ان لائن کلاسسز کیسے؟اصغر شمل خلجی

کورونا نے ملک بھر کے تمام معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے ،جو شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو۔ اس وبا کا پس منظر سامنے رکھتے ہوئے دنیا بھر کا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہے۔ جوکہ اکثر ممالک نے اپنے تمام تر تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیوں کو معطل کیا ہے،اور آئن لائن کلاسسز لینے کا اقدام اپنایا۔ پاکستان میں بھی تمام سکولز بند اور یونیورسٹیوں میں  آن  لائن کلاسسز لینے کا سلسلہ شروع کروایا، تاکہ اساتذہ اور طلباء طالبات اس وبا کا شکار نہ ہوں۔ دیکھنے میں تو یہ فیصلہ کافی بہتر ہے، کہ انہوں نے ان مشکل حالات میں سٹوڈنٹس کو آن لائن کلاسسز لینے کی سہولت دیں۔ لیکن شاید حکومت کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک میں کچھ ایسے علاقے ہیں ، جہاں اب بھی وہ انٹرنیٹ جیسی سہولت سے محروم ہیں، جہاں انکے پاس اب بھی بجلی نہیں ،اگر ہے بھی تو وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بہت زیادہ ہے، پاکستان کے کئی ایسے علاقے ہیں، جو ان سب مشکلات کا سامناکرر ہے ہیں، یہ مسئلہ زیادہ بلوچستان کے طلباء کے ساتھ پیش آرہا ہے ، اگر ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، کھیل، شاپنگ مال احتیاطی تدابیر کے تحت اپنے نظام کو چلاسکتے ہیں تو یونیورسٹیوں کے باشعور طلباء کیوں نہیں؟ ہماری  جامعات بھی کشادہ    ہیں، جہاں سٹوڈنٹس ایک دوسرے سے فاصلے  پر  بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم بھی اس طریقے کو اپنا سکتے ہیں، ہم بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ کلاسسز لے  سکتے ہیں۔ اگر آن لائن کلاسسز لینی ہیں، تو ہمارے بھی کچھ مطالبات ہیں اسکو عملی جامہ پہنایا جائے جوکہ شروع ہی سے طلباء طالبات مظاہرے اور کیمپوں میں بیٹھ کر مطالبہ کررہے ہیں۔ ایچ ای سی کو چاہیے کہ وہ بلوچستان، فاٹا، جی بی کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ جیسی  سہولیات فراہم کریں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *