برداشت!امن کے لئے لازم۔۔۔سحرش کنول

معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے۔ یہی گمبھیر صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے ،جہاں عدم برداشت کا رجحان اس سُرعت سے فروغ پارہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔اگر یہ حالات بروقت نہ روکے گئے اور اگر ہم اپنے رویوں پہ نظر ثانی کرنے کے بجائے غفلت کی نیند سوتے رہیں تو اس کے دردناک نتائج معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں، وقت کا تقاضا ہے کی ہم بدلتے وقت کے ساتھ اپنے اندر صبر برداشت عدل و انصاف اور راواداری جیسی خصوصیات پیدا کریں ۔ اپنے رویوں پہ، اپنی تربیت، معاشی ذمہ داری کا احساس دوسروں کے عزت نفس کا خیال رکھنا۔یہی ساری چیزیں انسان کی شخصیت کا عکس ہوتی ہیں جو اس کے کردار میں نمایاں نظر آتے ہیں میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے بلکہ چند ایسے عناصر پہ نظر ثانی کرانا ہے جن کو ہم بھول چکے ہیں جس کے نتائج خود ہم سہہ رہے مگر پھر بھی ہم سمجھ نہیں پا رہے یا یہ کی ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ میرا مراد وه عناصر ہیں جن کا ہونا ہمارے معاشرے کی بقا کے لیے، ترقی کے لیے، انتہائی ضروری ہیں جس میں سب سے اول برداشت کا ہونا ہے آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ صبر اور برداشت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بھی سنا ہوگا دوا وہی اثر کرتی ہے جو کڑوی ہوتی ہے اور جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ ظالم جتنا ظلم کرے مظلوم کو اس کا حق ملتا ہی ہے شرط یہ کی وه حق پر ہو۔ کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کی ہم کتنے سچے ہیں کیوں کی اللّه تعالیٰ خوب جانتا ہے کون کیا ہے ۔ اور فتح ہمیشہ اسکی ہوتی ہے جو حق اور سچ پہ قائم رہے ناحق رستے پر وقتی کامیابی مل سکتی ہے مگر مستقل کامیابی حق کی ہی ہوتی ہے ۔ اللّه تعالیٰ فرماتے ہے حق پہ ڈٹے رہو اور صبر کا دامن نہیں چھوڑو ۔لڑنا جھگڑنا کسی مسلے کا حل تو نہیں بلکہ اس سے معاملات اور خراب ہوجاتے ہیں جبکہ برداشت کرنے اور جزبات کو ایک طرف رکھ کر عقل سے کام لینے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ بہادر وہ نہیں جو فورا رد عمل کر کے پھر پچھتائے بلکی بہادر وہ ہوتا جو برداشت کرے اور صبر کا دامن تھامے اور مستقل حل تلاش کرے ۔سمجھے غور و فکر کرے اپنے مفادات کےلیے نہیں بلکی انسانیت کی فلاح کے لیے کوشاں ہو اور یقیناً وہی کامیاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دنیا میں ایک انسان کسی دوسرے انسان جیسا نہیں ہوتا فرق سوچ ،عمل، غور و فکر، تعلیم و تربیت ، تجربہ اور ماحول کا ہوتا ہے اچھائی اور برائی ہر انسان میں موجود ہوتی ہے لیکن جو انسان خود کو جان لیتا ہے خود کو سمجھتا ہے وه دوسروں پر بجا تنقید نہیں کرتا ہاں مگر اصلاح ضرور کرتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کی جن لوگوں کو تعلیم اور تربیت کی حقیقی سمجھ ہوتی ہے اور جو خود کو سمجھ چکے ہوتے ہیں جن کو معاشرے کا پتا ہوتا ہے وہ نہایت اچھے صاف دل بھلا چاہنے والے اور حلیم ہوتے ہیں بجائے ان کے جو دو حروف پڑھ لینے کے بعد خود عظیم تر اور دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے اور میرے خیال سے یہ وه لوگ ہیں جو معاشرے کی ترقی میں روکاوٹ اور چھوٹی سوچ کے مالک ہیں ۔ برداشت ایسی صفت ہے جو ہر شخص میں نہیں ہوتی اور یہ فطری عمل بھی نہیں اسے خود انسان نے اپنانا ہوتا ہے اور جو اسے حاصل کر لیتا ہے پھر کامیابی اس کے قدم چومتی ہے وہی پھر معاشرے میں عزت حاصل کر لیتا ہے اور آہستہ آہستہ لوگ بھی انکی طرف مائل ہونے لگتے ہیں ۔ یہ فطری عمل ہے کی انسان اکثر جزبات کی جکڑ میں آجاتا ہے اور پھر حقیقت سے منہ موڑتا ہے۔کبھی کبھی آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور پھر کچھ ایسے اقدام اُٹھاتا ہے جن پہ زندگی بھر پچھتاوا رہتا ہے تب وقت گزر چکا ہوتا ہے انسان کی سوچ شاید ایسے نتائج کا بروقت تصور نہیں کرتی اور بعض دفعہ بہت سے رشتے بھی اس کی ضبط میں آجاتے ہیں یہ نہ صرف گھر بلکہ پیشہ وارانہ زندگی کو بھی متاثر کر لیتا ہے۔برداشت ایک نہایت ضروری عمل ہے انسان بہت کچھ کھونے کے بعد بھی اگر نہیں سمجھتا کہ ایسے صرف اسی کے ساتھ کیوں ہورہا تو یقیناً وه لا علم ہے اور غفلت کے شکنجے میں گھرا ہوا ہے ۔ انسان ایسی باتوں پر جلد جزبات کا شکار ہوجاتا ہے جو اس کے طور طریقے، مذہب و مسلک، رسم و رواج کے خلاف ہو پھر چاہے وہ حقیقت ہی کیوں نہ ہو تب انسان عقل سے نہیں بلکہ دل سے سوچتا ہے اور پھر نقصان اُٹھاتا ہے ۔ انسان ہمیشہ اپنے تجربہ کے بنیاد پہ سوچتا ہے اور اکثر غلط فہمی کا بھی شکار ہو جاتا ہے اصل میں جب تک انسان اپنی عقل کو استعمال نہیں کرے گا اور دوسروں کی مفادات سے باہر نہ نکلے گا اور بردشت کے صفت کو نہ اپنائے گا نقصان اٹھاتا رہے گا۔ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری برداشت کا نہ ہونا ہے بچے ہو، بوڑھے ہو یا پھر جوان اس بیماری نے سب کو گھیرا ہوا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کوئی نکلنا بھی تو نہیں چاہتا ۔ صبر و شکر کی کمی دراصل امن کے لیے خطرہ ہے۔ برداشت کی کمی اور پھر سادہ لوگ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا فائدہ ہم نہیں بلکہ ہمارا دشمن اٹھتا ہے جس کے اثرات ہم سب پہ مرتب ہوتے ہیں اور یہ امن کی عدم موجودگی کا باعث بنتا ہے۔ اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے جزبات کا شکار ہو جاتے ہیں اور جلد بازی میں ردعمل دے جاتے ہیں ۔
یہی برداشت کی کمی بہت سی معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے اور امن کی خرابی کا سبب بنتی ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *