کیسی محبت۔۔۔۔ فوزیہ قریشی

“تم مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟
میرے گھر والے پریشان ہونگے۔۔۔۔” خدارا میرے ہاتھ پاؤں کھولو، روکو گاڑی، روکو نہ۔۔۔۔۔۔پلیز تمہیں اللہ کا واسطہ ۔
سُنتے کیوں نہیں بہرے ہوگئے ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔کیا چاہتے ہو؟
میرے پیچھے کیوں پڑے ہو؟

چُپ کرتی ہو یا نہیں بس تھوڑا ہی سفر رہ گیا ہے۔آج تمہیں میں یقین دلا دوں گا،میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں ؟

کونسی محبت؟ “وہ چیختے ہوئے بولی”۔
عزت کرنا تو سیکھو پہلے۔
آج تم نے میری عزت داؤ پر لگا دی ہے اور بات محبت کی کرتے ہو۔۔۔۔کیا گزر رہی ہوگی میرے گھر والدین پر اِس وقت؟ایک پل کو بھی نہیں تم نے سوچا۔۔۔۔۔
ہاں!! تم کیوں سوچو گے؟جسے اپنے سوا کسی کی فکر نہیں۔آج کے بعد میں کسی سے نظریں ملا کر بات نہیں کر سکوں گی۔کاش میں پیدا ہوتے ہی مرجاتی۔۔کس کس کو صفائیاں دوں گی میں؟
کون یقین کرے گا میرا؟اماں ،ابا بھی کیا سوچیں گے؟۔۔  نہیں، نہیں وہ ایسا نہیں سوچ سکتے،ان کو مُجھ پر مان ہے۔آج تم نے وہ مان بھی توڑ دیا۔۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی،، کبھی بھی نہیں۔

چلو نکلو وہ اس کے پاؤں رسیوں سے آزاد کرتے ہوئے۔۔
نہیں نکلوں گی۔۔
کیا کرلو گے؟
چھوڑو میرا بازو۔
ہاتھ نہیں لگاؤ مجھے، مت چھوؤ۔
وہ اس کو بازو سے دھکیلتا ہوا پہاڑ کی چوٹی تک لے آیا۔۔۔۔۔۔
پھر اس کے پاؤں میں گر گیا۔
آج تم میری محبت کو قبول نہیں کیا تو میں اس چوٹی سے کود کر جان دے دوں گا۔
پھر تمہیں یقین آئے گا میں تم سے کتنی محبت کرتا تھا؟

ہٹو پیچھے تم نے میری زندگی پہلے ہی عذاب بنادی ہے۔۔۔۔۔
مجھے تم سے محبت نہیں اور اب تو تمہاری شکل سے بھی نفرت ہوگئی ہے۔۔۔میری طرف سے مرو یا جیو۔تم نے آج مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔میں بے قصور ہوکر بھی بدنامی کا یہ داغ کبھی مٹا نہیں سکوں گی۔

گاڑی اب یہاں سے کافی دور تھی۔۔۔۔۔۔۔
اک خوف کی فضا چاروں طرف تھی جیسے کچھ ہونے والا ہو۔۔۔شام ہونے کو تھی۔دل ڈُوب رہا تھا۔۔۔۔۔وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی کیا کرے؟
دل و دماغ مکمل مفلوج ہو چکے تھے۔
اِک انجانے خوف میں مُبتلا یہی سوچ رہی تھی کہ کیا ہونے والا ہے؟
اگلے ہی لمحے عمار تیزی سے اُٹھا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔

اک چیخ کی آواز نے اسے بھی چونکا دیا۔۔۔۔
اب اس کے آس پاس کوئی نہ تھا ۔ کوئی نہیں ۔۔۔۔
وہ چوٹی کے اُس جانب دوڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمار، عمار،عمار۔۔۔۔۔ رکو، پاگل مت بنو ۔۔۔۔۔
لیکن!! کافی دیر ہو چکی تھی۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *