تامل ٹائیگرز کے دیس میں (دسواں حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

میرے قارئین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ میرے سفر ناموں میں کھانے کا ذکر بڑے اھتمام کے ساتھ کیا جاتا ہے، سو آج کھانے کا ذکر نہیں ہے، دوپہر کو کھانے کےلیے کہیں نہیں رکے، لنچ کی چھٹی ہے، رات کینڈی میں ڈنر ہوگا تو اس میں آپ شریک ہوں گے، یوں بھی سری لنکا میں کھانے کی تلاش میں ہمیں مشکلات رہی ہیں۔

آذر بائیجان کے کھانے لاجواب تھے۔
کیسپئن سی کے کنارے ٹھنڈ رات میں حلق سے اتری وہ تلی ہوئی مچھلی۔۔ذائقے میں اپنی مثال آپ تھی۔
مستنصر تارڑ نے اپنے ایک سفر نامے میں کیسپئن سی میں پائی جانے والی ایک مچھلی کا ذکر کیا ہے جس کے انڈوں سے سینڈوچ (کیوی آر) تیار ہوتا ہے، جو روس کی سستی خوراک کا حصہ ہے۔

tripako tours pakistan

آذر بائیجان کے تہذیبی ماحول میں روایات کی سوہنی خوشبو رچی بسی ہوتی تھی، وسط ایشیاء روایات اور تاریخ کی سرزمین ہے، یہ بات سری لنکا میں بہرحال نہ تھی۔

ہاں ! سری لنکا کا زمینی حسن اس قابل ہے کہ افریقہ اور یورپ تک کے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ اور اس قابل بھی کہ بار بار یہاں کا سفر کیا جائے اور سبزے سے لدی وادیوں میں خود کو کھو دیا جائے۔

کینڈی پہنچنے میں کچھ فاصلہ رہتا تھا، چائے بنانے کی وہ فیکٹری آچکی تھی، جہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق ہمیں رکنا تھا، خوش اخلاق عملے نے خوش آمدید کہا اور ہمیں پتے سے لے کر چائے بننے تک کے مکمل عمل کا عملی مظاہرہ دکھایا اور بتایا گیا۔

چائے کی فیکٹری گھومنے سے قبل چائے کی تاریخ اور اس کی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ اس مشروب سے متعلق کچھ آگاہی ہو۔

چائے، پانی میں ابالے گئے صرف چند پتوں کے ذائقے کانام نہیں ہے بلکہ حلق میں اترتے یہ چند گھونٹ دنیا کی تمام تہذیبوں کا مشترکہ ورثہ ہیں، دنیا میں پانی کے بعد سب سے زیادہ جو مشروب پیا جاتا ہے وہ چائے ہے، چائے کا اصل خالق چین ہے اور اس وقت وہ چائے پیدا کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے، چائے کیسے وجود میں آئی۔۔ایک روایت ہے کہ ڈھائی ہزار سے زائد سال قبل مسیح ایک چینی باشاہ سفر پر نکلا، یہ بادشاہ ہمیشہ پانی ابال کر پیتا تھا اور رعایا کو بھی ہدایت تھی کہ وہ حفظان صحت اور صفائی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر پانی ابال کر پئیں، بادشاہ کےلیے پانی گرم کیا جارہا تھا، کہ تیز ہوا سے کچھ پتے اس ابلتے پانی میں جاگرے، جب بادشاہ نے یہ پانی پیا تو چستی اور توانائی محسوس کی،اور پانی کا رنگ اسے خوش نما اور ذائقہ اچھا لگا، یہ پتے دراصل چائے کے تھے جو ابلتے پانی میں گرے تھے اور یہیں سے چائے کی دریافت ہوئی، چائے کی دریافت کی یہ کہانی کچھ اور انداز میں بھی بیان کی گئی ہے۔

چینیوں کا دعوی ہے وہ پانچ ہزار سال سے چائے استعمال کررہے ہیں۔ 1500 سال سے چین میں چائے کا استعمال تصدیق شدہ ہے۔

برصغیر میں چائے 19 ویں صدی میں آئی جب انگریز سرکار نے چائے پر چین کی اجارہ داری ختم کرنے کےلیے اسے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا، چائے میں چینی اور دودھ کا استعمال بھی ہندوستان ہی سے شروع ہوا۔ برصغیر کے علاوہ دنیا میں شاید کہیں اور دودھ پتی چائے کا کوئی تصور موجود ہو، اگر کہیں ہے تو انڈین یا پاکستانیوں کی ایجاد ہوگی۔

کابل ہو یا باکو، کولمبو ہو یا مالے ( مالدیپ) ہم دودھ پتی کو ہمیشہ ترستے رہے ہیں۔ سفر افغانستان کے دوران جب کنڑ جانا ہوا تو کسی نے بتایا یہاں سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر ایک جگہ ہے جہاں دودھ پتی چائے دستیاب ہے، ہم گاڑی اور چند دوستوں کو لے کر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دودھ پتی چائے صبح بنتی ہے اور ایک دوگھنٹے بعد ختم ہوجاتی ہے، پھر اگلی صبح بنائی جاتی ہے۔

ابوالکلام آزاد چائے کے دلدادہ تھے، وہ خالص چائے پیتے تھے، دودھ اور چینی سے بنائی گئی چائے کو مولانا نے سیال حلوہ سے تعبیر کیا ہے، اپنی ادبی شاہکار تصنیف ” غبار خاطر ” جو جیل میں لکھے گئے ان کے خطوط کا مجموعہ ہے، چائے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ اصل چائے چینی چائے ہے، اور جیل میں جب ان کے پاس چینی چائے ختم ہوئی تو اسے کافی پریشانی کا سامنا ہوا، مجبورا” وہ ہندوستانی پتی جسے انہوں نے جوشاندہ لکھا ہے، پر گزارہ کرتے رہے ہیں۔

مولانا آزاد چار بجے بیدار ہوتے اور چائے کے گھونٹ بھر کر لکھنا شروع کردیتے، مولانا کی چائے میں نہ چینی ہوتی تھی نہ دودھ، مگر ان کی تحریروں میں کمال کی مٹھاس ہے، بے خود کردینے والی مٹھاس۔۔پڑھتے جائیں اور جھومتے جائیں، “غبار خاطر” میں تو یہ مٹھاس شباب پر ہے۔
مولانا بھارت اورسیلون (سری لنکا) کی چائے کا تمسخر اڑاتے اور اسے اصل چائے تسلیم نہیں کرتے تھے۔
“میں چائے کو چائے کےلیے پیتا ہوں،
لوگ چائے کو دودھ اور شکر کےلیے پیتے ہیں”۔
(ابوالکلام آزاد)

چائے میں اپنا مسلک ابوالکلام سے جدا ہے، ہم برصغیر کے سواد اعظم کے پیروکار ہیں۔

سیاست کے ایوان ہوں یا طاقت کے مراکز، ادب کے خاموش گوشے ہوں، یا یاروں کے قہقہوں سے سجی محفلیں، چائے سے ان کو رونق ملتی ہے۔

لاہور پاک ٹی ہاؤس میں چائے کی پیالی کے گرد پاکستان کا تاریخی ادب تخلیق ہوا۔ پاک ٹی ہاؤس ادب کا سمبل بن گیا ہے۔جب میں لاہور گیا تو سب سے پہلے پاک ٹی ہاؤس کو ڈھونڈا اور وہاں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیں، پاک ٹی ہاؤس اپنی پرانی حالت میں تو نہیں ہے مگر اس کے آسمان پر اب بھی انتظار حسین، اشفاق احمد، فیض، احمد فراز، منیر نیازی اور ابن انشاء کی شاہکار تخلیقات کی کہکشاں دمکتی ہے، پاک ٹی ہاؤس کا یہ دور پاکستانی ادب کا سنہرا دور تھا۔

قلم اور چائے ہمیشہ ساتھ ساتھ رہے ہیں، لکھنے والوں کے لیے چائے کا ہر گھونٹ تخلیق کا سامان ہوتا ہے۔

فیکٹری کے داخلی دروازے میں قدم رکھا اندر چائے کی مسحورکن خوشبو تھی، چھوٹے قد، کمزور جسم اور واجبی شکل و صورت کی سانولی سری لنکن دوشیزہ نے استقبال کیا، آخر تک ہمارے ساتھ رہیں، چائے کی تیاری کے ایک ایک مرحلے کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتیں، اردو روانی سے نہیں بول سکتی تھیں مگر اپنا مدعا سمجھانے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔

سب سے پہلے ہمیں فیکٹری کے ساتھ متصل ایک کھیت دکھایا گیا جس میں چائے کے پودے کاشت کیے گئے تھے، پھر فیکٹری میں پڑے وہ پتے دیکھے جو مشین میں جانے سے قبل رکھے جاتے ہیں، چار یا پانچ مختلف مرحلوں سے گزر کر یہ پتے “چائے” کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں، انہی مراحل میں سبز چائے اور کالی چائے الگ کی جاتی ہیں۔ آخری مرحلے میں ہمیں گراؤنڈ فلور میں سجے ٹیبل پر تیار چائے پیش کی گئی جس کا ہر گھونٹ تازگی کا احساس لیے حلق میں اترتا تھا۔۔

جب ہم بغیر خریداری کے فیکٹری سے نکلے تو سری لنکن دوشیزہ کو ہمارے اس رویے سے مایوسی ہوئی اور انہوں نے کچھ ناک بھوں چڑھالی کہ آدھا گھنٹہ ان کے ساتھ مغزماری کی مگر یہ آدھا کلو تک چائے خریدنے کے روادار نہ ہوئے۔

چائے کے کھیت ڈھلوانوں پر بنائے جاتے ہیں تاکہ ان پر پانی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے، پانی زیادہ دیر ٹھہرے تو ان کی جڑوں کو نقصان پہنچتا ہے، چائے کی کاشت سطح سمندر سے جتنی بلند جگہ ہوگی اس میں ذائقے کا معیار اتنا بہتر ہوتا ہے، یہاں بڑی بڑی کمپنیوں نے سینکڑوں ایکڑ ڈھلوان زمینیں خریدی ہیں جو کافی اونچائی پر ہیں، اور ان پر چائے کاشت کی گئی ہے، چائے کے فارمز میں کام کرنے والے زیادہ تر انڈین تامل مرد و خواتین ہیں، چائے کے کھیتوں میں کام کرنے والوں کی زندگی اندھیر نگری ہے، پاکستان کے بھٹہ مزدوروں یا کانکنوں کی طرح دو وقت کی روٹی مشکل سے حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کھیتوں میں چائے کے پتے چننے والے خاندانوں کے پاس اچھی خوراک، اچھی تعلیم اور صحت نہیں ہے۔۔
! یہ ہم جیسے ہیں !

بھوک پھرتی ہے میرے دیس میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بھیٹا ہے۔

سری لنکا چائے پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے۔۔۔چین کے بعد، بھارت دوسرے اور کینیا تیسرے نمبر پر ہے۔

چائے پینے کا سب سے بہترین وقت صبح ہے، جب مرغ کی اذان کانوں میں رس گھول رہی ہو، یا پھر شام کو۔۔۔ جب شفق کی سرخی کی دوشیزگی پر رات کی پرچھائیاں نہ پڑ چکی ہوں۔
ان اوقات میں چائے کے چند گھونٹ زندگی کو بہار آفرین بنا دیتے ہیں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *