ڈاکٹر مجاہد مرزا، - ٹیگ

کیا پاکستانی میڈیا قابل دفاع ہے/ڈاکٹر مجاہد مرزا

سماج ایک نامیاتی یعنی زندہ اگائی ہے ، متحرک ، ترقی پسند اور انسان دوست سماج ہوگا تو اس کا اظہار سماجی ، سیاسی ، معاشی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ہوگا کیونکہ ایسا سماج پیداواری تخلیق اور←  مزید پڑھیے

سنیاراں دا اَتھرا منڈا-۔ ابرار احمد/تحریر -ڈاکٹر مجاہد مرزا

نشتر میڈیکل کالج میں گمبھیر آواز والا ” لوا ” ٹائپ کا مگر ہلکی مونچھوں سمیت “میری جان ” کہہ کے بات کرنے والا یہ گورا چٹا حسین نوجوان مجھے کالج میں خود سے دو سال جونیئر مگر ایک ہی←  مزید پڑھیے

تین قہقہے بلند نہ ہو پائے/ڈاکٹر مجاہد مرزا

تم ہو سارے کے سارے لکیر کے فقیر، پیسے کمانے کی مشینیں، ڈیفنس اور دوسری پوش ہاؤسنگ ایریاز میں کوٹھیاں تعمیر کرانی یا خریدنی ہیں، اعلیٰ  فرنیچر اور دو چار نوکر رکھنے ہیں، مہنگی اور دلکش و آرام دہ گاڑیاں←  مزید پڑھیے

پاکستانی ذرائع ابلاغ، ذرائع ابلاغ نہیں ہیں۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

چونکہ میں ایک طویل عرصے سے پاکستان سے دور ایک ایسے ملک میں ہوں جس کا پاکستان سے کوئی خاص ربط نہیں ہے جیسے چین کا ہے، امریکہ اور برطانیہ کا ہے، تاحتٰی ہندوستان، افغانستان ، ایران، مشرق وسطٰی و←  مزید پڑھیے

کیا سیاست میراث ہے ؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

مارچ 1991 کی ایک رات، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مجھے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے تب اغوا کر لیا تھا جب میں ضمیر نامی افغان سفارتکار کی کار سے اُترا تھا۔ مقصد چونکہ کہانی بیان کرنا نہیں ہے،←  مزید پڑھیے

وہ یونہی ماری گئی تھی۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

غالباً 1987 کی بات ہے، کہنے کو تو وہ اغوا ہوئی تھی مگر اصل میں وہ اپنے آشنا کے ساتھ۔ بھاگ گئی تھی۔ تب لفظ آشنا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں بوائے فرینڈ کا معاملہ معروف←  مزید پڑھیے

انفراسٹرکچر کیا ہوتا ہے؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

میں پسماندہ پاکستان کے انتہائی پسماندہ ضلع مظفر گڑھ کی ایک زرخیز تحصیل علی پور کے صدر مقام “شہرعلی پور” میں پیدا ہوا تھا۔ جب میں چار برس کا تھا تب بھی میں گھر سے سڑک تک پہنچنے کے لئے←  مزید پڑھیے

اپنے جیسوں سے انسیت بارے۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا تھا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں←  مزید پڑھیے

ذرائع ابلاغ عامہ کیا اور کیوں؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

میں ایک بین الاقوامی ذریعہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہوں۔ آج میری ڈیوٹی خبروں پر ہوگی۔ میں ایک بار پھر ایسی اذیت سے گذروں گا جس کا کوئی مداوا نہیں ماسوائے ذریعہ ابلاغ سے علیحدہ ہو کر بیروزگاری بھگتنے کے۔←  مزید پڑھیے

سمندر کبھی ساکن ہوا؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

بعض اوقات سمندر بظاہر پرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن سمندر کی نچلی تہوں میں اضطراب اور تحرک جاری رہتا ہے۔ گرم اور سرد پانی کی روئیں چلتی ہیں۔ آبی جاندار محو خرام رہتے ہیں۔ زندگی کے لیے جنگ چلتی رہتی←  مزید پڑھیے

خواب، ارادے اور اوقات۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

ایم بی بی ایس کے دوران اکٹھے پڑھنے والے ہم کلاس فیلوز کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے۔ اس میں ایک ہم جماعت دوست نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ اپنی زندگی کے کچھ ” چسکے دار ” واقعات←  مزید پڑھیے

معاشی حالات اور ڈگری۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

1975 کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر جسٹس اسلم ریاض حسین کے دستخطوں سے جاری ہوئی میری انسانوں کے معالج ہونے کی سند بالکل اصلی ہے مگر اس کا نہ مجھے کوئی فائدہ ہوا اور نہ←  مزید پڑھیے

جمہوریت پسندی کس لیے؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

” جمہوریت اگرچہ مثالی طرز نہیں ہے لیکن اس سے بہتر ابھی تک کوئی اور انداز سیاست ہے نہیں” یہ فقرہ شاید بہت سے سیاسی مشاہیر کہہ چکے ہیں۔ مجھ پر یہ بات اس طرح آشکار نہیں ہوئی جس طرح←  مزید پڑھیے

کچھ اور طرح کیوں نہ ہوا ؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

معاملہ جبر و قدر کا نہیں مگر معاملہ جبر و قدر کا ہے بھی۔ میں اجبار کا شکار یا مقدر کے مارے غریب لوگوں کو دکھی دیکھ نہیں سکتا، ویسے تو میں خود بھی بالکل نہ امیر ہوں اور نہ←  مزید پڑھیے

نہ نوحہ نہ تحسین۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

وہ “بوکو حرام” والے تین سو سے زیادہ عیسائی بچیوں کو اٹھا کر لے گئے۔ نائیجیریا کی پوری سرکاری مشینری کو بچیوں کی منتقلی کے سلسلے میں کی جانے والی “نقل و حرکت” کا پتہ ہی نہ چلا۔ مستزاد یہ←  مزید پڑھیے

یوں گئے خالد کہ جیسے ہوں یہیں۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

میں پہلی بار لندن، فیض امن میلے میں شرکت کی خاطر گیا تھا۔ تب چونکہ میں خود ڈیجیٹل جرنلزم سے منسلک تھا، ریڈیو وائس آف رشیا کے صدائے روس کہلانے والے اردو شعبہ کے لیے خود بھی اے این پی←  مزید پڑھیے

پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور نوجوان: للکاریں اور مواقع۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

پاکستان کی ایک این جی او کی جانب سے ماسکو میں کی گئی کانفرنس کا یہ موضوع تھا۔ کانفرنس کی عام زبان یا Lingua franca چونکہ انگریزی تھی اس لیے اس کے انگریزی زبان میں دیے گئے موضوع کو میں←  مزید پڑھیے

“تبدیلی” چہ معنی دارد؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

ویسے تو لوگ، سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں، ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں، پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے مگر شاید لفظ “تغیّر” کے معنی کی فہم نہ رکھتے ہوں تبھی کسی “تبدیلی” کی تمنّا و نوید کا←  مزید پڑھیے

دُنیا ٹیڑھی ہے یا ہم؟۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

سچ تو یہ ہے کہ دنیا کہیں بھی سیدھی نہیں ہے لیکن اتنی بھی کج نہیں ہوتی کہ اسے کج کہا جا سکے۔ پیچ و خم ہونا، اتار چڑھاؤ ہونا، ارتفاع و گہرائی ہونا دنیا کے تنوع کو ظاہر کرتا←  مزید پڑھیے

اپنے ہی ملک میں زباں نابلد(4)۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

واپسی میں راشد نے پہاڑوں میں محبت کی داستان کا راگ چھیڑا مگر راستہ طے ہو جانے اور لوگوں کے کانوں کے مخل ہونے کے سبب انجام یا قبل از انجام طے نہ ہو پایا کہ آیا عاشق یا معشوق←  مزید پڑھیے