تسلی بخش مرمت۔۔۔سیٹھ وسیم طارق

” لٹ کے کھا گئے نیں ،  بیڑہ غرق کر کے رکھ دتا اے ملک دا ” بابا جی نے پگڑی کو سنبھالتے ہوئے ساتھ بیٹھے ہم عمر بابا سے یہ بات کہی۔ آواز اتنی اونچی اور غصیلی تھی کہ گاڑی میں بیٹھے تمام لوگ بابا جی کی طرف متوجہ ہوگئے۔ بابا جی گاڑی میں موجود لوگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بلا جھجک بولتے جا رہے تھے” یہ سڑک کا ہی حال دیکھ لو جگہ جگہ کھڈے پڑے ہیں لوگ آئے روز مرتے ہیں لیکن کسی کو پرواہ ہی نہیں سیاستدان صرف اپنی جیبوں کو ہی بھرنے میں لگے ہیں ” بابا جی پسرور سیالکوٹ روڈ کی بات کر رہے تھے جس پہ ہماری گاڑی رواں دواں تھی یہ روڈ عرصہ دراز سے سیاسی نمائندگان کی عدم توجہی کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا ایک جوان آدمی بولا کہ بابا جی یہ دیکھو یہاں پہ حکومت سڑک کی مرمت کا کام کروا رہی ہے ۔ بابا جی نے اپنے تجربہ کی بنیاد پہ عورتوں کی موجودگی کو پس پشت ڈال کر پنجابی زبان کے ایسے ناپید الفاظ استعمال کیے کہ ہر کوئی منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہا ہائے کہنے لگ گیا ،ساتھ ہی بابا جی نے کہا کہ یہ جو مرمت کر رہے ہیں دو دن بعد یہ پھر خراب ہو جانی ہے۔ ناک سے پونچھ کر گال پہ لگانے والی بات ہے۔ سڑک مرمت کی بجائے ان مرمت کرنے والوں کی مرمت ہونی چاہیے۔ یہ جو مرمت اب ہو رہی ہے اگر اس وقت کی جاتی جب سڑک پہ پہلا کھڈا بنا تھا تو آج یہ سڑک ٹھیک ٹھاک ہوتی۔ گورنمنٹ کا جو بھی منصوبہ بنتا ہے وہ مرمت کی کمی کے پیش نظر دو یا تین سال کے بعد ناپید ہو جاتا ہے۔ یہ سرکاری بسوں کا ہی حال دیکھ لو کھڑکیوں میں شیشے کی جگہ گتہ لگا ہوا ہے۔ ایک دفعہ جو بنا دی اس کے  فوٹو سیشن کے بعد اس کی طرف کوئی دیکھتا ہی نہیں۔ وہ سڑک چاہے اگلے دن ہی سیلاب کی نذر ہو جائے کوئی بھی سرکاری نمائندہ دوبارہ اس راستے نہیں گزرے گا۔ پھر پانچ سال بعد چکر لگے گا تو دیکھے گا کہ یہ کیا حال ہو گیا ہے ۔ پھر مرمت کے نام سے قومی خزانے کو ٹٹولا جاتا ہے۔ چار روپے جیب میں ڈال کر اور ایک روپیہ کی مرمت کروا کے اہل علاقہ پہ احسان کر دیا جاتا ہے اور پھر پورے دو مہینے اس احسان کو جتلا کر اگلے پانچ سال کیلئے کرسی پہ براجمان ہو جاتے ہیں۔

مولا جٹ ایک سیاسی فلم۔۔۔محمد عامر رانا

باقی لوگ تو بابا جی کے ناپید الفاظ سن کر اپنی ہم سفروں کے ساتھ سرگوشیاں کرنے میں مصروف ہو گئے تھے لیکن میں ٹھہرا کنوارہ اس لیے بابا جی کی باتیں سنتا رہا۔ آخرکار بابا جی نے بھی یہ سوچ کر چپ سادھ لی کہ جب ان کو کوئی پرواہ نہیں تو مجھے کون سے ہلکے کتے نے کاٹا ہے جو میں بولتا جا رہا ہوں۔ بابا جی تو چپ ہو گئے لیکن میرا ابھی آدھے گھنٹے کا سفر باقی تھا اس لیے بوریت کو ختم کرنے کیلئے میں نے بابا جی کی حوصلہ افزائئ کیلئے ایک جملہ دے مارا کہ بابا جی یہ تو پھر سرکاری لوگ ہیں ان کے علاوہ صحیح طرح مرمت تو وہ بھی لوگ نہیں کرتے جنھوں نے اپنی دکان کے اوپر لگے بورڈ پہ واللہ خیر الرازقین کے ساتھ یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہاں پہ گاڑیوں  کی مرمت کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ پھر باقی کے تمام راستے میں اپنے علم کے خزانے میں پنجابی کے ان ناپید الفاظ کیلئے جگہ بناتا رہا جو کہ بابا جی ایسے دکان والوں کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہوئے استعمال کر رہے تھے۔

گاڑی اڈے  پہ پہنچ چکی تھی لیکن بابا جی ابھی تک خاموش نہیں ہوئے  تھے خیر ! بابا جی نے خاموشی اختیار کی اور گاڑی سے نیچے اترگئے، میں بھی بابا جی کے پیچھے گاڑی سے نیچے اترا اور دیکھا کہ بابا جی اڈے  میں موجود چائے  کے کھوکھے (ٹی سٹال) پہ جا بیٹھے تھے۔ میں بھی سیدھا بابا جی کی بغل میں جا بیٹھا۔ بابا جی کو چائے کی دعوت دی جو کہ انھوں نے قبول کر لی۔ دو چائے کپ کی آواز لگا کر میں بابا جی سے مخاطب ہو گیا۔

بابا جی آپ یہاں کیوں بیٹھ گئے ہیں گھر نہیں جائیں گے ؟؟

او پتر میرے، گھر تو سب نے جانا ہے لیکن دو گھڑی سکون کر کے ہی گھر جاؤں  گا اب۔ ویسے بھی گھر اب میرا گھر تو رہا نہیں۔ میرے گھر پہ تو چڑیل جیسی بہو نے قبضہ جما رکھا ہے۔ اک منٹ وی سکون نئیں  لینے  دیتی۔ اسی لیے یہاں ذرا بیٹھ گیا ہوں۔

میں نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا کہ  بابا جی میں نے کبھی بھی کسی سسر کے منہ سے اپنی بہو کیلئے چڑیل جیسے الفاظ نہیں سنے ہاں البتہ جیلسی میں عورتیں ایک دوسرے کو ایسے نام سے اکثر غائبانہ یاد کرتی رہتی ہیں۔

او پتر چڑیل ہی ہے وہ ۔۔۔ میرا گھر کھا گئی ہے۔ بچے بھی اس کی ہی طرح کے ہیں، کہا مانتے ہی نہیں ۔۔۔ پتر میرا چھوٹا سا کاروبار چلاتا ہے   اور میں روزانہ دیہاڑی لگانے کی خاطر دکانوں پہ جا کر ہول سیل پہ پاپڑ بیچتا ہوں ۔۔۔ اللہ کا شکر ہے دو تین سو کما لیتا ہوں۔

میں نے  پوچھا کہ    بابا جی بیٹا کچھ نہیں دیتا آپ کو ۔۔۔ آخر کار آپ اس کے باپ ہو آپ نے اس کی پرورش کی ہے۔ ایسی بھی ناہنجار اولاد کیا ہوئی کہ باپ کو پوچھے بھی  نہ ۔

میرا پتر۔۔ پرورش تو اس کی بہت اچھی کی تھی لیکن یہ جو ناگن گھر میں لے آیا ہوں نا   وہ اس کو لے ڈوبی ۔۔۔ جو بھی وہ کماتا ہے  سب کھا جاتی ہے،  اس کے علاوہ جو میں کماتا ہوں اگر اس میں سے اپنے پوتوں کو نہ دوں تو مجھے روٹی بھی نہ ملے ۔

ٹھرکی شوہر۔ عبدلرؤف خٹک

تو بابا جی یہ جو ڈانگ آپ نے اپنے پاس رکھی ہے اس کو اس کی مرمت کیلئے استعمال کیا کریں ۔۔۔ اور کبھی کبھی ساتھ میں بیٹے کی بھی کر دیا کریں۔

بابا جی کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے بولے پتر اے صرف کہنا ہی آسان ہوتا ہے۔ جوان خون ہے میں ایک بار کہوں گا دوسری بار وہ مجھے گھر سے چلتا کرے گی۔ او پتر میرے تم کیا مجھے گھر سے نکلوانا چاہتے ہو ۔۔۔ وہ تو ویسے ہی مجھے ہر وقت کھانے کو دوڑتی ہے  اور دوسری بات یہ کہ میری بہو میری بڑی سالی کی بیٹی ہے۔ وہ بھی بہت لڑاکو تھی میرے سانڈو (ہم زلف) کو پورا قبضے میں رکھا ہوا تھا اس نے۔ جس کی ماں ہی لڑاکو تھی تو اس کی بیٹی کیا بھلی مانس ہوگی۔ تم نے وہ کلام نہیں سنا بابا بلھے شاہ کا کہ

رس  تمے  دا  کوڑا  ہوندا  تے  اثر  ہوندا  وچ  بیاں

جو کچھ کردیاں رہیاں ماواں اوھو کجھ کردیاں دھیاں!

بابا جی اس بات میں تو کوئی شک نہیں سچی بات کہی بابا بلھے شاہ رح نے۔  لیکن  بابا جی جب آپ کو اس کی ماں کے بارے پتا تھا تو اپنے بیٹے کو ان کے گھر بیاہ کرنے کیوں لے گئے تھے۔

پترا جے میرے اختیار میں ہوتا تو شاید آج یہاں تمہارے ساتھ چائے نہ  پی رہا ہوتا۔ میرا پتر غلطیاں بھی تو انسانوں سے ہی ہوتی ہیں نا ۔۔۔ بیٹے کو پسند تھی اور اس کی ماں کی رشتہ دار تھی کر لی شادی انہوں نے ۔۔۔۔ ہائے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔۔۔ اب تو میں سب کو یہی کہتا ہوں کہ کبھی بھی بیٹے کی شادی اپنوں میں نہ کرو۔

تو بابا جی اب تو میرے خیال سے آپ کی گھر والی حیات تو نہیں ہوگی تو اب آپ طلاق کیوں نئیں دلوا دیتے اس کو ۔۔۔ آخر تمہارا بیٹا ہے ماں کے بعد تمہاری ہی مانے گا۔

اوہ نئیں پتر ۔۔۔ طلاق ہون تے نئیں ہو سکدی ناں ۔۔۔ تین پتر ہیں اس کے اب ۔۔ ویسے بھی اب اس کا عادی ہو گیا ہوں ، ایک طرف سے سن کر دوسری طرف سے نکال دیتا ہوں ، یوں سمجھ لو کہ اب اس  سے ایک سمجھوتہ کر لیا ہوا ہے  ۔

کیسا سمجھوتہ بابا جی ؟؟۔۔۔۔ میں نے حیرت سے پوچھا

سمجھوتہ ایسا کہ گھر کی مالکن اس کو بنایا ہوا ہے لڑکا جو کماتا ہے وہ سب اس کی ہتھیلی پہ لا کر رکھ دیتا ہے اور میں اپنا دو تین سو کماتا ہوں جو کہ میری سگریٹ پانی کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوی میری پینشن بھی آتی  ہے ہر ماہ ، جس کی میں نے کمیٹی ڈالی ہوئی ہے ۔۔۔ چھوٹی بیٹی کی شادی کیلئے۔

اچھا تو بابا تمہاری بیٹی بھی ہے ۔۔۔۔ وہ کیا کرتی ہے، پڑھتی ہے کہ نہیں ۔۔۔ کونسی کلاس میں پڑھتی ہے۔؟؟

خلائی مخلوق زندہ باد ۔۔۔ عارف خٹک

پتر  میری بیٹی نے بی اے کیا ہوا ہے اور اب ایم اے میں پڑھتی ہے ۔۔۔ بہت اچھی ہے ماشاءاللہ۔ وہی تو ہے ایک گھر میں جو میرا تھوڑا بہت خیال رکھتی ہے ورنہ اے بابا تے کدوں دا مر گیا ہوندا۔۔ اس کی منگنی کی ہوئی ہے ،منڈا اپنے رشتے برادری میں سے ہی ہے۔۔۔ ماشاءاللہ اس کی اپنی دوکان ہے کپڑے کی  ،یہ بازار میں ۔۔ ہر مہنہ ایک سوٹ بھیجتا ہے میری بیٹی کو ۔۔۔ بہت ہی بیبا منڈا ہے۔۔۔۔ میری بیٹی کو بہت خوش رکھے گا۔ اس کی اب ہی بہت فرمانبرداری کرتا ہے  تو شادی کے بعد بھی تو اس کو خوش ہی رکھے گا ۔۔۔اللہ ان کو سلامتی دے ۔۔۔۔

ابھی میں ایک اور سوال کرنے ہی لگا تھا کہ کم بخت چائے کا کپ خالی ہو گیا اور بابا جی کپ   بینچ کے نیچے رکھ کر اپنی راہ کو ہو لیے ۔۔ اور میں اپنی چائے کی آخری چسکی کے ساتھ بابا جی کی کہانی کو سمیٹتے ہوئے ۔۔ چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنے ہاسٹل کی طرف چل پڑا۔

Avatar
سیٹھ وسیم طارق
ھڈ حرام ، ویلا مصروف، خودغرض و خوددار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *