محبت اب نہیں ہوگی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ہاتھوں کی کٹوری بہتے پانی کے نیچے رکھی تو قسمت والی زندگی کی سبھی لکیریں مٹیالی لگنے لگیں ۔
ایسے لگا جیسے پانی چہرہ چھوئے بناپلٹ گیا ہو ۔ بس آنکھیں  ہی تو بھیگی ہیں ۔۔
ہسپتال سے چارسال بعد گھر واپس لوٹی تو اس کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا روپ بدل چکا تھا ۔لڑکیاں جس عمر میں کسی کے تصور سےسمٹ جاتی ہیں ۔وہ ان لمحوں سے ڈر کر سکڑ جاتی ۔اسے تو خواب بھی ڈراتے تھے ۔
تیزاب سے موم کی طرح پگھلے چہرے کو بنانے کے لیے ڈاکٹروں نے اس کا سارا جسم ایسے کھرچا تھا کہ  دھیما دھیما درد نس نس میں سلگتا رہتا۔

“ارے، ساری چیزیں دان کردو گی کیا؟”
اماں نے گُھرکی دی۔
اس نے سُنی اَن سُنی کردی ، کپڑے، میک اپ کا سامان اٹھا کر ساتھ والی رشیداں کو دے دیا۔
ہار بنُدے ،چوڑی ،جھمکا کچھ نہ رکھا۔
پھر اس کی دیکھا دیکھی ماں نے اسکے لیے جوڑی گئی جہیز کی چیزیں لوگوں میں بانٹنا شروع کردیں
اب تو ہر رشتہ ترس میں بدل گیا تھا ۔

رمضانی کی دوکان کی املی کھانے پہ ماں اسے کتنا ڈانٹتی تھی۔پھر جب ماں نے سبزی کے ساتھ املی کی تھیلی پکڑائی۔
“لے، تجھے پسند ہےنا ”
اس نے تھیلی کوڑے دان میں اچھال دی۔ماں ہکا بکا دیکھتی رہ گئی ۔
“کیا ہوا تجھے.”؟
اسے شکیل یاد آگیا ۔جب اس نے اسے املی خریدتے دیکھ کر کہا تھا
“شہزادی املی کھا رہی ہے ۔ایک دفعہ موقع تو دو، اتنی املی کھلاؤں گا کہ یاد کرے گی”
کتنا پیارا لگتا تھا “وہ چھچھور پن نہ کرے تو “؟

ماں نے کہا
“کرن پتر، یہ کپڑے چھت پہ ڈال آ”
فق ہوتے چہرے کو دیکھ، ماں حوصلہ دینے لگتی۔
“کتنے دن نہیں جائے گی اوپر؟ حوصلہ کر، تو میری بہادر بچی ہے۔”

سنسناتے ہوتے قدموں سے چھت پہ پہنچتی تو یادیں روپ دھارنےلگتیں ۔یہیں، منڈیر پہ ہی کھڑا وہ اپنی محبت جتا یا کرتا تھا۔
وہ روٹھ جاتی ۔
“تم یہ لچوں والی حرکتیں مت کیا کرو۔”؟
“تم مجھے اچھی لگتی ہو” شکیل سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتا
” اپنے آوارہ دوستوں کو بھی چھوڑ دو”کرن شکیل کی وجاہت سے ہار جاتی
“تو کہے تو میں دنیا نہ چھوڑ دوں “؟اس کی مسکراہٹ کتنی ظالم تھی
“اماں میرے لیے رشتہ دیکھ رہی ہیں “۔۔وہ اسے ڈراتی
شکیل کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“میں تمہیں مار دوں گا کرن، اگر تم کسی اور کی ہوئیں۔”
وہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی ۔کرن کے ماں باپ نے، کرن کا رشتہ کہیں اور کر دیا۔

چھت پہ بندھی رسی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی ۔ تیزاب میں بھیگی، اسی میں تو الجھی تھی۔اور چیختے، سنبھلتے، لڑکھڑاتے رسی ٹوٹ گئی تھی۔

دھواں ہوتی آنکھوں سے کرن نے شکیل کے گھر کی چھت کو دیکھا۔اور پھراپنے پیروں کے نیچے کی زمین کو۔جسکی رنگت تیزاب سے پِھٹک چکی تھی۔ اسےاب بھی شکیل کا انتظار تھا۔
انتظار کے باقی کے چار سال تبکا تبکا، قطرہ قطرہ گرتے تیزاب کی طرح اسے جلاتے گزرے ۔
اب وہ ہر شام چھت پہ جاتی ۔
اس نے چھت پہ لگے تیزاب کے سارے داغ دھو دیے ۔
چھت پہلے سے زیادہ اجلی ہوگئی اوردل کا داغ اس کے چہرے کی طرح ہر دن میلا ہوتا گیا ۔

رہائی کے بعد شکیل اپنے ماں باپ کے ساتھ،آدھے محلے کو لیکر کرن کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔پچاس لوگوں کی موجودگی میں معافی کے جواب میں کرن نے  ایک ہی بات پوچھی
“تم مجھ سے محبت کرتے تھےناں”؟

لوگوں کی موجودگی میں شکیل نے جھکی نظروں سے اقرار میں سرہلایا ۔اس نے اسے معاف کردیا ۔راضی نامے پہ دستخط کرتے سمے اس کے ہاتھ نہیں کانپے ۔

کتنے مہینے گزر گئے ۔وہ روز چھت پہ جاتی ۔شکیل کی کہیں شادی طے ہوگئی تھی ۔مگر وہ کبھی چھت پہ نظر نہیں آیا ۔
وہ گلی میں جھانکتی تو اسے آتے جاتے دکھائی دیتا ۔
وہ اس کی طرح بیوفا نہیں تھی ۔محبت کی نشانی دینا چاہتی تھی ۔اس نے اس کیلئے تحفہ خرید رکھا تھا ۔
آج اچانک چھت پہ نظر آگیا ۔وہ لائٹنگ کروا رہا تھا۔
پرسوں اس کی بارات تھی ۔
وہ تیزی سے نیچے آئی ۔اور کچھ اٹھا ئےتیزی سے اوپر آئی ۔
“شکیل” اس نے اسے آواز دی، وہ مرے مرے قدموں سے منڈیر کے پاس چلا آیا ۔
شکیل کی جھکی نظریں اسکے جسم سے پھسلتے ہوئے، اِسکے چہرے پہ ٹھہر گئیں ۔وہ چپ رہا، کَٹھن لمحے سکوت میں گزر گئے ۔کرن نے دھیرے سے پوچھا
“تم مجھ سے محبت کرتے تھے ناں ؟
شکیل نے سر جھکا لیا ۔چپ رہا ۔

کرن نے پیروں میں پڑا، تیزاب سے بھرا جگ شکیل پہ انڈیل دیا۔

شکیل کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں اور وہ اطمینان سے ایک ایک سیڑھی اترتی خود سے کہہ رہی تھی ۔
“مجھے تم سے محبت تھی “۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *