رہنما ستارہ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

زندگی کے بہاؤ میں فرر کیسے قریب الوقوع حادثات کو محسوس کرتے ہوئے خود کو ان سے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ کائنات اس زمین پر بسنے والے ہر ذی شعور وجود کو مستقبل کے اشارے دیتی رہتی ہے اگرچہ اس بارے حتمی نتائج نکالنے سے انسان قاصر ہے ، عموما رائج الوقت علائم کو ہی الہامی اشاروں سے تعبیر کیا جاتا ہے، جنہیں عرفِ عام میں توہمات یا شگون سمجھا جاتا ہے ، یہ علائم مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی، روایات یہی ہیں کہ قوسِ قزاح کو دیکھا تو مطلب کچھ اچھا ہونے جا رہا ہے، اگر کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہے تو فرد کو کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ شگون یا توہمات انسان کے کئی صدیوں کے مشاہدے کا نتیجہ ہیں، لوگ مستقل ایک دوسرے سے اپنے تجربات بانٹتے ہیں ،اگر تو اکثریت کو ان اشاروں کے نتائج ایک جیسے ملے تو ایک منظم رائے قائم کر لی جاتی ہے، اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ایک جیسے علائم ہمیشہ ایک سے نتائج نہیں دیتے ۔ کالی بلی کے راستہ کاٹنے ہر فرد چاہے اسے توہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کرے لیکن اکثریت کی دقیانوسیت فرر کے لاشعور پر اپنی پرچھائی ضرور ڈالتی ہے، فرد خود کو پڑھا لکھا، باشعور اور ایک خدا پر ایمان لانے کی یقین دہانی کرانے کی کوشش کرتا ہے، ہر صورت میں اعتماد کے توازن کے ڈگمگانے کا اندیشہ موجود رہتا ہے، فرر کے ذہن میں اٹھتے سوالات اس کے شعور کو شکوک کی سطح پر لے آتے ہیں اور جس سے انسان بچنا چاہ رہا ہوتا ہے اس کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
شگون یا علائم کی بذاتِ خود اپنی کوئی حیثیت یا اہمیت نہیں، آخر بیچاری کالی بلی کا کیا قصور ہے کہ اس کے راستہ کاٹنے سے فرد کسی مصیبت میں گھِر سکتا ہے ؟ یہ تاثیر کالی بلی کی نہیں بلکہ آپ کے ان توہماتی رویوں کی ہے جو آپ نے پروان چڑھا رکھے ہیں، اگر آپ ان شگونوں پر یقین رکھتے ہیں تو یہ شگون آپ کی زندگی کے واقعات کی تشکیل میں اپنا کردار دکھائیں گے، اگر تو آپ ان توہمات پہ یقین نہیں رکھتے لیکن پھر بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو شگون کا اثر کمزور ضرور پڑے گا لیکن مکمل معدوم نہیں ہوگا، اور اگر آپ ایسے توہمات سے بالکل پاک ہیں اور ایسی چیزوں پر توجہ نہیں دیتے تو یہ شگون آپ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔
انسان کی زندگی کے پیرامیٹرز مختلف سطحوں پہ بدلتے رہتے ہیں، سماجی، معاشی، فزیکل، شعوری پیرامیٹرز کا اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں،جنہیں ہم تبدیلی سے تعبیر کرتے ہیں، یہ تبدیلی فرد کیلئے اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی، فرد اگر توجہ سے مشاہدہ کرتا رہے اور شعور کی آنکھ کھلی رکھے تو ان پیرامیٹرز کی تبدیلی سے پہلے وہ ان اشاروں کو شعوری یا لاشعوری طور پر محسوس کر سکتا ہے جو کائنات سرگوشی کی صورت اسے بتاتی رہتی ہے، کچھ لوگ بہت آسانی سے مستقبل میں آنے والے واقعات کو محسوس کر لیتے ہیں، ان کے بارے عموما ہم یہی کہتے ہیں کہ ان کی چھٹی حِس بہت تیز ہے، ان کی یہ حِس اسی وقت بیدار ہوتی ہے جب فرد زندگی کےپیرامیٹر پر ایک خط سے دوسرے خط کو عبور کر رہا ہوتا ہے یعنی کسی تبدیلی کے عندیے کو محسوس کر رہا ہوتا ہے۔
قریب آتی تبدیلیوں کے اشاروں کی تشریح کرنا ایک مشکل کام ہے، کوئی بھی فرد اپنے من میں اٹھتی گھبراہٹ یا حالتِ سکون کو لے کر پورے یقین سے کوئی پیش گوئی کرنے سے قاصر ہے، حتی کہ اعتماد کے ساتھ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کی توجہ کھینچتے کوئی انجان مظاہر آپ سے کیا کہنا چاہتے ہیں، بس اتنا ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ کائنات آپ کو کچھ بتانا چاہ رہی ہے، ایک عام فرد اگر ان اشاروں سے اپنے لئے ، ہاں یا نہ، کے دوٹوک جوابات ہی نکال لے تو سمجھیں کہ وہ ان اشاروں کو پا گیا مثلا ً
یہ ہو سکے گا یا نہیں؟
مجھے یہ کرنا چاہئے یا نہیں ؟
اچھا ہوگا یا برا ؟
اس میں خطرہ ہے یا نہیں ؟
وغیرہ
یعنی کہ اشاروں کی مثبت یا منفی تشریح، اس سے زیادہ کا عام انسان حامل نہیں۔
ان کائناتی اشاروں کا سب سے پہلا مقصد آپ کو غفلت سے بیدار کرنا ہے کہ آپ کے عمل کی سمت آپ کیلئے گھاٹے کی وجہ بن سکتی ہے، سماجی یا ذہنی دباؤ میں فرد غلط سمت کا انتخاب کر سکتا ہے اور یہی اشارے اسے صراطِ مستقیم پر لانے کیلئے رہنما ستارے کا کام کرتے ہیں۔
ان کائناتی اشاروں میں سب سے طاقتور اشارہ وہ جملہ ہے جو کسی فرد کی زبان سے فی البدی نکلا ہو، بغیر سوچے سمجھے، بغیر کسی تمہیدی غورو فکر کے، غیر ارادی طور پر، بے ساختہ۔ اگر آپ کو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی رائے یا مشورہ دیا جا رہا ہے تو آپ اسے نظر انداز کر سکتے ہیں، لیکن کسی قریبی شخص کی زبان سے نکلے بے ساختہ جملے کو، جس میں آپ کو کچھ کرنے یا نہ کرنے کا کہا گیا ہو، ہمیشہ سنجیدگی سے لینا چاہئے۔
زبان سے بے ساختہ نکلا جملہ وہ ہے جو کسی غوروفکر کے تردد بغیر کیا گیا ہو، ایسے ہی جیسے آپ کسی شخص کے سوال پر فورا جواب داغتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے، گویا کہ جواب آپ کے لاشعور کی کسی تہہ میں پہلے سے موجود تھا اور عقل کی مشین کو بائی پاس کرتے ہوئے وہ جواب سیدھا آپ اپنی زبان پہ لے آئے ۔
ایسے بے ساختہ جملے انسان کی زبان پر اس وقت آتے ہیں جب انسانی عقل یا تو اونگھ رہی ہو یا پھر اس کی توجہ کسی اور طرف ہو۔ عقل اونگھ رہی ہوتو روح ہمکلام ہوتی ہے، اور روح کا تعلق براہِ راست ان کائناتی طاقتوں سے ہے جو آپ کی زندگی کے فیصلے کرتی ہیں۔
عقل ایک سخت گیر آمر ہے ، اسی لئے اپنے ہر کئے گئے فیصلے پر عقل سینکڑوں دلیلیں دے سکتی ہے، لیکن اگر کسی بھی فیصلے پر ایک اندرونی گھٹن یا بے چینی آپ محسوس کرتے ہیں تو جان لیجئے کہ روح یا لاشعور اس فیصلے سے متفق نہیں، روح کی اس بےچینی کو محسوس کرنا مشکل نہیں، مشکل بروقت اس پہ توجہ دینا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply