مثبت سوچ کا کمال۔۔الطاف حسین رندھاوا

1959 میں نپولین ہل نے جب امریکی صدر روز ویلٹ کو اپنے دستخط والی اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “سوچئے اور امیر ہو جائیے” Think and Grow Rich پیش کی تو وہ اس میں چارلی وارڈ کا نام نہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ انہوں نے نپولین ہل سے کہا، “اگر آپ ایک ایسے شخص کی کہانی اس کتاب میں شامل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو چیتھڑوں سے محلوں میں پہنچنے والے شخص کی کہانی ہو تو آپ چارلی وارڈ سے ضرور ملیں۔”
چارلی وارڈ کا باپ سوتیلا تھا۔ اس کی ماں نے دوسری شادی کی تھی۔ 14 برس کی عمر سے ہی اس نے چھوٹے موٹے کام کرنے شروع کر دیئے تھے۔ سوتیلے باپ کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہیں تھا اور اس کی ماں بھی اس کے سوتیلے باپ کا ساتھ دیتی تھی۔ سترہ سال کی عمر میں گھر چارلی گھر سے بھاگ گیا۔ 34 سال کی عمر میں اسے جیل ہو گئی اور یہیں سے اس کی زندگی تبدیل ہوئی۔ اس نے اپنی غلطیوں کا جائزہ لیا اور خود کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جیل میں بجلی کا کام سیکھا۔ اپنی قید کے دوسرے سال چارلی کو پاور پلانٹ کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا گیا۔ اب 150 کارکن اس کے ماتحت کام کرتے تھے۔ اسے جیل میں خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں جو دیگر قیدیوں کو حاصل نہ تھیں۔
اسی دوران انکم ٹیکس ادا نہ کرنے کے جرم میں ہربرٹ ہیوز بائگلو کی آمد ہوئی۔ بائگلو سینٹ پال میں براؤن بائگلو کیلنڈر کمپنی کا پریذیڈنٹ اور سب سے بڑا حصہ دار تھا۔ چارلی وارڈ نے بائگلو کی جیل میں اتنی مدد کی کہ رہائی کے وقت بائگلو نے چارلی سے کہا کہ جب تم یہاں سے رہا ہوگے تو کنساس شہر کے کسی بینک میں تمہارے نام 15000 ڈالر جمع ہوں گے تاکہ تم انہیں اپنے کام میں لا سکو۔ چارلی نے شکریہ کے ساتھ یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
بائگلو نے رہائی کے وقت چارلی سے کہا، “ایک مہینے بعد تم بھی رہا ہو جاؤ گے۔ میں چاہتا ہوں تم رہا ہو کر میرے پاس سینٹ پال آ جاؤ اور میرے ساتھ کام کرو۔ میرے لیے تم نے جو کچھ کیا ہے میں اسے کبھی بھلا نہیں سکتا۔” رہائی کے بعد چارلی بائگلو کے پاس پہنچا جس نے اسے چھوٹے موٹے کاموں پر لگا دیا لیکن چارلی کوئی شکوہ کیے بغیر خلوص سے اپنا کام کرتا رہا۔ بالآخر کمپنی کے ڈائریکٹروں نے اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے کمپنی کا نائب صدر اور جنرل مینجر مقرر کر دیا اور اس کی سالانہ تنخواہ 12000 ڈالر مقرر کر دی گئی۔
آٹھ ماہ بعد بائگلو وفات پا گیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹروں نے چارلی کو اس کی جگہ صدر منتخب کر لیا۔ ایک دن اس کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب اسے پتہ چلا کہ بائگلو نے اپنی میراث میں سے اسے ایک تہائی کا حصہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ کہانی اس بات کو سچ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنے منفی طرزِ فکر کو مثبت طرزِ فکر میں تبدیل کر کے اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ جب چارلی نے ذاتی مفاد سے ہٹ کر دوسروں کی بھلائی کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو اس کی زندگی بھی بہتری کی جانب گامزن ہو گئی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *