حال حوال کی تحاریر
حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

پَب جی گیم، ایک خطرناک معاشرتی بگاڑ۔۔۔اکرم بلوچ

پب جی (Player Unknown’s Battle Grounds ، in short PUBG) ایک ویڈیو گیم ہے۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی نے ویڈیو گیمز تک پہنچ کو سستا اور آسان بنایا ہے۔ اس گیم سے معاشرہ کا ہر فرد واقف ہوگا۔ اس گیم کو←  مزید پڑھیے

بلوچستان میں قتل کیے گئے اساتذہ۔۔۔۔عابد میر

سن 2005ء سے شروع ہونے والی بلوچستان کی حالیہ سیاسی شورش یہاں کے تعلیمی ڈھانچے پر بھی اثرانداز ہوئی۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران درجنوں اساتذہ قتل کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ سیکڑوں کی تعداد میں ڈر اور خوف←  مزید پڑھیے

احمقوں کی معیشت۔۔۔۔۔تحریر: عاصم سجاد اختر/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

“درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”، یہ مقولہ ریاست پاکستان کی پالیسیوں کے لیے مکمل مناسب ہے۔ اور شاید سماجی و معاشی اصلاحات کے لیے تو بالخصوص موزوں ہے۔ لیکن ریاست کی موجودہ معاشی غیریقینی پر چیخ و پکار←  مزید پڑھیے

لنکا کی وجودیت۔۔۔۔تحریر: جاوید نقوی/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

اتفاق سے ان دنوں میں کولمبو میں ہوتا تھا، جس دن شری گنیش کی مورتی پوری دنیا میں دودھ کی نہریں پی جاتی ہیں۔ ایک عمل جسے منطقی ہندو عوام کی ایک ذہنی بیماری قرار دیتے ہیں جبکہ عقیدت مندوں←  مزید پڑھیے

سوسائٹی کے دوکنارے۔۔۔۔محمد امین مگسی

قومیں بڑی بڑی عمارتوں سے عظیم نہیں بنتیں. قومیں اپنے اعلیٰ اقدار کی بدولت دنیا میں مقام حاصل کرتی ہیں۔ مادیت پرستی کے اس دور میں اونچی عمارتیں، وسیع سڑکیں، کھلے میدان کی اپنی اہمیت ضرور ہے جس سے انکار←  مزید پڑھیے

ماچس کی ڈبیا جتنی روشنی۔۔۔جاوید حیات

بازار اس وقت جاگتا ہے جب دکانیں بند ہونے لگتی ہیں، اس گلی کی چند دکانیں بازار کے ساتھ جاگتی ہیں اور بازار کی گود میں سو پڑتی ہیں. اچانک گلی میں روشنی پھیل جاتی ہے تو لگتا ہے کسی←  مزید پڑھیے

زخمی بلوچستان۔۔۔ڈاکٹر ناظر محمود/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

اپریل کی 18 تاریخ کو بلوچستان کے ضلع گوادر میں اورماڑہ کے قریب نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے 14 مسافروں کو قتل کر دیا۔ مقتول بس کے ذریعے کراچی سے گوادر جا رہے تھےجہاں انہیں مختلف بسوں سے اتار کر←  مزید پڑھیے

آن لائن صحافت اور سوشل میڈیا میں فرق۔۔۔محمد جواد رشید

1970 میں ٹیلی ڈیکست کے نام سے یو کے میں متعارف ہونے واال ٹول ڈیجیٹل صحافت کا نقطہ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے. یہ ایک نظام تھا جس میں صارف کو موقع دیا جاتا تھا کے وہ پہلے کون سی←  مزید پڑھیے

چندن جیسا سخنور۔۔۔جاوید حیات

اردو کے چند سوالات یاد کرنے کے بعد سفید پوشاک میں ملبوس وہ چار پانچ لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے ہوئے خضر علیہ السلام کے ڈیرے کی طرف چل پڑتے. اس وقت غالباً میں چھٹی جماعت میں پڑھ رہا تھا.←  مزید پڑھیے

سندھ کے صوفیوں کو سمجھو۔۔۔۔محمد داؤد خان

وہ لطیف کے دیس سے آئے ہیں اور ان کے کانوں میں بھی وہی صدا گونج رہی ہے جو لطیف بہت سا علم دیکھ کر اس علمی بحث کو ختم کرنے کو استعمال کیا کرتا تھا۔ ادی آؤن ان جانڑ←  مزید پڑھیے

کبھی سانس لی ہے؟۔۔۔۔نورِ مریم کنور

“کبھی سانس لی ہے؟” ہاں لی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک حبس زدہ چھوٹا سا بند کمرہ ہو جو ایسے گھر میں ہو جس میں سورج تک نہ آنا چاہے، کہ جس کا راستہ اتنی تنگ گلیوں کے گچھے←  مزید پڑھیے

فاضل راہو کے بدین کے لوگ پیاسے ہیں۔۔۔۔محمد خان داؤد

اداس رستے پر مسافر گاڑہ چلتی جا رہی ہے۔ شاہراہ اداس ہ، ویران ہے۔ دور دور تک کوئی نہیں، پر گاڑی مسافروں سے بھری ہوئی ہے۔گاڑی میں مصری کی شاعری اور فوزیہ سومرو کی اداس کر دینے والی آواز میں←  مزید پڑھیے

طلبا سیاست پر پابندی کے نقصانات۔۔۔۔جلیل بلوچ

گزشتہ دنوں حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں صوبہ بھر میں تمام تعلیمی اداروں میں طلبا سیاست پر پابندی عائد کرنے کےاحکامات جاری کیے گئے۔ یہ نوٹیفکیشن اس لحاظ سے بھی حیران کن نہیں←  مزید پڑھیے

کامریڈ بھگت سنکھ کی جدوجہد، خطوط کے آئینے میں۔۔۔۔ظفر رند

عظیم انقلابی استاد اور زندہ دل انقلابی ساتھیوں کے ہم سفر و رہنما کامریڈ بھگت سنگھ کو 23 مارچ 88 ویں یومِ شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ بھگت سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد←  مزید پڑھیے

تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں پر پابندی کے محرکات۔۔۔گہرام اسلم بلوچ

حکومت اور حاکمِ وقت آ ج کل اس طرح حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں، کس پر ہاتھ ڈالیں۔ گزشتہ روز حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبا سیاست پہ←  مزید پڑھیے

مادری زبان کا المیہ۔۔۔۔مظہر اقبال

رینا گرانڈے میکسیکو میں پیدا ہوئیں اور امریکا میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتی ہوئی یونیورسٹی تک پہنچ گئیں۔ خداداد تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آج وہ ایک ایوارڈ یافتہ ناول نگار اور مصنفہ کے طور پر مشہور ہو چکی←  مزید پڑھیے

کرائسٹ چرچ حملہ : تہذیبی تصادم کی تمہید۔۔۔۔صادق صبا

پی ہنگٹن نے اپنی کتاب “تہذیبوں کا تصادم” میں موجودہ دنیا کو آٹھ تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ہماری مغربی تہذیب کے ساتھ سوائے اسلام کے باقی چھ تہذیبیں موافقت رکھتی ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب←  مزید پڑھیے

انتظار کے محض دس برس۔۔۔۔محمد خان داؤد

کہنے کو تو وہ دس سال گزرے ہیں۔ پر کیا سال بس دنوں کے بدلنے، تاریخ کے بدلنے، رات کے دن میں اور دن کے رات میں بدلنے کا نام ہوتا ہے؟۔ نہیں وہ دس سال نہیں گزرے۔ ان دس←  مزید پڑھیے

سندھ کی کونج کو قتل نہ کرو۔۔۔۔۔محمد خان داؤد

اوشو نے کبیر کے لیے کہا تھا کہ، “باقی شاعر ایسے ہیں کہ سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں اور اپنے الفاظ کو بہت ہی نزاکت سے کام میں لاتے ہیں، دھیرے دھیرے اور اپنے الفاظ سے سامنے والے کا کام کر←  مزید پڑھیے

بلوچستان میں نشے کے استعمال کے حوالے سے چشم کشا حقائق۔۔۔۔دوستین نور بکش

کافی عرصے سے ہمیں سوشل میڈیا میں بلوچستان کے بارے میں سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے کہ بلوچستان میں بہت زیادہ منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔ بلوچ نوجوان نسل اپنے رنگین مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ←  مزید پڑھیے