• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریاضی کی برانچ calculus کی نوعیت اور اسکے فارمولوں کے نتائج کی قطعیت۔۔ادریس آزاد

ریاضی کی برانچ calculus کی نوعیت اور اسکے فارمولوں کے نتائج کی قطعیت۔۔ادریس آزاد

بات یہ ہے کہ سائنس کو ہر تبدیلی کی پیمائش کے لیے کیلکولس کا سہارا لینا پڑتاہے۔ کیلکولس نام ہے ایپراکسیمیشن کا۔ اور زیادہ سادہ الفاظ میں کہاجائےتو کیلکولس نام ہے زیادہ سے زیادہ قریبی (یعنی نزدیک کا) اندازہ لگانے کا۔ مطلب یہ ہوا کہ کیلکولس کبھی بھی کسی شئے کی پیمائش اس طرح نہیں کرسکتا کہ جیسے سوفیصد پیمائش کا سوفیصد نتیجہ دے دے۔ جیسے دو جمع دو چار ہوتے ہیں، یہ بھی تو ایک پیمائش ہے۔ لیکن یہ سوفیصد نتیجہ دے رہی ہے۔ کیلکولس چونکہ اس کے برعکس تبدیلی کی پیمائش کرتاہے اس لیے اسے قریبی سے قریبی اندازہ لگانا پڑتاہے لیکن سوفیصد نتیجہ پھر بھی ناممکن ہی رہتا ہے۔

مثال کے طورپر زمین پر گرنے والا گیند مسلسل اپنی رفتار میں تیز ہوتا چلا جاتا ہے۔ یعنی جُوں جُوں وہ زمین کے نزدیک آتا جاتا ہے، وہ تیز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو اگر کوئی یہ پوچھے کہ، ’’کسی ایک مقام پر اس گیند کی رفتار کیا تھی؟‘‘ تو ہم نہیں بتاسکتے۔ ہم جو جواب دیتے ہیں وہ کیلکولس کی مدد سے لگایا گیا قریب ترین قیاس یا اندازہ ہوتا ہے۔ گیند کی رفتار ہر نقطے پر پچھلے نقطے سے زیادہ تیز تھی۔ سوال یہ ہے کہ ہر نقطہ پچھلے نقطے سے کتنے فاصلے پر واقع ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ کیونکہ مکان کو باریک سے باریک تقسیم کرتے چلے جائیں تو وہ مقام کہاں ملے گا جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ یہ آخری مقام ہے اور اب دو نقطوں کے در میان کوئی فاصلہ باقی ہی نہیں رہا؟

اب چونکہ ہم نقطوں کو باریک سے باریک تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ ہرنقطے پر رفتار تیز سے تیز ہوتی چلی گئی درست تو ہے لیکن اس کی سوفیصد پیمائش ممکن نہیں ہے۔ اس کی پیمائش کا طریقہ نیوٹن نے ایجاد کیا تھا جسے کیلکولس کہتے ہیں اور وہ طریقہ یہ ہے کہ آپ مسلسل کوشش جاری رکھیں۔ چھوٹے سے چھوٹے مقام تک تقسیم کرتے چلے جانے کی۔ آپ ایک حد، ایک لمٹ طے کرنے پر پہلے سے مجبور تو ہیں ہی کیونکہ مثلاً گیند اگر گررہی ہے تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ وہ ایک خاص وقت میں زمین تک پہنچ جاتی ہے۔ فرض کریں وہ ایک منٹ میں زمین تک پہنچی ہے تو ہم جانتے ہیں کہ کُل صرف ہونے والے وقت کی ایک حد ہے جس میں وہ زمین تک پہنچتی ہے۔ جس چیز کی حد نہیں ہے وہ ہے وقت کے فقط ایک لمحے کی تقسیم۔ مجموعی وقت تو ایک منٹ ہے، بلاشبہ، لیکن ایک باریک نقطے پر رفتار جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فاصلے کو وقت کے ساتھ تقسیم کریں اور اس لیے وقت کے باریک لمحات بھی درکار ہیں۔ اب وقت کے باریک لمحات کتنے چھوٹے کیے جاسکتے ہیں، اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔

زینو کے پیراڈاکسز دراصل اسی وجہ سے پیدا ہوئے تھے اور یونان کے بڑے فلسفی دراصل اسی وجہ سے سائنس کے مخالف رہے تھے کہ ہمیں سائنس کو جاننے کے لیے جن آلاتِ پیمائش کی ضرورت ہے وہ ایک قیاس، ایک اندازہ بتاسکتے ہیں، حقیقی اور سوفیصد نتیجہ نہیں بتاسکتے، کسی بھی تبدیلی کا۔

کیلکولس کی وجہ سے ہی آئن سٹائن نے کہا تھا کہ،

’’ریاضی کے جن نظریات کا تعلق حقیقت کے ساتھ ہے، وہ سب غیر یقینی ہیں اور ریاضی کے جو نظریات یقینی ہیں اُن کا تعلق حقیقی دنیا سے نہیں ہے‘‘۔

آئن سٹائن کی یہ بات پڑھ کر سمجھ آتی ہے کہ آخر یونان کے آئیڈیالسٹ فلسفی کیوں کر اتنے اچھے ریاضی دان ہوا کرتے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *