکیشن سے تعلیم میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

سید قطب

امریکی معاشرے کی آزادی کو سید قطب نے تہذیب سے دوری کانتیجہ قرار دیا اور یہاں سے آپ کی نظریاتی تبدیلی کا آغاز ہوا آپ نے امریکہ میں رہتے ہوئے خود کو دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ کرکے اپنی ذہنی اور مذہبی تربیت کی۔

مصر واپسی پر آپ نے اسلام کو ایک عالمی سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر کام شروع کیا، آپ نے مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار یہودیوں اور کرسچنز کو گردانا، آپ کے نزدیک قوانین فطرت اور جدید طرز زندگی میں ٹکراؤ ہے، جس کی وجہ سے مسلمان پستی کا شکار ہیں۔

سید قطب 1953 میں اخوان المسلمون میں شامل ہوئے، ریاستی اداروں کی طرف سے اس جماعت پر حکومت کے خلاف سازشیں کرنے کے جرم میں پابندی عائد کردی گئی، پابندی کے باوجود اخوان کی سرگرمیوں کے نتجے میں سید قطب کو دس سال کی سزا ہوئی، عدالتی حکم کے تحت آپکو 1964 میں رہا کردیا گیا، مگر پھر 1966 میں آپکو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا، 1966 میں سید قطب کو مصر کے صدر جمال ناصر کے قتل کی سازش کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔

یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ القائدہ اور اسکے دہشتگردوں کا ذہن سمجھنے کے لئے سید قطب کے فلسفے اور فکر کو سمجھنا ضروری ہے (القائدہ کی نظریاتی بنیادوں پہ ایک الگ مضمون میں بحث ہوگی)۔

حسن البنان:
بنان 1906 میں مصر میں پیدا ہوئے، آپ قاہرہ میں بطور اسکول ٹیچر خدمات انجام دیتے تھے، آپ مذہبی لٹریچر پڑھتے تھے، جوکہ آپ کی فکری تبدیلی کی وجہ بنا، قاہرہ کے مخلتف مقامات، چائے خانوں اور کیفیز میں آپ نے دینی موضوعات پر 1500 تقریریں کیں، آپ کا خاصہ جنت اور دوزخ کے تصورات اور انکا فلسفہ تھا۔

1928 میں آپ نے ااخوان المسلمون کی بنیاد رکھی ، اس تنظیم کا مقصد مسلمانوں کی فکری اور روحانی تربیت کرنا، ان میں سیاسی شعور اجاگر کرنا اور سماجی سرگرمیوں کو بہتر بنانا شامل تھا تاکہ صحیح معنوں میں ایک مسلم معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

آپکےمقاصد میں سرفہرست ایک عالمی اسلامی مملکت کا قیام تھا، بنان کے خیالات کی مقبولیت عوام میں اس قدر تھی کہ 1940 تک اس جماعت کی 2000 سے زائد شاخیں مصر میں قائم ہوچکی تھیں، جس کے بعد شام اور یمن میں بھی اس جماعت کو مقبولیت حاصل ہوئی۔

مسلم دنیا میں پُرتشدد رجحانات رائج اور متعارف کرانے والی شخصیت بنان تھے، آپ کےمطابق موت ایک آرٹ ہے، یہ سب سے منفرد فن ہے، خاص کرکے تب، جب اسے ایک ماہر کھلاڑی کھیلے۔

1949 میں حکومتی ایجنٹس کے ہاتھوں آپکا قتل ہوا، بنان اور سید قطب کے نظریات نے القائدہ کو نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔۔

نوٹ: اگلے آرٹیکل میں اسامہ بن لادن اور القائدہ کو زیر بحث لایا جائے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مذہب اور پُرتشدد سیاست کی شروعات۔۔صائمہ جعفری

  1. مسلمانوں میں فلسفہ کو سب سے پہلے امام غزالی نے رد کیا اور مذہب کو حتمی سچ تسلیم کیا اور باقی علوم کو رد کیا. ان کے بعد ابن تیمیہ آئے اور ان کے نقطہ نظر انتہاہ پسندانہ تھا اور سید قطب اور اسطرح یہ سلسلہ شروع ہو گیا ایک اچھی کاوش پڑھ کر خوشی ہوئی پڑھنے کا مزا تب بڑھ جاتاہے جب لکھنے والا /والی مکمل کنسیپچول کلیرٹی رکھتا /رکھتی ہو تاریخ سے واقف ہو ں. انتظار رہے گا اگلی اقساط کا.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *