احترام واحسانات سے اَٹے پاک سعودی تعلقات۔۔انعام الحق

پاکستان کے قیام سے تقریبا ًپندرہ سال قبل 23ستمبر 1932کو مملکت سعودیہ العربیہ معرض وجود میں آئی، پاکستان اور سعودیہ کے درمیان پہلا معاہدہ ابن سعود کے دور 1951 میں ہوا ،اسکےبعد ہرگزرتے دن کے ساتھ دونوں برادر اسلامی ملکوں میں اعتماد محبت ہمدردی کارشتہ پھلتا پھولتا رہا ،شاہ فیصل کا دورہ  پاک سعودی تعلقات کا سنہری باب ہے۔ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان پہلا عسکری معاہدہ 1967 میں ہوا جس کے نتیجہ میں سعودیہ نے پاکستان کے عسکری تجربہ اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔اس سے قبل سعودیہ کی عسکری تربیت کامکمل انحصار برطانیہ پرتھا 1967کے عسکری معاہدہ کے بعد جب سعودیہ کو پاکستان کی عسکری بے پناہ صلاحیتوں کا اندازہ ہوا ،تو سعودی عرب نے  عسکری تربیت کے لیے پاکستان پر ہی انحصار کرنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ سعودی عرب نے 1968 میں تمام  برطانوی عسکری ماہرین کو رخصت کردیا اور مکمل طور پر عسکری تربیت کا شعبہ پاکستان کے عسکری ماہرین کے حوالہ کردیا اوربرق رفتارترقی کے باوجود آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ممالک اپنی دفاعی اور عسکری طاقت میں شامل کرتے ہیں لیکن پاکستان کی عسکری قیادت نے ترقی یافتہ ممالک کی بنسبت محدود وسائل کے باوجودابھی تک سعودیہ کا یہ اعتماد برقرار رکھا ہے۔

یہاں تک کہ اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے بعد اس کی سربراہی کے لیے بھی سعودی عرب نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوۓ جنرل راحیل شریف کو اس کا سربراہی کا اعزاز بخش کر پاکستان کو مزید سرخروکیا۔،

پاکستان کے ساتھ سعودیہ کے گہرے اور محبت بھرے تاریخی ادوار ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا 1971میں جب پاکستان دولخت ہوا تو اس وقت کے سعودی حکمران شاہ فیصل مرحوم کو سخت دلی صدمہ پہنچا بعد میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا لیکن سعودیہ نے پاکستان کے تسلیم کرنے کے بعد بھی ایک عرصہ تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا۔

پاکستان نے سعودی عسکری شعبہ میں ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں جس کو سعودی عرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے، جو ابھی تک جاری ہے ،جس کی تازہ مثال اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کا اعزاز بھی پاکستان کو بخشا جانا ہے۔

اسکے علاوہ پاکستان جب جب سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا سعودی نے ہروقت یادگارتاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا۔بھٹو اور ضیا کا سیاسی تناو ہو یا نواز اور مشرف کاٹکراو ہو سعودیہ نے مثالی اور ہمدردانہ کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان معاشی عدم استحکام کی تاریخ میں سب سے خوفناک اور ڈراؤنی صورتحال نوے کی دہائی میں ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ کی جانب سے عالمی اقتصادی پابندیاں لگنے کے بعد پیدا ہوئی، اس وقت پاکستان کی معیشت ڈنواں  ڈول تھی پاکستان کا کوئی ہاتھ تھامنے والانہیں تھا، ایسے وقت میں سعودیہ پاکستان کی پشت پر کھڑا ہوگیا اور پاکستان کے لیے اپنے خزانوں  کے منہ کھول دیے 3ارب ڈالر کی خطیر رقم دینے کے ساتھ سالانہ 3ارب ڈالر کا تیل ادھار دینا بھی شروع کیا جو ایک عرصہ تک چلتا رہااور باخبر ذرائع کے مطابق سعودیہ نے ابھی تک اس تیل کی مد میں وصولی نہیں کی بلکہ اسکو بھی امدادی پیکج میں شامل کیا۔

