• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان میں نظام تعلیم کی تاریخ اور مستقبل۔۔فیصل ولی خان

پاکستان میں نظام تعلیم کی تاریخ اور مستقبل۔۔فیصل ولی خان

سنسکرت میں ‘گُرو’ کا مطلب ہوتا ہے استاد اور ‘کولا’ کو کنبہ یا گھر کہا جاتا ہے۔ گروکولہ (گروکولم بھی کہتے ہیں) قدیم ہندوستان میں سب سے پہلے تعلیمی نظام کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جہاں شیشیا (طلبا) ایک ہی گھر میں گرو کے قریب یا اس کے ساتھ رہتے تھے۔ گرو اپنے شیشیا کو زندگی کے بنیادی تصور (مابعدالطبیعات) ، مذہب اور معاشرے (فلسفہ) کی تعلیم دیتا تھا۔ شیشیا کی شخصیت کے مطابق گُرو  ان کو زندگی میں ایک خاص پیشہ چُننے میں رہنمائی کرتے تھے۔ مغل شہنشاہ اکبر(۱۵۴۵۔۔۱۶۰۵) نے زیادہ منظم بنیادوں پر تعلیم پر توجہ دی اُس نے تمام مضامین کے ساتھ یکساں سلوک کو فروغ دیا اور اپنی پوری سلطنت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے لئے بھی بڑی تعداد میں درسگاہیں قائم کیں۔ لیکن اکبراعظم کے  پوتے اورنگزیب(۱۶۱۸۔۔۱۷۰۷) نے اقلیتوں کے حوالے سے تعلیمی پالیسی میں تبدیلی کی ،نہ صرف اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا حکم دیا بلکہ ایک خاص مذہبی جنونیت کے ساتھ صرف مسلم تعلیم کی حمایت کی۔ مختصر یہ کہ انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کی مذہبی درسگاہوں نے ہی برصغیر پاک و ہند میں ایک بنیادی تعلیمی نظام کے طور پر خدمات سَرانجام دیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قدیم ہندوستانی فلسفہِ تعلیم روحانی اقدار کی جستجو پر مبنی تھا جو زندگی، فکر ، انسان کی روحانیت اور عقائد کی ہم آہنگی پر زور دیتا ہے۔

لارڈ تھامس بیبنگٹن میکاولے نے برصغیر پاک و ہند میں جدید اسکول سسٹم متعارف کرایا تھا۔ 1830 کی دہائی میں ، مکاولے “مفید تعلیم” کے فلسفہ کے ساتھ ثانوی نظامِ تعلیم میں اصلاحات کے لئے کام کر رہے تھے لیکن فارسی ، سنسکرت یا عربی زبان میں ایسی تعلیم دینے کی روایت نہیں تھی ، لہٰذا انہوں نے انگریزی زبان کو متعارف کرایا۔ نصاب ‘جدید’ مضامین جیسے سائنس اور ریاضی تک ہی محدود تھا اور اس سے پہلے پڑھائے جانے والے مضامین مثلاً مابعدالطبیعات اور فلسفہ کو غیر ضروری سمجھا جانے لگا۔چونکہ تعلیم صرف ‘کلاس روم’ تک ہی محدود تھی لہذا استاد اور طالب علم کے مابین قریبی تعلق بھی ناپید ہو گیا۔’جدید’تعلیم کی یہ نئی جہت مغربی معاشروں کی طرح کسی فرد کی اہمیت صرف اِسکی افادیت کے مطابق پرکھے جانے پر زور دیتی تھی۔

قیام پاکستان کے تین ماہ بعد ، نومبر 1947 میں آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ فضل الرحمن (اس وقت کے وزیر تعلیم) نے “روحانی ، معاشرتی اور پیشہ ورانہ” کی بنیاد پر سہ رخی تعلیمی اصلاحات کی تجویز پیش کی ۔ 1959 میں ، قومی کمیشن برائے تعلیم قائم کیا گیا ، اور ایک تعلیمی ایکٹ منظور ہوا۔ اس سے دسویں جماعت تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دی جاسکتی تھی اور سفارشات میں ‘کردار سازی’ کا ایک اہم مقصد بھی شامل تھا۔ 1970 میں ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ‘نظریاتی رجحان’ پربھی زور دینے کے ساتھ نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرائی تھی۔ 1972 میں بھٹو نے قومی تعلیمی پالیسی کو چار مقاصد “نظریہ پاکستان ، عالمی تعلیم ، تعلیم میں مساوات اور شخصیت کی نشوونما” کے ساتھ پیش کیا۔ تعلیم میں مساوات پیدا کرنے کے لئے ، نجی اور سرکاری اسکولوں کو مفت اور یکساں تعلیم مہیا کرنے کی ہدایات کی گئی تھی۔ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتاہوں کہ اس پالیسی کے مقاصد بہت بہترین اور واضح تھے۔ لیکن ہم تمام اہداف کی تکمیل کے لئے مطلوبہ انفراسٹرکچر نہیں بنا سکے۔1979 میں “اسلام سے وفاداری کو فروغ دینے ، امت کے تصور کو تخلیق کرنے ، اور سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ” پر غور کرتے ہوئے نیا نظامِ تعلیم تیار کیا گیا تھا۔ اس پالیسی پر غور کرتے ہوئے مذکورہ مقاصد کے حصول کے لئے نصاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ حکومت نے متعدد نئے مدرسوں (خصوصی اسلامی اسکول) کے قیام کی اجازت دی اور نجی شعبے کو بھی انگریزی میڈیم اور نصاب میں تبدیلیوں کو اپنانے کی اجازت دی گئی۔ براہِ کرم قدیم ہندوستانی تعلیم کے فلسفہ کے بارے میں میرے پہلے پیراگراف پر ایک نظر ڈالیں اور آپ کو کچھ دلچسپ مشابہت ملے گی۔ 1992 میں قومی تعلیم کی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بنیادی مقاصد “تعلیم کے ذریعے اسلامی اقدار کے فروغ اور خواتین کی تعلیم میں بہتری” تھے۔ یہ1988 کا وہی دور تھا جب برطانیہ نے اپنے جی سی ایس ای (ثانوی تعلیم کا عمومی سرٹیفکیٹ) کا اعلان کیا اور مجموعی طور پر اپنے نصاب اور تعین(اسیسمنٹ) کے عمل کو جدیدسطح پر اُستوار (اپ ڈیٹ) کر لیا۔ 1998 میں پاکستان کی قومی تعلیمی پالیسی تیار اور پیش کی گئی۔ اس بار 1998-2010 تک اہداف کے حصول کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا تھا۔ اس کی تفصیل میں جانے کی بجائے ، صرف ہماری تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد چیک کریں: “تعلیم و تربیت سے پاکستان کے شہریوں کو قرآن و سنت میں دی گئی اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزارنے اور تعلیم دینے کے قابل بنانا چاہئے” صرف اعلی تعلیم کے اہداف حاصل کیے گئے تھے ، اور وہ بھی ڈاکٹر عطا الرحمن کی انتھک محنت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاہم ، یونیورسل پرائمری اور سیکنڈری تعلیم جو اس پالیسی کا حصہ تھا کبھی نافذ نہیں کیا گیا اور ان اہداف کے حصول کے لئے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔موجودہ تعلیمی حکمتِ عملی کا اعلان 2009 میں کیا گیا تھا۔ موجودہ حکمتِ عملی پر بات کرنے سے پہلے میں آپ کو کچھ کامیاب تعلیمی نظاموں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔

1988میں برطانیہ نے اپنے ثانوی نظام تعلیم میں بڑی تبدیلی کی اور جی سی ایس ای (جنرل سرٹیفکیٹ سیکنڈری ایجوکیشن) کو خاص طور پر ان طلباء کے لئے متعارف کرایا گیا جو یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ تاہم اسکاٹ لینڈ نے اس نظام کو نہیں اپنایا اوروہ اپنا اسکاٹش کوانٹیفیکیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ جی سی ایس ای کو ثانوی تعلیم کے سرٹیفکیٹ کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ برطانیہ میں اس امتحان کے انعقاد کے لئے متعدد بورڈز ہیں۔ پاکستان میں ہم بنیادی طور پر کیمبرج انٹرنیشنل جی سی ایس ای پروگرام کی پیروی کرتے ہیں۔ جی سی ایس ای اور آئی جی سی ایس ای کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ بعد از ذکر میں ‘لیب ورک’ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیمبرج آئی جی سی ایس ای   ایک بین الاقوامی نصاب ہے۔ جس میں درس و تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے اور اسکا معیار ایک  مضبوط ‘نظامِ تعین’(اسیسمنٹ سسٹم)کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ ان کےنظامِ تعین میں تمام تر ترجیح  مضمون کے علم کو گہرائی سے سمجھنے، تصوراتی فہم اور اعلٰی فکری مہارت کو جانچنے کے لئے دی گئی ہے۔ آسان الفاظ میں کیمبرج کی تعلیم  طلباء کو “باخبر تجسس” اور سیکھنے کا جنون پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔  اس پورے پروگرام کے دوران ، طلبا کو چیلنج کیا جاتا ہے کہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں۔ انٹرنیشنل بکلوریٹ (IB) پروگرام دوسرے نصاب سے مختلف ہیں۔ یہ پروگرام ہر عمر کے طلبہ کو تنقیدی سوچ پیدا کرنے اور مفروضوں کو چیلنج کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ پروگرام سرکاری اور قومی نظاموں سے آزاد ہوتا ہے اور مُسلسل معیاری تحقیق کو فروغ دیتا ہے ۔اسی طرح طلبہ کو مقامی اور عالمی دونوں سیاق و سباق پر غور کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعہ طلباء کو ایک دوسرے سے مسابقت کرنے سے روکا جاتا ہے اور ہر طالب علم کو دوسرے سے مختلف سمجھتے ہوئے انکی انفرادی صلاحیت کو نکھارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیومن ڈویلپمنٹ کے تیار کردہ تعلیمی انڈیکس کے مطابق ، فن لینڈ کے تعلیمی معیار کو دنیا میں ایک اعلی مقام حاصل ہے۔ اس نظام تعلیم کا فلسفہ ہر بچے کی انفرادی صلاحیت کو نکھارنے پر مبنی ہے۔ اس نظام تعلیم نے بچپن سے ہی  بچوں میں ایک دوسرے کا احترام پیدا کرنے اور ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں ترقی کا موقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ ان کے پورے پروگرام میں ، بچوں کو معاشرتی اور ‘انٹرایکٹو’ صلاحیتوں کی نشوونما کرنے ، دوسروں کی ضروریات پر توجہ دینے ، معاشرے کی تعمیر اور دیگر ثقافتوں اور مختلف ماحول کے بارے میں ایک مثبت روش اپنانے کے لئے رہنمائی دی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ جدید تعلیم کا نظام اپنے جوانوں کو فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کے اہل ہونے اور دوسروں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے معاشرے کا اہم رکن بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

میرے خیال میں پاکستان میں ہم آج بھی برطانوی فلسفہ تعلیم یعنی “مفید تعلیم” ہی رائج ہے۔ حالانکہ 1979 میں ہم نے “امت کا حصہ بننے اور ایک اچھے مسلمان بننے” کے تصورات متعارف کرائے تھے۔ موجودہ تعلیمی پالیسی کا اعلان 2009 (NEP 2009)میں کیا گیا تھا۔ اس تعلیمی پالیسی میں تمام تر توجہ “عالمی تعلیم ، معیاری تعلیم ، خواتین کی تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی” پر مرکوز کی گئی۔ وژن میں کہا گیا ہے کہ: “ہمارے نظام تعلیم کو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ انفرادی صلاحیتوں کا ادراک کرسکیں اور معاشرے اور قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ، پاکستانی قومیت کا احساس پیدا کریں ، رواداری کے تصورات ، معاشرتی انصاف ، جمہوریت ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں شامل بنیادی نظریہ پر مبنی ان کی علاقائی اور مقامی ثقافت اور تاریخ کو جانیں۔” یہ سب باتیں تو بالکل ٹھیک ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے تعلیمی نظام کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ میرے نزدیک ان مسائل کا حل انتظامی اُمور کو بہتر کرنے میں ہے۔
متوازی اسکول سسٹم: ان پالیسی دستاویزات میں صحیح طور پر منتخب کردہ تمام الفاظ کے باوجود آج ہمارے ملک میں کم سے کم چار متوازی ‘ثانوی تعلیمی نظام’ موجود ہیں۔ میٹرک (گورنمنٹ + نجی شعبہ) ، او لیول۔ آئی جی سی ایس ای (صرف نجی شعبہ) ، آئی بی ڈپلوما (نیا ابھرتا ہوا نظام صرف نجی شعبہ) ، اور میٹرک (مدرسہ) کے مساوی اسلامی تعلیم۔کم سے کم  ان تمام ممالک جہاں میرا جانا یا رہنا ہوا ہے وہاں سرکاری اور نجی اسکول موجود ہیں۔ میری رائے میں پاکستان میں نجی اسکولوں کی موجودگی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ان تمام (نجی شعبے) اسکولوں اور مدرسوں کو “کم سے کم” حکومت کی پیروی کرنا ہوگی۔ NEP 2009 کا نصاب اور مجموعی فلسفہ کی وضاحت ضروری ہونی چاہئے۔ ہم مدرسوں سے حکومت کی پیروی کرنے کا مطالبہ نہیں کرسکتے ہیں جبکہ ہمارا نجی شعبہ یورپی تعلیمی نظریات کو استعمال کررہا ہو۔ اس سے معاشرے میں تنازعات ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔ طلبہ کے اندراج میں اضافہ:پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گذشتہ دہائی میں ہم ۱۸۰ ملین سے بڑھ کر۲۲۰ ملین ہوگئےہیں۔ لیکن ہمارے پرائمری سرکاری اسکولوں میں اضافہ آبادی کے تناسب سے نہیں ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پورے پاکستان میں ۴۰٪ کے قریب طلباء نجی اسکولوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے لئے بہت سارے نئے اسکولوں کا قیام ایک مشکل کام ہے اور پھر وہاں معیار کو برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ ایک بہتر نقطہ نظر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ متعارف کروانا ہو گا اور مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سندھ پہلے ہی اس پر کافی کام کر رہا ہے۔ باقی صوبے بھی اس کی تائید کرسکتے ہیں۔
جدید نصاب:اٹھارہویں ترمیم کے بعد نصاب اور نصابی کتب کی ترقی کی ذمہ داری صوبوں کو دے دی گئی۔ تاہم ، NEP2009 کے ساتھ مطابقت رکھنے کے لئے درسی کتب کے مخطوطات پر نظرثانی اور منظوری کے لئے فیڈرل سطح کے نصاب ونگ کا ہونا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر نصاب کی نظرثانی کے معاملے میں ہم نے ترقی کی ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے نصاب کو۲۰۱۶ کے دوران جدید بنایا گیا تھا  اور کے پی کے میں ۲۰۱۷ کے دوران! لیکن ابھی بھی مزید بہتری لانے کی گنجائش باقی ہے۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ ہمارا نصاب ریاضی اور سائنس کے استعمال کو عملی زندگی سے نہیں جوڑ سکتا۔ اس کے علاوہ صوبائی وزارتِ تعلیم کو بھی عربی یا فارسی پر توجہ دینے کی بجائے مقامی زبان (پنجابی ، سندھی ، پشتو ، وغیرہ) کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔”اسیسمنٹ سسٹم”یہ وہ  ایک شعبہ  ہے جس میں بڑی اصلاحات یا اقدامات کی ضرورت ہے۔ میری رائے میں ، میٹرک (سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ ، ایس ایس سی) اور او لیول (انٹرنیشنل جنرل سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن ، آئی جی سی ایس ای) کے مابین پاکستان میں سب سے بڑا فرق ابھی بھی ‘اسیسمنٹ سسٹم’ ہے جو کسی بھی مضمون کے علم کی جانچ پڑتال کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کیا ہیں اور انکے حل کے لئے کیا اقدامات چاہییں۔اس وقت ہمارے پاس مجموعی طور پر ۲۸ حکومتی انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن بورڈز (BISE) اور ایک نجی بورڈ آغا خان بورڈ ہے۔ بدقسمتی سے ، اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی بورڈ سے اپنا انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے ، تو پھر بھی آپ پاکستان کی بیشتر یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں لے سکتے ہیں۔ کیوں کہ تمام  نامور پاکستانی یونیورسٹیاں چاہیں گی کہ طلباء ایک اضافی امتحان دیں (جسے NAT ، قومی استقامت ٹیسٹ کہا جاتا ہے) اس سے کم ازکم آپ کو ہماری اپنی سند کی اہمیت کی اندازہ ہو جانا چاہئیے ۔ ۲۰۰۳ میں ، عالمی بینک اور محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) نے قومی تعلیم تشخیصی نظام (NEAS) کے قیام کے لئے ایک منصوبے کی مالی اعانت فراہم کی۔ اس پروگرام کا اصل مقصد ملک میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی کارکردگی کی نگرانی کے لئے ایک تشخیصی نظام کا قیام تھا۔ یہ ایک پانچ سالہ پروگرام تھا اور بعد میں ، NEAS اور اس کی صوبائی برانچیں وفاقی وزارت تعلیم کا حصہ بن گئیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد ، یہ محکمہ اب بھی موجود ہے لیکن وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کررہا ہے۔ میری رائے میں ، حکومت اس اہم وسیلے کو اپنی صوبائی شاخوں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ تمام BISE کو اس محکمہ کو رپورٹ کرنا چاہئے اور ملک بھر میں واحد اسیسمنٹ نظام قائم کیا جانا چاہئے۔ اس سے خود بخود تمام بورڈز اور صوبوں میں یکسانیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ، BISE سرٹیفیکیشن کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ مزید برآں ، نیشنل ٹیسٹنگ سیسٹم (NTS) کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہئے اور ہمارے اسیسمنٹ نظام کو جدید بنانے (کمپیوٹرائزڈ کرنے) کے لئے مطلوبہ مدد حاصل کرنا چاہئے۔ NTS کے پاس عمومی اور خصوصی نیٹ کو چلانے کے لئے مطلوبہ وسائل کا ۱۵ سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ اساتذہ کی تربیت:پچھلے کچھ سالوں میں اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کے عمل میں پہلے سے بہتری آئی ہے۔ ابھی ہمارے پاس اساتذہ کے تدریسی پروگرام کے انعقاد کے لئے کافی وسائل موجود ہیں۔ لیکن میری رائے میں اساتذہ کے تربیتی پروگرام کی توجہ صرف مضامین کی تربیت پر ہی نہیں ہونی چاہئے بلکہ انہیں طریقہ کار کے بارے میں بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی تعلیم سے نتائج کی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر ہم ابھی بھی اساتذہ کی کارکردگی کی جانچ کے مناسب عمل سے محروم ہیں۔
تمام نجی اسکولوں اور مدرسوں کےیکساں معیار کی ضمانت:پہلا مرحلہ یہ ہے کہ تمام نجی اسکولوں اور مدرسوں کا ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، پنجاب نے نجی اسکولوں کے لئے یہ کام کیا ہے لیکن ابھی تک مدرسوں کا ڈیٹا شامل نہیں کیا جاسکاہے۔ میری رائے میں ، صوبائی اداروں (جیسے پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کو زیادہ موثر اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اس طرح سے  پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پورے صوبہ میں معیار کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے۔ معیار کو متعین کرنے کے اشاریے نجی شعبوں کے ساتھ مل کے طے کیے جانے چاہیئں۔ اور اس میں درج ذیل نکات شامل ہوسکتے ہیں: ہر جماعت کے اساتذہ کے لئے کم سے کم تعلیم کا معیار ، اساتذہ اور عملے کی کم سے کم تنخواہ کے ڈھانچے ، سہولیات کی کم سے کم سطح ، حکومت کا شائع کیا ہوا نصاب کا عمل ، عملہ برقرار رکھنے کے اعداد و شمار وغیرہ. اس وقت مجھے ایسا کوئی سرکاری ادارہ نہیں ملا جو مذکورہ تمام معیارات پر غور کرے۔اب جبکہ حکومت تعلیم کےشعبے کی بجائے ایک نئی پالیسی بنانے کے عمل یا اقدامات کی طرف توجہ دے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *