عشق سے تیرا وجود۔۔صائمہ بانو

مرمری سے دودھیا جبہ و سیہ عمامہ میں مستور وہ نوجوان کسی عمیق فکر کے زیرِ اثر خود بھی ماحول پر تنے سکوت کا اک ساکن حصہ محسوس ہورہا ہے، اس کی کنپٹی پر نمایاں رگیں یوں تنی ہوئی ہیں کہ جیسے سوچ کی پکی گانٹھ نے انہیں باندھ رکھا ہو، دندان تلے دبے دندان، جبڑوں کے ابھار کو کسی مشاق مصور کی کھنچی لکیروں کی طرح واضح کیے  دیتے تو بھینچی ہوئی مٹھیاں اس کا اپنا ہی کلیجہ مسوسنے پہ مقرر ہیں_ وہ غرناطہ کی ذیشان آفاق چوٹی ملحسن پر کھڑا اپنے سامنے موجود رفیع الشان قصرِ الحمرا کے بیچوں بیچ محوِ استراحت فوارہِ اسد کو تکے جاتا ہے_ فوارہِ اسد جو اپنے مکینوں اور زمانوں کی دریا بُرد ہو چکی تہذیب پر خاموش نوحے پڑھ رہا ہے_
یکایک ہما کے شہپر کی پھڑپھڑاہٹ نے سناٹے کی دبیز تہہ پر جلترنگ رنگ بنفشی گلال مل دیا، جانے یہ بالِ ہما ہے یا بانگِ دِرا، اسی ایک لمحے میں کمان سی تنی ابرو تلے اس کی دمکتی ہوئی پٌر تفکر نگہ کا زاویہ بدلا اس نے اپنے قدموں کے قریب ایک رقعہ دیکھا، ایلچی ہما اس رقعے میں بند “پیام” اپنی چونچ میں دبائے دبائے “مشرق” تک آن پہنچا ہے_ نوجوان رقعہ اٹھانے کو جھکا، تہہ کھول کر کیا دیکھتا ہے کہ وہاں قرطاسِ اسود کو سیہ روشنائی نے خودی و بیخودی کے نور اور رموز و اسرار کی شفق سے سجا رکھا ہے_

اے ابن امیرِ حمزہ!
تیرے آباء و اجداد پر، سلامتی ہو سلام کرنے والوں کی_ تیرے اجداد وہ ہیں کہ جن کی شجاعت کے قصے شاہنامہِ فردوسی کے اساطیر السلاطین سے لے کر ارمغانِ حجاز کے بڈھے بلوچ تک اک ضرب المثل رہے_ اب اٹھ کہ زبورِ عجم تیری خضرِ راہ بنے-
دگر بدشتِ عرب خیمہ زن کہ بزمِ عجم
مے گذشتہ و جام شکستنی دارد
ربِ جلیل القدر تیری پیشانی روشن رکھے_
مسجدِ قرطبہ میں تری آمد کا منتظر-
فقط
زندہ رود

ملحسن کی چوٹی سے اترتے ہوئے روپہلی گرگابیوں میں شکنجہ بند اس کے محتاط قدم جونہی میدان کو چھوتے ہیں تو اسپِ ترکمان “آخال تکہ” کی ہنہناہٹ پر ٹھٹھک کر دوبارہ تھم جاتے ہیں_ وہ پلٹ کر زین تھامتے ہوئے کود کر پائیدان میں پیر ڈالتا ہے اور ایڑ دیتا ہے۔ اسپِ زر اس ایڑ پر مسحور ہے اور اس سے مانوس ہے، نوجوان غرناطہ سے لے کر قرطبہ تلک، یکے بعد دیگرے چوکیاں پھلانگتا چلا جاتا اور دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے نظم مسجدِ قرطبہ کا زیرِ لب ورد کئے جاتا ہے

ای حرمِ قرطبہ عشق سے تیرا وجود

تاآنکہ اسپِ برق رفتار، وادیِ الکبیر کی قدم بوسی کرتا ہے۔ یہ وادیِ الکبیر، جبلِ طارق کی ہم نشین ہے اور ہاں یہ الاندلس کی دلہن، عروس البلاد قرطبہ ہے_ فضا میں کلمہِ طیبہ کی گونج منتشر ہے وہ اپنے نتھنوں سے یہ بوئے طیب و مطہر کھینچتا ہے، اسے کلیجے تک محسوس کرتے ہوئے بے ساختہ مسکرا اٹھتا ہے، تبھی اس کے چہرے کا تناؤ بھربھری ریت کی طرح اعصاب کی مٹھی سے سرکتا چلا جاتا ہے- کرنوں کی ایک قوس اس کی جبینِ روشن پر امیدِ نو کا اجلا سویرا بکھیر رہی ہے۔