پھر 2005کے تباہ کن زلزلہ میں یا سیلاب زدگادن کی بحالی ہو سعودیہ نے وہ کردار ادا کیا جو انصار مدینہ کی فراخدلی کی یاد تازہ کرتا ہے۔پھر 2014 میں جب پاکستانی معیشت پھر ہچکولے کھانے لگی توسعودیہ پھر پاکستان کا پشتی بان بن کر کھڑا ہوااور ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دیکرپاکستان کو مضبوط سہارا دیا۔

ابھی 2018میں جب عمران حکومت معاشی طور پر ڈیفالٹ کی پوزیشن پر پہنچ چکی تو سعودیہ نے پھر تین ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم پاکستان کے اکاونٹ میں رکھ کر پاکستانی معیشت کو ڈبونے سے بچایا
اب ایک طرف پاکستان اور سعودیہ کےباہمی تعاون کا یہ نقشہ ہے دوسری جانب پاکستان کے ساتھ ایرانی تعاون تو درکنار ہمیشہ ایران نے کا دھندلا کردار رہا ہے جو چھپاۓ نہیں چھپتاکلبھوشن جیسے خوفناک درندے کے پاس سے ایرانی پاسپورٹ کا نکلنا اور ایرانی راستہ سے پاکستان میں داخل ہونے سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ ایران پاکستان کی جڑیں کیسے شاطرانہ انداز میں انڈین ہتھیاروں سے کاٹ رہا ہے۔

پاکستان کےگوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبوں کو فلاپ کرنے کے لیے چاہ بہار بندرگاہ بھارت کی جھولی میں ڈال دی پھرملک میں بدامنی اور دہشت گردی کی وارداتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ کچھ دن قبل بلوچستان اسمبلی میں ایک ممبر نے آن دی ہاؤس ایرانی دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہوکر کوئٹہ اور گرد ونواح میں کاروائیاں کرنے پر سخت احتجاج کیا اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اس سے اندازہ لگائیں کہ ایران پاکستان کی بدخواہی میں کس خطرناک حد تک گیا ہوا ہے۔

لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود پاکستان کے حالیہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس طرح سعودیہ پر نقطہ چینی کی اور جو لب ولہجہ اپنایا وہ کسی وزیر خارجہ کا اپنے محسن ملک کے حوالہ سے انتہائی افسوسناک ہے اور احسان فراموشی کے مترادف ہے۔

بہرحال وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیا ہوگا جو پہلے سے سب کو معلوم ہے لیکن وزیر خارجہ کے بیان سے ان صحافتی حلقوں کے اس دعوی کی تصدیق ہوگئی ہے کہ عمران حکومت میں ساٹھ فیصد ایرانی لابی شامل ہوچکی ہے جو پاک سعودیہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے گی ،وزیراعظم عمران خان کو سعودیہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی مذموم کوشش کرنے والی کالی بھیڑوں کی خبر لینی چاہیے، زلفی برگیڈ کی ایرانی زلفیں کاٹ کر اصلاح احوال کی کوشش کرنی چاہیے۔

ا س وقت آرمی چیف قمر جاوید باجود سعودیہ کے دورہ پر ہیں اور امید ہے جلد غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی اور پاک سعودیہ تعلقات کا لازوال دور پھر سے آگے بڑھے گا۔

بعض صحافتی حلقے اس بات کا دعوی ٰ کررہے ہیں کہ آرمی چیف کی واپسی پر ایرانی لابی کی گوشمالی کے ساتھ انکی زلفوں کی کانٹ چھانٹ بھی کی جاۓ گی۔اللہ تعالی پاکستان کے ارباب اقتدار کو اپنے محسنوں اور ہمدردوں کی پہچان کرنے اور انکی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *