مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
آج کا کالم معمول سے ہٹ کر متفرق موضوعات پر مشتمل ہے۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے، دقیق علمی باتوں سے کنارہ کش ہو کر ہلکے پھلکے انداز میں باتیں کی جائیں۔ کالم کو کالم ہی رہنا چاہیے، کالم کا← مزید پڑھیے
” بہتر ہوگا کہ تُم دونوں بہن بھائی آج ہی آفس چھوڑ دو ۔ میں ایک ماہ کی تنخواہ تم دونوں کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیتا ہوں اور آج کے بعد سے تم دونوں کا ساعقہ انڈسٹریز سے کوئی← مزید پڑھیے
کہتے ہیں کہ مزاحمت زندگی ہے ، جو لوگ مزاحمت نہیں کرتے اس کا واضح مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ غلامی پسندانہ سماج کو قبول کرنا چاہتے ہیں ، یہ وہ معاشرہ قبول کرنا چاہ رہے ہیں جہاں← مزید پڑھیے
حضرت امام حسین علیہ السلام کے الہیٰ لشکر اور مجاہدین فی سبیل اللہ کو روایا ت اور تاریخ میں بہت سے مختلف ناموں کے ساتھ یاد کیا گیا ہے ان القابات اور ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب امام← مزید پڑھیے
شخصیت سازی کیلئے ضروری ہے کہ انسان میں سوال کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہو۔ انسان کی معاشرتی زندگی کا آغاز سوال سے ہی ممکن ہوا۔ انسان سازی کا ارتقاء سوال کے بغیر ناممکن ہے۔ جب تک انسان سوال نہیں← مزید پڑھیے
نوشین مُٹھیاں بھینچے اور دانت کچکچاتے مسلسل کمرے میں اِدھر سے اُدھر پھِر رہی تھی ابھی کُچھ دیر پہلے اُس نے کانچ کے دو گِلاس بھی دیوار پر مار کر توڑ دیے تھے ۔ وہ کبھی بیڈ پر بیٹھ جاتی← مزید پڑھیے
حق و باطل کے معرکہ کربلا کو صدیاں بیت گئیں مگر محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی کربلا والوں کاغم تازہ ہوجاتاہے دل افسردہ ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کربلا کا واقعہ آج ہی ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
اگر تعلیمی ادارے ہی تعفّن اور گھٹن کا مرکز ہوں گے توہمارے مستقبل کا کوئی معیار نہ رہے گا ۔گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر متعدد طلبہ نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات پر آواز اٹھائی۔افسوس کے ساتھ کہنا← مزید پڑھیے
پاکستان کے قیام سے تقریبا ًپندرہ سال قبل 23ستمبر 1932کو مملکت سعودیہ العربیہ معرض وجود میں آئی، پاکستان اور سعودیہ کے درمیان پہلا معاہدہ ابن سعود کے دور 1951 میں ہوا ،اسکےبعد ہرگزرتے دن کے ساتھ دونوں برادر اسلامی ملکوں← مزید پڑھیے
خود رو پودے اور درخت انسانی زندگی کی بقا اور شفا کی علامت بن کر عرف عام میں جڑی بوٹیوں کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں،ان کے مقابلے میں کاشت کاری کے اصولوں کے مطابق اگائے گئے پودے و درخت← مزید پڑھیے
آج کی 21 ویں صدی میں بلوچستان سے لاپرواہی کے رویے شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ فرق پڑا ہے تو صرف اتنا کہ اب ہمیں کہیں کہیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ نام نہاد اصول اور رسم و← مزید پڑھیے
جذبات و پسند ناپسند کو ایک طرف رکھ کر سوچا جائے تو ہر عام لیڈر یا ڈکٹیٹر شاید یہی چاہے گا کہ اس کی چھاپ معاشرے پر گہری ہو اور لوگ اسے قبولیت یا پاپولیرٹی بخشیں۔ ضیاء الحق وفات کے بتیس سال بعد اگر سب برائیوں کا ذمہ دار ہے تو کیا وہ سُپر ہیرو تھا یا بعد میں آنے والے حکمران کم ہمت نکلے اور ضیاء ان کے لئے بہترین قربانی کا بکرا ٹھہرا؟ ایک نئی سوچ سوچئے گا ضرور!← مزید پڑھیے
25 نومبر 2019 کی ایک سرد شام تھی۔فین لی نے اپنی کشتی واپس ووہان کی گودی کی طرف موڑتے ہوئے سوچا : “طبیعت کبھی پہلے تو ایسی مضحمل نہیں ہوئی تھی۔” اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا ۔درد← مزید پڑھیے
راولپنڈی سے ماہتاب قمر نے ۔۔ ذرا نام پر غور کریں‘ ماہتاب بھی اور قمر بھی، گویا چاند دوچند۔۔ ایک سوال پوچھا۔ سوچا ‘ اسے فون پر جواب دینے کی بجائے تحریر کی صورت میں جواب دیا جائے تاکہ افادِ← مزید پڑھیے
نیلے آسمان کے اس گنبد کے نیچے اپنے خون سے ایک تاریخ رقم کرنے والے اُن شہیدوں کو سلام اتحادِ اسلام اور وطن کے لیے جو بلا خوف و خطر اپنا سینہ تانے چل پڑے اُن شہیدوں کو سلام نیلے← مزید پڑھیے
30 اکتوبر 2019 کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی شام تھی۔ ملٹی سٹوری بلڈنگ خالی ہوچکی تھی۔ سکیورٹی گارڈز بھی جانے کی تیاریوں میں تھے۔ اچانک سٹیو کے فون پر ایک میسج آیا ۔اس نے باقی سکیورٹی گارڈز کو مخاطب کرتے ہوئے← مزید پڑھیے
پیاری دشمن! برسوں ہوئے تمہیں بچھڑے ہوئے۔ اتنے برسوں میں کبھی تمہیں خط نہ لکھ سکا۔ کیا لکھتا؟ قلم کو جب بھی سیاہی میں ڈبوتا ہوں، تو اس کو لہو میں ڈوبا ہوا ہی پاتا ہوں۔ آج ہمت کر کے← مزید پڑھیے
ہر سال یوم آزادی انتہائی جوش جذبے سے منایا جاتا ہے۔ فوٹو لائبریریوں سے نہایت رقت آمیز اور دل کو چیر دینے والی فوٹوز نکال کر اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنائی جاتی ہیں۔ برقی و پرنٹ میڈیا کہیں← مزید پڑھیے
یہ گزشتہ یکم اگست کاواقعہ ہے۔ ملک بھر میں عید الاضحیٰ کا تہوار جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا تھا۔لوگ جو ق در جوق سنت ابراہیمی کی پیروی میں مشغول تھے۔ اچانک ٹوئٹر پر ایک نوجوان کا دردانگیز پیغام ابھرتا← مزید پڑھیے
1959 میں نپولین ہل نے جب امریکی صدر روز ویلٹ کو اپنے دستخط والی اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “سوچئے اور امیر ہو جائیے” Think and Grow Rich پیش کی تو وہ اس میں چارلی وارڈ کا نام نہ دیکھ کر← مزید پڑھیے