تین مختلف اشخاص کی تین مختلف کیفیات ملاحظہ فرمائیے, ایک وہ شخص ہے جو سمندر کے کنارے یا پھر کم گہرے پانی میں کھڑا بدن کے نچلے حصے کو بھِگو رہا ہے، یہ شخص تیراکی نہیں جانتا، اس لیے سمندر← مزید پڑھیے
کہانی کا آغاز آدم و حوا, بلکہ بنی نوعِ انسان، کے سقوطِ قسمت سے ہوتا ہے۔ اس اصطلاح ” سقوطِ قسمت “میں ہی کہانی کے تمام راز پنہاں ہیں۔ جب آدم اور حوّا نے معرفتِ خیر و شر کے مآخذ،← مزید پڑھیے
لبرل ازم لاطینی زبان کے لفظ, liberalis, سے ماخوذ ہے، جس کے لفظی معنی آزاد، یا آزادی کے ہیں، معروف العام معنی میں یہ اصطلاح اس فکری تحریک کیلئے استعمال ہوتی ہے، جس کی بنیاد میں انفرادی اقدار و آزادئ← مزید پڑھیے
اگرچہ انسان کی دونوں جنسوں (مرد و زن ) کا ارتقائی مقصد ایک ہی ہے، بقا اور افزائشِ نسل، لیکن ثانئ الذکر کے حوالے سے دونوں کے پاس امکانات یکسر مختلف ہیں۔ مرد کیلئے افزائش کی استعداد تقریبا لامحدود ہے،← مزید پڑھیے
ماہرِ نفسیات نے اپنے چہرے پر حیرت کے تآثرات کو مزید گہرا کیا اور سامنے بیٹھے مشہورِ زمانہ ادیب و شاعر، عالمگیر شناس، کو سوال داغا۔ تو آپ کی بیوی نے آپ پر چھری سے حملہ کرنے کی کوشش کیوں← مزید پڑھیے
قسمت کے متعلق ہر شخص کی اپنی ایک رائے ہے، زیادہ تر افراد قسمت کے کھیل کو جبر سمجھتے ہیں کہ ان کی قسمت کے فیصلے آسمانی دنیاؤں میں پہلے سے طے ہیں اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ مذکورہ← مزید پڑھیے
علم الانسان کے ماہرین تن فروشی کو قدیم ترین پیشہ بتلاتے آ رہے ہیں، اور ایسا ہے بھی، پہلے پہل یا تو کسی خاتون نے مجبوری کی حالت میں کسی مرد سے اجرت لے کر اس پیشے کی شروعات کی،← مزید پڑھیے
آزادئ اظہارِ رائے یہ نہیں کہ آپ کسی چوک پر کھڑے ہوکر سیاستدانوں کے خلاف دل کی بھڑاس نکال سکیں، حقیقی آزادی کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر کی آواز، آپ کا فن، آپ کا ٹیلینٹ اور آپ کی← مزید پڑھیے
جس دور سے ہمارے اجداد نے اپنی کہانیاں اور رودادِ زندگی کے خاکے غاروں کی دیواروں اور پتھروں پر بنانے شروع کئے، گویا کہ وقت کی سوئی کے ناکے سے تہذیب و فن کا دھاگہ گزارنے کی سعی کر رہے← مزید پڑھیے
کمپلیکس صرف احساسِ کمتری ہی نہیں، احساسِ برتری بھی اسی کی شاخ ہے، بلکہ یہ دونوں احساسات ایک ہی شاخ کے دو کونے ہیں۔ کسی بھی کمپلیس کی بنیاد اپنی ظاہری یا باطنی خصوصیات کا دوسروں کی خصوصیات سے موازنہ← مزید پڑھیے
زندگی کے بہاؤ میں فرر کیسے قریب الوقوع حادثات کو محسوس کرتے ہوئے خود کو ان سے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ کائنات اس زمین پر بسنے والے ہر ذی شعور وجود کو مستقبل کے اشارے دیتی رہتی ہے اگرچہ← مزید پڑھیے
ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اس سوال پہ غور کیجئے کہ ایک ایسا عام آدمی کس طرح دولت مند بن سکتا ہے جس کا جنم کسی کچی بستی میں ہوا ہو ؟ ایک راستہ بدمعاشی کا ہے، جس کی عام آدمی← مزید پڑھیے
ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہیں، ان اقدار کی بنیاد سماج و تہذیب کی تاریخ اور مذہب و اخلاقیات کے طے کردہ دائرے ہیں، معاشرے میں جہاں مباحات یعنی جائز امور کی ایک طویل فہرست ہے وہیں ممنوعات بھی تعداد← مزید پڑھیے
انسان خود کو اور دنیا کے مظہرِ خارجی کو بطور مادّہ محسوس کر تا ہے، لیکن مادے کی یہ تمام اقسام اپنے اندر جوہرِ توانائی کا راز رکھتی ہیں، جسے حواسِ خمسہ کے ذریعے محسوس نہیں کیا جا سکتا، ایبسٹریکٹ← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط: ریاضی کے فارمولے سے اس بات کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، مثلا ً اگر خوشی کے ان یارمونز کی سب سے بلند سطح کو دس نمبر دئیے جائیں تو کچھ لوگ جینیاتی طور پر ان ہارمونز← مزید پڑھیے
آغاز میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں(سوائے ایک کے) اور جتنے بھی فلسفہ ہائے زندگی ہیں (سوائے ایک کے)، یہ سب خوشی کی تعریف میں انسان کے احساسات کے قائل نہیں، بلکہ یہ← مزید پڑھیے
انسان کی اصل حقیقت، اس کا وجود، اس کی ہستی ہے اور اپنے ہی وجود تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا اپنا دماغ ہے، یہ بات مخلتف مذاہب نے اپنے اپنے رنگ میں انسان تک پہنچانے کی← مزید پڑھیے
قدیم یونانیوں کے مطابق انسانی روح دو حصوں میں منقسم ہے، ایک حصہ وہ خزانہ ہے جو خدائی وجدان سے بھر پور ہے، اسی کا نام تخلیقی صلاحیت ہے، اور دوسرا حصّہ اس خزانے یا صلاحیت کے اظہار کیلئے وقف← مزید پڑھیے
توہمات اور ایمان بظاہر ایک دوسرے کا متضاد ہیں، جہاں ایمان کا بسیرا ہو وہاں توہمات کیلئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ اگر اس سادہ سے جملے پر یقین کر لیا جائے تو نتیجتاً ایمان کے دعویدار کسی بھی قسم← مزید پڑھیے
انسانی ذات سات بنیادی ضروریات یا مطالبات کے گرد لپٹی ہے، یہ سات بنیادی ضروریات (مطالبات) – وجودِ فرد (ہونا )، عزتِ نفس ، خود انحصاری ، مظہرِ ذات ،احساسِ ملکیت ، سلامتی اور روحانیت ہیں، اس ہفت نکاتی نظام← مزید پڑھیے