عورت۔۔رعنا اختر

مرد کی ٹیرھی پسلی سے پیدا ہونے والی،غیرت کے  نام پہ قتل ہونے والی ،زمانہ جاہلیت میں زندہ دفنائی  جانے والی، نئے دور میں  زندہ درگور ہونے والی ، “عورت”۔

عورت پہ قلم اٹھانے والے مکمل عورت کو بیان کرنے سے قاصر ہی رہے ۔عورت کو کوئی نہ سمجھ سکا ۔مرد یہی کہتا ہے عورت کی عقل اس کے گھٹنوں میں ہوتی ہے ،کبھی کوئی  اس مرد سے سوال کرے تیرے گھر کو سنبھالنے والی کون ہے ۔؟”عورت ”
تجھے پیدا کرنے والی کون ہے “عورت”

اللہ نے جب اپنی محبت کو بیاں کرنا چاہا تو کہہ دیا کہ میں اپنے بندے کو “ستر ماؤں” سے زیادہ محبت کرتا ہوں  ۔اللہ نے اپنی محبت کو عورت (ماں ) کے روپ میں دکھایا ۔اللہ پاک کی ذات نے عورت کو کیا رتبہ دے دیا اس کے   ذکر کو قرآن میں لے آیا ۔

اگر وہ ماں ہے تو قدموں تلے جنت رکھ دی ۔اگر بیٹی ہے تو رحمت قرار دے دیا ۔عورت کی اچھی پرورش کرنے والے باپ،بھائی پہ جنت واجب کر دی ۔مرد کے لیے عورت میں سکون رکھ دیا ۔

وہ عورت ہی ہے جو اتنا ظرف رکھتی ہے کہ اس کی اولاد کے سامنے اسے  ذلیل کیا جاتا ہے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے وہ تو وہ چپ چاپ سہن کر جاتی ہے ۔

وہ عورت ہی ہے  کہ مرد تین لفظ اس کے  منہ پہ مار کر  ساری عمر کے لیے اسے داغدار کرجاتا ہے۔
وہ عورت ہی ہے جسے ذرا سی غلطی پہ اس کے  گھر کے  مرد  غیرت کے نام پہ قتل کر دیتے ہیں یا پھر زندہ لاش بنا دیتے ہیں ۔

“عورت” سب سہہ    جاتی ہے ۔

ایک مرد اپنی سگی اولاد کو سنبھالنے سے اکتا جاتا ہے اور کہتا  ہے اسے باہر لے جاؤں میری نیند میں خلل پڑ رہا ہے ۔ پر ایک عورت نہ اپنی نیند کی پرواہ کرتی ہے نہ اپنی صحت ، سکون و چین کی ۔بچے کی پیدائش کے وقت  زندگی اور موت کی کشمش سے گزرنے والی عورت ، جسے یہ تک پتا نہیں ہوتا کہ وہ جیے گی   یا مرے  گی، شاید ہی کوئی مرد اس بات کا اندازہ لگا سکے ۔

کبھی کبھی مجھے عورت پہ فخر محسوس ہوتا ہے ۔
وہ مرد پہ مردانگی نہیں دکھاتی وہ بات بات پہ مرد پہ تھپڑوں کی بارش نہیں کرتی ۔
وہ بھرے بازار میں کھڑی ،گزرتے ہوئے مرد پہ آوازیں نہیں کستی ۔
وہ بیچ چوراہے پہ مرد کو گالیاں نہیں دیتی ۔
وہ کسی مرد کو غیرت کے نام پہ قتل نہیں کرتی ۔
وہ بچوں کے  سامنے مرد کو گالی نہیں دیتی نہ اسے ذلیل و رسوا کرتی   ۔

گھر میں سب سے پہلا نام ماں ، یا بڑی بہن کا لیا جاتا ہے اور یہ دونوں عورت ذات ہے ۔
ہر چیز کو سلیقہ شعاری سے اور گھر کو سنبھالنے والی ہماری مائیں بہنیں عورتیں ہیں ۔

ہمارے گھر  عورت کے وجود  سے آباد ہیں ،  ہمارے گھروں کو بسانے والی عورت ہے “

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *