والدین کی ہماری زندگیوں میں اہمیت ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

اسلام وہ دین ہے جس نے والدین کے حقوق اور اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا ۔ یہاں تک کے نماز کی سب سے اہم اور احتتامی دعا میں بھی ان کی اور تمام مومنوں کی یوم حساب کے دن مغفرت کا معاملہ مانگا اور چاہا گیا ۔ ہمارا اس دنیا میں آنا یقیناً ان کے سبب ہی ہے اور ہمارا ساری کائنات اور دنیا کے ساتھ رابطے  یا کنکشن کی وجہ بھی وہی بنے ۔ میں اپنے روحانی تجربوں سے ہمیشہ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہوں کہ  ساری کائنات آپس میں interconnected ہے اور ایک oneness میں پروئی  ہوئی  ہے ۔ یہ ساری بُنتی ایک ہی دھاگہ ہے جو سب میں سے گزر رہا ہے ۔ اس کو آپ روح کہ لیں ، انرجی بول دیں ، دھرم یا محبت ۔

مادہ پرستی کی موجودہ زندگیوں میں سمجھا یہ جا رہا ہے کے شاید پیسہ ، میٹریل چیزیں یا عہدے اور طاقت ، رشتوں کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ ایسا بالکل نہیں ہے ۔ میں نے ایک دفعہ اپنے ایک ڈپٹی کمشنر کو اپنے سادہ ، گاؤں کے رہائشی والد کو اپنی جیپ کی پچھلی سیٹ پر بٹھاتے دیکھا تو مجھے بہت ہنسی آئی  ۔ بعد میں ایک دن میں نے انہیں کہا کہ  سر آپ کی نادانی پر مجھے ہنسی آئی ۔ آپ سی ایس ایس میں پہلی یا دوسری پوزیشن پر تھے ، اور آپ کو یہ سادہ بات سمجھ نہیں آئی  کے آپ اپنے والد کے ساتھ اپنا biological تعلق کیسے جُھٹلا سکتے ہیں ؟ عزت تو چھوڑیں ، دفعہ کریں ، آپ تو ڈپٹی کمشنری کو ہی خدا سمجھتے ہیں لیکن آپ کی خدائی  نسبت اس دنیا میں تو ان کے طفیل ہی ہے ۔

کینیڈا سے ایک لکھاری اینڈری ملر اکثر کچھ روحانی موضوعات پر بہت اچھے مضامین لکھتی ہیں ۔ اتفاق سے اس کا تعلق بھی Lion’s Roar فاؤمڈیشن سے ہے ۔ ادھر میں واضح کرتا چلوں کہ  جب بھی میں کسی مذہب ، فرقہ یا مسلک کی روایت کا حوالہ دیتا ہوں اس  سے قطعا ً میرا مطلب  یہ نہیں  ہوتا کہ  میرا تعلق اس مذہب ، دین ، فرقہ یا گروہ سے ہو گیا ۔ کسی شخص کی  کوئی  چیز بھی قابل تقلید ہو سکتی ہے ۔ بلکہ اینڈری نے تو کہا کہ  وہ bad Buddhist ہے اور مزید یہ  کہ  ہمیں hybrid Buddha کی ضرورت ہے جو آج کے وقتوں کے تقاضے پورے کر سکے کیونکہ آجکل تو کو ئی  جنگل نہیں جا سکتا ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ  نہ تو ہم اپنے پیارے نبی کی اسوہ حسنہ کو فا لو کر سکے اور نہ ہی مغرب کے ماڈرن ، مشینی لیکن اخلاقی اور روحانی انسان کو  ۔

اینڈری ملر نے پچھلے سال اپنے مضمون awakening my heart میں جو والدین کے بارے میں اپنے تجربہ سے بیانیہ پیش کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ اینڈری جب چار سال کی تھی تو اس کا باپ دور ایک خاتون کے ساتھ دوسری شادی کرنے کیلگری چلا گیا ۔ اس کو صرف جہاز کا ٹکٹ بھیجتا تھا گرمیوں  کی  چھٹیوں میں ملنے کے لیے  ۔ وہ بھی جب اس عورت سے تعلق ختم ہو گیا تو خود ملنے آنا شروع کیا ۔ اینڈری کے باپ نے ایک اور شادی کی ۔ دوسری شادی سے تین بچے اور تیسری سے دو ۔ اینڈری جب گیارہ سال کی تھی تو ایک دفعہ اس نے اپنے والد سے کہا کہ  کیا وہ جن بھوتوں پر یقین رکھتا ہے، اس نے کہا کہ  نہیں ، وہ جو چیزیں اسے دکھتی ہیں ، صرف ان پر یقین رکھتا ہے ۔ تو اینڈری نے کہا کہ  پھر موت پر سب ختم ، اس نے کہا بالکل نہیں، وہ اپنے بچوں کے ذریعے زندہ رہے گا ۔

اینڈری اسی خیال کو لے کر آ گے چلتی ہے اور ایک مراقبہ کی ورکشاپ میں لیکچر سے relate کرتی ہے جہاں یہ بتایا جاتا ہے کے جس طرح بیج کا پودے سے رابطہ کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا ، اسی طرح انسان بھی والدین کے رشتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں ۔ صرف روپ یا ہیت بدلتی رہتی ہے لیکن یہ سارا ایک ہی رقص ہے اور ایک ہی فلو ۔ اینڈری سمجھتی ہے کہ  کسی دُکھ کا بُھلانا اس کے والد کو کاروبار ، عورت اور شراب کے قریب لے گیا ۔ اور وہ اپنی healing سے ابھی بھی اس دکھ کا مداوا کرتی ہے ۔ کیونکہ اینڈری کا والد اب اس صورت میں زندہ ہے ، تا کہ یہ زندگی کا سائیکل رُکے نہیں  بلکہ چلتا رہے ۔ دہلی میں وہ ایک مراقبہ واک کا حصہ بنتی ہے جہاں وہ اپنے والدین کو اپنے ساتھ اپنے پاؤں پر واک کرواتی ہیں ۔

مادہ پرستی نے ہماری انسانیت ، وجود اور ہونے کو کھوکھلا کر کے  رکھ دیا ہے ، ہم وہ روبوٹ بن گئے ہیں جس کا alternate نکل آیا ہے ۔ صرف اگر روبوٹ میں کچھ نہیں ڈالا جا سکتا تو جذبات اور احساسات۔ جی انسان صرف ہے ہی ان سب feelings and emotions کا مرکب۔ بہت خوش رہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *