آج پاکستان مختلف خطرات کی وجہ سے متعدد محاذ پر الجھا ہوا ہے۔ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاست کا ماحول اس کے جغرافیائی مقام کی اہمیت پر منحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس← مزید پڑھیے
ساڑھے چار ارب سال پہلے جب کرّہ ء ارض پر خدا نے 92عناصر میں سے کچھ کو جوڑ کر زندگی تخلیق کی تو اس سے پہلے اس زندگی کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ۔ ان جانداروں کے جسموں← مزید پڑھیے
معروف کالم نگار جاویدچوہدری ، سابق بیوروکریٹ الطاف گوہر صاحب کی زبانی ایک واقعہ درج کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں : ’’شاہ سعود کو بنگال کا دورہ کرنا تھا ۔ ہم اس کے استقبال کے لئے بڑی تیاریاں کرر ہے تھے← مزید پڑھیے
برطانیہ میں کچھ شر پسندوں نے تین اپریل کا دن ” مسلمانوں کو سزا دینے کا دن“ منانے کا اعلان کیا ہے ۔ برطانیہ کے مختلف شہروں میں بذریعہ ڈاک ایسے لیٹر بھیجے گئے ہیں جس میں برطانوی شہریوں کو← مزید پڑھیے
ایک بہت ہی خوف ناک مسئلہ جس سے ہماری حکومت نظریں چرا رہی ہے وہ ہے پانی کی قلت کا بحران، یہ وہ مسئلہ ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی توجہ دینا چاہتا ہے.← مزید پڑھیے
نبوت سے قبل جنابِ محمد بن عبد اللہ نے جو کاروباری سرگرمی فرمائی اس کی بنیاد میں مذہب شامل نہیں تھا۔ لیکن آپ نے یہ کاروباری تجارتی سرگرمی ایسی شاندار پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ساتھ فرمائی کہ بعدِ نبوت آپ← مزید پڑھیے
ہمارے علمی دیوالیہ پن کا یہ عالم ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں بھی جمہوریت کو محض ایک طریقہ انتخاب ہی سمجھتے ہیں ہمارے اس ابہام نے جہاں ہماری علمیت کو مسخ کر دیا ہے وہیں ہماری عملی جدو← مزید پڑھیے
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ کاشف مرزا اس اخلاق باختہ حرکت کی بھی مہمل توجیہات پیش کرتے دکھائی دیئے، اور بغیر کوئی شرمندگی دکھائے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اس کا ذمہ دار بھی ملالہ← مزید پڑھیے
یوں تو ہماری قوم ایک بات میں نہیں ہر بات میں ،ہر معا ملے میں مغرب کی تقلید کر رہی ہے ،اب چاہے جنوری میں نیو ایئر ہو ،یا فروری میں و یلنٹا ینز ڈے ،مارچ میں خواتین کا عالمی← مزید پڑھیے
شہر مئو ناتھ بھنجن جو علم وادب کے حوالے سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ اس شہر میں فیض قدرت نے جن عظیم شخصیات کو وجود بخشا ہے‘ ان میں مولانا ابو الوفا عظیم اللہ صاحب کا اسم گرامی علمی حلقوں← مزید پڑھیے
تاریخی شعور کی چاشنی سے لبریز ایک ایسا ناول ہے۔جس میں ناول نگار قاری کو بیک وقت ناول میں ماضی اور حال میں محو سفر رکھتا ہے۔ ناول کی حیثیت دستاویزی ہے جس میں فلم یونٹ کے ارکان کی طرف← مزید پڑھیے
میں پچھلے دنوں یہودیوں اور مسلمانوں کے کامیاب اور ناکام ہونے کی وجوہات پر کالم لکھ رہا تھا جو ابھی پورا نہیں ہو سکا لیکن اس دوران ملالہ پاکستان کے اچانک دورے پر چلی گئی ا ور پھر ہمارے فیس← مزید پڑھیے
1945 میں نازی عقوبتی کیمپ میں مرنے والی پندرہ سالہ یہودی بچی اینیلیز فرینک محض یہودی ہونے کے جرم کی مرتکب تھی۔ اسی جرم میں گرفتار ہونے سے پہلے 1942 سے 1944 تک اپنے گھر کی پرچھتی پر بیٹھ کر← مزید پڑھیے
پچھلے سال ستمبر میں میرے ہاسپٹل میں ایک نئے ڈاکٹرصاحب آئے۔متھے پہ پاکستانی لکھا ہوا تھا۔آتے ساتھ ہی مجھ پہ ٹھاہ ٹھاہ انگریجی کے فائر کرنے لگے۔میرا پہلا جملہ یہی تھا۔ڈاٹرشاب،پاکستانی ہو؟ ہاں وہ نہیں میں تو امریکن نیشنل ہوں۔← مزید پڑھیے
وہ میری ہم عمر ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ 1997 میری گریجوایشن کا سال تھا کامیابی کی خوشی اور مادر علمی سے جدائی کی اداسی کے ملے جلے احساسات تھے۔ پڑھائی مکمل ہو چکی تھی اکا دکا← مزید پڑھیے
اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کالونیل راج ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ تک ہم پر مسلط رہا ہے۔ہم نے انہی سے آزادی حاصل کی اور آزادی کی میراث بھی انہی سے پائی۔ کالونیل راج کا بنیادی← مزید پڑھیے
اس ڈاکٹرائن کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی کہ مسلمانوں نے چونکہ 800 سال تک ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ چنانچہ پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ یہاں کے مسلمان آج بھی ہندوستان کے اوپر عسکری اور فوجی← مزید پڑھیے
فیصلہ سازی ایک ایسی چیز ہے ، ہر انسان ہی نہیں ، ہر جاندار کو جس سے واسطہ پڑتا ہے ۔ شیروں میں ایسا ہوتاہے کہ ہر گروہ اپنا ایک علاقہ منتخب کرتاہے ۔ اس علاقے کی سرحدوں پرباقاعدگی سے← مزید پڑھیے
کہا جاتا ہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے۔ جب ہم کسی بھارتی سے ملتے ہیں تو ایک اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ میں بھارت میں بسنے والوں سے حال ہی میں ننکانہ صاحب میں← مزید پڑھیے
میں تمہارا ایک پرانا ساتھی ہوں ،میں اب کافی بوڑھا ہوچکا ہوں ،اور مختلف جگہوں پر بوسیدہ سی لاٹھیوں کے سہارے تمہارا منتظر رہتا ہوں،ماضی میں میرا ایک ہی رنگ تھا ، جو وقت کے ارتقاء کے ہاتھوں اب چند← مزید پڑھیے