مسجدِ قرطبہ کے عین صدر دروازے پہ ایستادہ حکیم الامت سبز پوشاک میں ملبوس اسے دیکھ کر شفقت و رحمت کے کیف سے مسکرا اٹھے_ وہ ایک جست میں اسپِ زر سے کود کر اس کی زین تھامے تھامے آگے بڑھتے ہوئے وفورِ عجز و تکریم سے خمیدہٌ کمر ہوا اور زین وہیں زمین پر چھوڑ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے پیچ حکیم الامت کا ہاتھ تھام کر اسے بوسہ دیا۔

برخوددار! آبنائے جبلِ طارق اپنے پورے آب و تاب سے آپ کے وضو کا منتظر ہے_ یہ کہتے ہی حکیم الامت مسجد میں اندر کی جانب تشریف لے جاتے ہیں_ اپنے پوروں کے روم روم سے وضو کے قطروں کی تاثیر جذب کرتے ہوئے وہ نوجوان مسجد میں داخل ہوتے ہی منبر پر اذان دیتا ہے تو مسجدِ قرطبہ کے در و دیوار ایمان کے سرود و سرور سے جگمگا اٹھتے ہیں_
حکیم الامت کی امامت میں نمازِ عصر کی ادائیگی اور تسبیحات سے منور ہونے کے بعد اس کی نگہ اٹھتی ہے تو دیکھتا ہے کہ حکیم الامت اپنا رخ دائیں جانب موڑتے ہوئے گویا ہیں_
اے ابن امیرِ حمزہ!
اب ہم آبنائے جبلِ طارق سے آبنائے فاسفورس تک سفر کریں گے اور ہماری منزل وہ مبارک سر زمین ہے کہ جس کی گود میں ایک وادی سجی ہے اور اس کی چھاتی پر سات پہاڑیاں کھڑی ہیں اور ہر پہاڑی کی چوٹی پر ایک مسجد بسی ہے- وہ مساجد ہماری جبینوں اور اذانوں کی منتظر ہیں_ وہاں مولینا جلال الدین روم ہماری راہ دیکھتے ہوں گے، کیا آپ جانتے ہیں کہ وہیں سخن سازوں کے جھرمٹ میں آپ کی رسمِ تاج پوشی کا جشن منایا جائے گا، آپ کو سخنوری کا قلم دان عطا ہو گا اور خیال و فکر کی جاگیرِ احتشام بخشی جائے گی_

یہ ہے محرمِ جلوت کدہ
سلطنتِ بازنطیم کا مرکزہ
حجرہً بحیرۂ اسود و مرمرہ
ہفت الجبال پر جا بجا بسا
دو فقید النظیر بروں میں بٹا
مقامِ ابعد پہ سجا
ملکة المُدٌن
قسطنطنیہ

زمان و مکان کی قید سے آزاد, قربتوں میں جاوید و جاوداں اور فاصلوں میں سرمد و مقربِ خدا_ وہ دو سپہِ سالارِ قلم و سخن، شاخِ زریں کی بندر گاہ پہ اترتے ہیں تو فاسفورس کے جنوبی ساحلوں پر آبِ اسود و آبِ مرمرہ مضطرب و بیکراں، کروٹیں بدلتے ہوئے ایک دوجے میں ضم ہوئے جاتے ہیں اور یہیں وہ دونوں پہلی چوٹی پر نمازِ فجر ادا کرتے ہیں پھر چوٹی در چوٹی مسجدِ سلطان احمد سے کوہِ مرمرہ تلک ایک ایک نماز ادا کرتے ہوئے ایک دوجے کی معیت میں ڈیڑھ روز گزارتے ہیں_ آج نمازِ عصر کے بعد مولینا جلال الدین روم اس نوجوان کو خلعتِ عشق اور حسام القلم عطا فرمائیں گے_

عزیز مہران!
عمر کی اس ریشم ڈور میں اک نئے سال کی گرہ باندھنے پر ہماری تہنیت قبول فرمائیے۔ آپ کی رسمِ تاجپوشی کی قلم بندی ہم پر ادھار رہی_

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *