تامل ٹائیگرز کے دیس میں (آٹھواں حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

بھیگی سڑک پر گاڑی کی رفتار مدھم تھی، ٹریفک کی وجہ سے اسپیڈ پکڑنا ممکن نہ تھا، کولمبو سے کینڈی کا فاصلہ 130 کلو میٹر ہے، عام حالات میں تین گھنٹے کا سفر ہے، مگر ہم خاص حالات میں تھے، سب نظاروں کو آنکھوں میں قید کرنے کی خواہش تھی، خوبصورت لمحے، خوبصورت ہوتے ہیں، یادگار ہوتے ہیں، مرتے دم تک ساتھ نبھاتے ہیں، سری لنکا کے لمحے ہمارے لمحوں سے حسین تر تھے، لاجواب تھے، بے مثال تھے۔

بھیگے لمحے اور زیادہ دل کو چھو لیتے ہیں، سڑک بھیگی تھی، شجر بھیگے تھے، پرندوں کے بھیگے پر تھے اور درختوں کے پتوں پر بارش کی پھسلتی بوندیں تھیں، موسم ایسا کہ دل میں ایک دریا اترے، ایک چڑھے۔ چھتریاں سنبھالے سری لنکن مرد و زن اپنے اپنے خوابوں کی طرف آ جا رہے تھے، چھوٹے چھوٹے خواب، بڑی بڑی آشائیں۔ زندگی اپنی شاہراہ پر تھی اور ہم کینڈی کی شاہراہ پر!

tripako tours pakistan

کہا جاتا ہے زندگی لمحہ موجود میں جینے کا نام ہے، ماضی رہا نہیں، مستقبل کا پتہ نہیں، جس لمحے میں آپ جی رہے ہیں، وہی آپ کی زندگی ہے، اسی کا لطف لیں۔

ہم تو اپنے لمحوں سے لطف لینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت میں اس طرح نہیں ہے، ہمارے بلند ہوتے ہوئے قہقہے بھی انور مسعود کے قہقہوں کی طرح ہیں، جنہیں نچوڑا جائے تو ان سے آنسو ٹپک پڑیں۔

ہمارے لمحے قید خانے ہیں اور ہم سزایافتہ مجرم،
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں۔۔۔

بہرحال زندگی میں لمحوں کی اہمیت ہے، یہ خطاء کریں، تو صدیاں ان کی سزا بھگتیں، یہ سنبھل جائیں، تو زندگی سنور جائے!

تھوڑے تھوڑے فاصلے پر راستے میں چھوٹے بڑے شہر آتے رہے، ہم عرفان سے پوچھتے، اس شہر کا نام کیا ہے، یہ کون سا شہر ہے، وہ ان کے نام بتاتا تھا، ایک دو شہر ایسے گزرے جن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اور بزنس میں بھی وہی سکہ رائج الوقت ہیں۔

ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ مسافت کے بعد گاڑی ایک جانب موڑ کر پارک کر دی گئی۔ ہمیں اندازہ نہ تھا کہ عرفان کو کیا سوجھی ہے۔

“عرفان کیا کرنا ہے؟ ” میں نے پوچھ لیا۔
“بھائی بہت اچھا جگہ ہوتا ہے، تم دیکھتا ہے خوش ہوتا ہے” عرفان نے ہمیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور ہم ایک فارم میں داخل ہوئے۔

قطار میں موجود درخت بڑے سلیقے سے لگائے گئے تھے جو کافی اونچے تھے، فارم کے داخلی دروازے سے کچھ فاصلے پر ایک کمرے کا سیل اسٹور بنا ہوا تھا، جس کے عقبی جانب گزر کر ہم آگے کو گئے، سامنے ایک مسکراہٹ ہماری منتظر تھی۔

“ویلکم برادرز”۔

تیز رنگ کی سبز شرٹ اور نامعلوم رنگت کی پینٹ میں ملبوس شخص نے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیا، علیک سلیک کے بعد فارم سے متعلق معلومات دینے لگا۔ داخل ہوتے وقت ہم یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ کوئی گھومنے پھرنے کی جگہ ہوگی جہاں کچھ وقت رہ کر سفری تھکاوٹ دور کی جائے گی، لیکن فارم منیجر کی گفتگو جب تکلفات کی حدوں سے نکل کر کمرشلائز ہونے لگی تو ہم بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔

یہ ایک کمرشل فارم تھا، جو شاید گورنمنٹ کے زیرانتظام تھا، فارم میں موجود درخت اور پودوں کی شاخوں، پتوں اور تنوں سے مختلف پروڈکٹس تیار کیے جاتے تھے، ہر درخت پر اس کا نام اور خاصیت درج تھا۔

چہرے پر جھریاں ہوں یا چھائیاں، بال گرتے ہوں، جلد سخت ہو چکی ہے، بال گھنے سیاہ کرنے ہیں، قوت باہ بڑھانی ہے، چیچک کے نشان مٹانے ہوں۔۔۔ اور کیا کیا کرنا ہے، سب کا شافی علاج اس فارم میں موجود تھا، فارم منیجر خوش شکل نہ تھا مگر خوش اخلاق تھا، ہمیں تفصیلی بریف کر رہا تھا، بعض درختوں کے حسب نسب تک بتاتا تھا۔

اکثر درختوں کے ساتھ تیار پروڈکٹس کے سمپلز شیشوں کی بوتل یا ڈبوں میں رکھے ہوئے تھے، ایک جگہ ہمارے چہرے پر ایک کریم بھی لگایا گیا، جو جلد نرم کرنے والی کریم تھی، یہ کریم جلد کیسے نرم کر لیتی ہے، تصدیق کے لیے فارم منیجر نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور اپنے بایاں گال پر چپکا لیا، اس کی جلد کافی ملائم تھی، یہ کریم کا کمال تھا یا قدرتی تھا، کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

منیجر کے مطابق سری لنکن خواتین کے بال گھنے، سیاہ اور لمبے ہوتے ہیں، اس کی وجہ انہی درختوں سے نکالے گئے تیل کا استعمال ہے، مزید فرمایا، ہماری پروڈکٹس دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سری لنکا میں جڑی بوٹیوں کی کافی اہمیت ہے۔

قدرت کے ہر شاہکار میں، جمال بھی ہے، کمال بھی ہے، جو آنکھوں کو منظر عطا کرتے ہیں اور جسم و روح کو شفا بخشتے ہیں۔ آرٹیفیشل دنیا کیا جانے قدرت کے مظاہروں میں جمال کہاں ہوتا ہے اور کمال کہاں ہوتا ہے۔ دنیا اپنے مصنوعی پن پر نہ صرف خوش پے، بلکہ اتراتا بھی ہے۔

پوری دنیا مل کر بھی وہ ایک چہک تخلیق نہیں کر سکتی ہے، جو چڑیے کا غرور ہے۔

ہم فارم میں گھوم پھر لیے، اندر ایک چھپر بنا ہوا تھا، تھوڑی دیر وہیں بیٹھے، منیجر نے چائے پلائی یا کچھ اور، یاد نہیں، پھر وہ ہمیں اپنے پروڈکٹس اسٹور لے گیا اور خود رخصت لے لی، وہ اپنا کردار نبھا چکا تھا، اب ہم سیلز مینوں کے حوالے تھے۔

دنیا کے اسٹیج پر ہر شخص کے پاس ایک کردار ہوتا ہے، دانا لوگ اپنا کردار خوب نبھاتے ہیں اور نادان کو آخر تک پتہ نہیں ہوتا کہ اس اسثیج پر اس کا کردار کیا ہے۔ وہ زندگی کو مذاق سمجھتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب زندگی اس کا مذاق اڑانے لگتی ہے۔

دانا نہیں ہو، تو داناؤں کی صحبت میں رہو۔

فارم کے سیلز مین تیار پروڈکٹس ہمارے سامنے رکھتے گئے۔

کریم، تیل، دانتوں کی مضبوطی کے منجھن، اوربھی بہت کچھ تھا، ساری تفصیل ذہن میں نہیں۔۔البتہ سب کچھ نیچرل تھا، ممکن ہے ان کی باتوں میں مبالغہ ہو لیکن ان کے لہجے میں دھوکہ نہیں تھا۔۔یوں تو دھوکہ ہر جگہ ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں دھوکہ بطور آرٹ متعارف ہے، جسے یہ آرٹ نہیں آتا وہ زندگی کی دوڑ میں “پیچھے” رہ جاتا ہے۔

ہمیں یہ آرٹ آتا ہے،
اس لیے ہم زندگی کی دوڑ میں
سب سے آگے ہیں۔

میں گویا ہوا، “ہم تقریبا نصف سفر طے کر چکے ہوں گے۔”

عرفان نے چابی سوئچ میں ڈالتے ہوئے اثبات میں اپنے سر کو جنبش دی۔

ہمیں کینڈی پہنچنے میں مزید کتنے گھنٹے لگیں گے، اس کا انحصار اس پر تھا کہ ہم راستے میں اور کتنے پڑاؤ کریں گے۔

جاری ہے

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *