باپ - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 2 )

مہندی۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

تیسرے روز بھی وہی حال تھا اس نے اپنی  گود میں رکھی  کدال کو فٹ پاتھ کے ایک طرف رکھ دیا اور اپنے شانوں پر موجود چادر سے  ماتھے کو صاف کرنے لگا جو سڑک پر چلتی  گاڑیوں کے دھوئیں←  مزید پڑھیے

ہم جو والدین ہیں ۔۔۔روبینہ فیصل

میرا پچھلا کالم” شادی “۔۔  شادی۔۔۔۔ روبینہ فیصل سوچ کی ایک کھڑکی کھولنے کی کوشش تھی ۔ وہ ایک بچی کا اندرونی کرب تھا جو کینیڈا جیسے ملک میں رہتے ہو ئے بھی اس گھٹن کا شکا ر تھی جو←  مزید پڑھیے

بابا کی لاڈلی۔۔۔۔ہاشم چوہدری

کل رات چاند کی جانب دیکھا تو چاند  لالی اوڑھے،اداسی  میں ڈوبا ہوا نظر آیا ۔۔بڑی حیرت ہوئی کہ اتنے روشن چہرے پہ افسردگی۔ نہ جانے یہ کس بات کا شگون ہے خدا خیر ہی کرے۔ نہ جانے یہ کس←  مزید پڑھیے

والدین کی ہماری زندگیوں میں اہمیت ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

اسلام وہ دین ہے جس نے والدین کے حقوق اور اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا ۔ یہاں تک کے نماز کی سب سے اہم اور احتتامی دعا میں بھی ان کی اور تمام مومنوں کی یوم حساب کے←  مزید پڑھیے

جہیز۔۔۔ اس رسمِ بد نے معصوم کلیوں کو کچل ڈالا/انشا پرواز

جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے۔ اس لعنت نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب چھین لئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

قلم کی نوک پہ رکھوں گی اس جہان کو میں /خواب سے حقیقت تک – سعدیہ سلیم بٹ /قسط3

گریجویشن کی ابتدا تھی۔ کچھ دوستوں کی شادیاں طے ہوئیں ۔ کچھ اچھا لگا۔ کچھ عجیب لگا۔ اچھا کیوں لگا، یہ معلوم نہیں۔ شاید ناولوں میں جو پڑھ رکھا تھا، اس کا اثر تھا۔ عجیب اس لیئے لگا کہ ناولز←  مزید پڑھیے

ریشم ۔۔۔۔۔ رخشندہ بتول/افسانہ

میں اس کچی نالی والی گندی مندی گلی کے آخری مکان تک پہنچا تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ہمیشہ کی طرح بغیر دستک دیے میں اس بوسیدہ پردے کو ہٹا کر اندر داخل ہوگیا۔ وہ سامنے برآمدے میں ہی پرانے←  مزید پڑھیے

زمزمہ – قلم کی نوک پر رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ/حصہ دوم

خواب بُننے کی عمر: ہم اس دور کے بچے ہیں جب اماں ابا سیدھے سادھے تھے اور ان کا رعب بھی ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے بچپن میں سرخی پاؤڈر کی بھی اجازت نہیں تھی۔ انٹر تک ایڑی والا جوتا بھی←  مزید پڑھیے

زمزمہ – قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

لکھنا میرا پہلا شوق تھا۔ میں نے بچپن میں کھلونوں کی جگہ پینسل سے کھیلا ہوا ہے ۔ اداسی ہوتی، خوشی ہوتی یا ناراضی ہوتی، میرا کتھارسس لکھنے میں ہی تھا۔ لیکن میں کبھی اپنے آپ کو مبالغے میں نہیں←  مزید پڑھیے

باپ نعمتِ خداوندی ہے۔۔۔۔میاں نصیراحمد

باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 3۔۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

گھٹیا افسانہ نمبر 1۔۔۔۔فاروق بلوچ گھٹیا افسانہ نمبر 2۔۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ ابھی تو محفل گرم ہو رہی ہے. شراب آدھی باقی ہے. چرس کے بیسیوں سگریٹ پیے جا چکے ہیں. شوگران میں سردی نے اَت مچا رکھی ہے. آگ کا←  مزید پڑھیے

کیسی محبت۔۔۔۔ فوزیہ قریشی

“تم مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟ میرے گھر والے پریشان ہونگے۔۔۔۔” خدارا میرے ہاتھ پاؤں کھولو، روکو گاڑی، روکو نہ۔۔۔۔۔۔پلیز تمہیں اللہ کا واسطہ ۔ سُنتے کیوں نہیں بہرے ہوگئے ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔کیا چاہتے ہو؟ میرے پیچھے کیوں پڑے ہو؟←  مزید پڑھیے

جائیداد۔۔۔۔اسامہ ریاض

آج بڑے خوش لگ رہے ہو حمید خیریت تو ہے نا ۔ ہاں ہاں۔۔ یہ لو پہلے میٹھائی کھاؤ  پھر بتاتا ہوں۔ بڑے بھائی اور بھابی کا تو تمہیں پتا ہی ہے، کمبخت کہیں کے۔ ساری جائیدار اپنے نام کروانا←  مزید پڑھیے

کمرہ نمبر 6۔۔۔۔۔۔اسامہ ریاض

ہسپتال کی دوسری منزل کے کمرہ نمبر ۴ سے آواز آئی ’’ماشااللہ بیٹا پیدا ہوا ہے‘‘۔ ایک تیسرا ہجوم تالیاں بجاتا ہوا کمرے میں داخل ہو کر مبارکباد دینے لگا۔ اُن کی تواضع میٹھایوں اور پیسوں سے کی گی۔ تبھی←  مزید پڑھیے

تسلی بخش مرمت۔۔۔سیٹھ وسیم طارق

” لٹ کے کھا گئے نیں ،  بیڑہ غرق کر کے رکھ دتا اے ملک دا ” بابا جی نے پگڑی کو سنبھالتے ہوئے ساتھ بیٹھے ہم عمر بابا سے یہ بات کہی۔ آواز اتنی اونچی اور غصیلی تھی کہ←  مزید پڑھیے

اپنا گھر ،ہندی کہانی۔۔۔ دیوی نانگرانی/عامر صدیقی

زندگی ایک طویل کہانی ہے، جس میں جھلساتی دھوپ بھی ہے، گھنی چھاؤں بھی ہے، اس کے پھیلے سایوں میں خوشی، غمی کے تانے بانے سے بُنی داستانیں بھی ہیں۔ یہ داستانیں کبھی ان سایوں سے بھی طویل ہو گئی←  مزید پڑھیے

ایک مزدور کا خواب۔۔۔سبطِ حسن گیلانی

میں بارہ سال کا تھا اور ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا جب والد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا ۔ وہ شہر میں چلنے والی ہائی ایس کے ڈرائیور تھے ۔ صبح  منہ اندھیرے کام کے لیے گھر سے نکلتے تھے ۔←  مزید پڑھیے

سیاہ تتلی۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ چار سال کی تھی جب اسے ماں سے پہلا تھپڑ پڑا ۔ وہ کچھ دیر روئی، سنبھل گئی! سرخ گال بھی کچھ دیر بعد اپنی اصل رنگت میں آ گیا۔ تکلیف رفع ہو گئی، نفرت اس بچی کے گال←  مزید پڑھیے

گھر جاندی نے ڈرنا۔۔۔شہزاد حنیف سجاول

یہ 19 دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح ہے ہلکے ہلکے بادل،تیز ہوا اور کبھی کبھی آسمان کی کوکھ سے ٹپکتی بوندیں۔ جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا تو چشم تخیل میں یادوں کے پے در پے دریچے کھلتے چلے←  مزید پڑھیے

قتلِ ناحق۔۔۔عمران حیدر

نوٹ:آج عمران حیدر کی پہلی برسی ہے۔مکالمہ گروپ عمران حیدر کو آج بھی اسی طرح یاد کرتا ہے،اور اُن کے لیے دعا گو ہے کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔آمین! میرا قتل ہوا تھا۔۔۔←  مزید پڑھیے