غدار ملالہ اور پاکستانی ہیرو ہونے کا معیار۔۔افراز اختر

میں پچھلے دنوں یہودیوں اور مسلمانوں کے  کامیاب اور ناکام ہونے کی وجوہات پر کالم لکھ رہا تھا جو ابھی پورا نہیں ہو سکا لیکن اس دوران ملالہ پاکستان کے اچانک دورے پر چلی گئی ا ور پھر ہمارے فیس بک کے مجاہدین اچانک بیدار ہو گئے اور ملالہ کے غدار اور ایجنٹ ہونے کے ثبوت ،پاکستانی ہیرو ہونے کا معیار اور پاکستانی اصل ہیرو کے شئیر ہونے والی پوسٹ اس تواتر سے فیس بک ، واٹس ایپ پر شئیر ہونے لگی کہ لگا شاید ملالہ ہی وہ انتہائی مطلوب مجرم ہے جس نے پاکستان کی  جاسوسی کر کے  ساری خفیہ باتیں سی آئی اے کو  بتائیں، پاکستانی ستر ہزار لوگ شہید کروانے میں ملالہ کا سب سے بڑا کردار تھا ۔نوبل پرائز اور جو  تمام  ایوارڈ اس کو دئیے گئے وہ سب ایک سازش ہیں ۔کیسے ایک 14 سالہ لڑکی اردو میں ڈائری لکھ سکتی ہے 

ویسے میں پرانی تاریخ میں نہیں جاتا جہاں محمد بن قاسم سترہ سال  کی عمر میں میں سندھ کی سرزمین فتح کر لے یا پھر بہت سے علماء شاہ ولی اللہ سات سال میں حفظ کر لیں اور سولہ سال کی عمر میں کامل عالم بن جائیں ،یا کسی اور ایسے انسان کا جو ہمارے سامنے موجود نہ ہو ،

آپ  ارفاء کریم کو دیکھ لیں نو سال کی عمر   میں مائیکرو سافٹ کی پروفیشنل بن گئی ، انگلینڈ میں انیس سالہ لڑکا خود اپنے آئیڈیا سے millionaire بن گیا ۔ اور آپ گوگل کریں بہت سے لوگوں نے  ویڈیو بھی  لگائی ہوئی ہیں جن میں ان کے چھ بچے نے  مائیکروسافٹ کے کچھ سرٹیفیکیٹس حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اور کافی ٹی وی چینل ان کو پروموٹ کرتے ہیں  تو ملالہ کا  14 دال کی عمر میں    اپنے والد کی مدد سے  ڈائری لکھنا کوئی حیرت کی بات نہیں ۔

پھر کچھ لوگوں نے اعتزاز حسن شہید ، طاہرہ قاضی شہید جیسے عظیم لوگ بھی اس قطار میں کھڑے کر کے کہا جو شہید ہو گیا صرف وہ ہیرو جو زندہ بچ جائے وہ ہیرو نہیں ایجنٹ ہوتا ہے جیسے نعرے بھی لگا دیے ۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش  کی  کہ اگر ملالہ شہید ہو جاتی تو اس نے ہیرو ہونا تھا اب چونکہ وہ زندہ ہے لہذا وہ ہیرو نہیں ہے ایجنٹ ہے-

پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر وہ شخص جس نے پاکستان کے لئے کام کیا ہم نے اس کو انتہائی ذلیل کیا ہم نے نہ  وسیم اکرم کی قدر  کی ، نہ ہم نے باکسر محمد وسیم کی جو اس وقت بھی پاکستان کے لئے ٹائٹل لا کر بھی خوار ہو رہا ہے لیکن کسی فیس بک مجاہد کے پاس وقت نہیں کہ  اس کے لئے کمپین چلائے ، محمد عثمان باکسر یونان میں ہے وہ بھی تو ہیرو ہے اس کے لئے ایسی کوئی کمپین چلا دو اگر کل اس کو کوئی اور سپورٹ کرے گا تو پھر آپ کی نظر میں وہ ایجنٹ بن جائے گا ۔

حسین شاہ ایک پاکستانی عظیم باکسرہے    ان کے ساتھ    کیا ہوا کیسے کیسے ان پر ظلم ڈھائے گئے انڈیا میں باکسنگ کے لئے گئے تو ان کو جوتے تک نہ دئیے گئے اور وہ بندہ اکیلا میڈل لایا اور آج پچپن سال ہو گئے دوبارہ کوئی وہ میڈل  نہ لا سکا ۔کپٹن عزیر جیسے لوگ اگر انڈیا میں ہوتے تو ان پر مووی بن چکی ہوتی لیکن وہ پاکستانی ہیں ۔

عبدالخالق جیسے لوگوں کی تاریخ بھی ہم زندہ نہ کر سکے۔لیکن ہم اس طرف کچھ اچھا نہیں بتائیں گے لیکن اگر کوئی ہمارے سامنے کچھ پاکستان سے لے آئے تو بجائے اس کو سپورٹ کرنے کے اس میں کیڑے ضرور نکالیں گے ۔

ملالہ کا ڈرامہ تھا حقیقت تھی یا فسانہ ۔۔مجھے اس  سے نہ غرض ہے نہ ہی میں جاننا چاہتا ہوں مجھے اتنا پتہ ہے کہ اس کو بھی نوبل دیا گیا اور اسکےساتھ ساتھ کیلاش شرما کو بھی دونوں کو بچوں کی ایجوکیشن پر کام اور بچوں کے حقوق پر آواز اٹھانے پر نوبل انعام دیا گیا ۔انڈیا میں کیلاش شرما کو بہت ویلکم کیا گیا لیکن ہماری طرف کیا ہو رہا ہے آپ سب کے سامنے ہے ۔

ہمارے لوگوں کی نظر میں ہیرو وہ ہے جو شہید ہو جائے زندہ مجھے پاکستانی قوم میں ہیرو لا کر دکھائیں ؟

میں نے دیکھا لوگ ولید خان پاکستانی طالب علم کی تصویر اور ملالہ کی شئیر کر رہے کہ اس کو بھی آٹھ گولیاں لگیں اور وہ پھر اسی سکول میں پشاور جا رہا ہے اور پوسٹ کو وائرل کیا جا رہا ہے ۔ ان سب دوستوں کی خدمت میں عرض ہے ولید خان کو بھی یوکے میں مقیم ہوئے پورے خاندان کے ساتھ کوئی دو سال سے اوپر وقت ہو چکا ہے ۔

ایک اعتراض زور و شور سے یہ بھی جاری ہے کہ اسُ کو انگلینڈ میں گھر دیا گیا جو کسی اور کو نہیں دیا جاتا عرض ہے کہن انگلینڈ ، امریکہ ، یا آسٹریلیا میں کوئی بھی آسائلم جب اپلائی کرتا ہے بغیر کسی قوم ، مذہب ، ملک یا انسان کی تفریق کے اس کو وہاں گھر اور ہر ہفتہ اخراجات  دیے جاتے ہیں ۔ تعلیم بھی مفت ہی ہوتی ہے زیادہ تر ممالک میں ۔

چلو مان لیا ملالہ ایجنٹ ہی سہی ،پھر تو  جو وہ دبئی کے تعاون سے سات کروڑ لگوا کر اپنے گاؤں میں بچیوں کے لئے سکول بنوا رہی  ہے وہ ہمیں  بند کروا دینا چاہیے ۔ملالہ جو سات ملین ڈالر ( ستتر کروڑ پاکستانی  )  پختونخوا  میں اس نے تعلیم کے لئے دینا شروع کیے واپس کر دینے چاہئیں  کہ ہم امریکن ایجنٹ سے پیسے نہیں لیں گے ۔
مجھے ان پیسوں سے ایک مولانا صاحب کا واقعہ یاد آ گیا ۔

ایک مسجد کی تعمیر کے دوران مالی حالات خراب ہو گئے تو کمیٹی والوں نے مولانا صاحب سے کہا فلاں امیر آدمی ہے آپ  اس سے درخواست کریں ۔
مولانا صاحب گئے اس سے جنت کی فضیلت ، مسجد میں پیسہ لگانے پر جنت کی بشارت دی اور چندہ کی درخواست دی وہ آدمی بولا پیسہ آپ کو جتنا چاہیے   مل جائے گا لیکن ہے سب حرام کا آپ سوچ لیں ۔
مولانا صاحب نے ایک دن مانگا اور پھر اگلے دن اس کے پاس گئے اور سوچا میں نے کافی سوچ بچار  کی اور اس کا حل بھی نکالا ہے ۔آپ ایسا کریں چندہ دیں ہم اس سے مسجد کے باتھ روم بنا لیں گے ۔

دوستو امریکہ سے قرضہ لینا حلال ، آرمی کے لئے اسلحہ لینا حلال ، افغان جنگ اور باقی معاملات کے لئے پیسہ لینا حلال لیکن اگر وہی پیسہ تعلیم کے لئے کسی   بھی ذریعے سے  آئے تو حرام ہے ۔کرسٹینا لمب نے ملالہ کی کتاب کو لکھا ہے جو ملالہ کی اردو ڈائری ہے اس کو اور اس میں کچھ اپنی طرف سے چیزوں کااضافہ کیا ہے ان سے ایک ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست پر ایک کتاب (Waiting for Allah )میں نے لکھی اس پر نہ کوئی اعتراض کرتا ہے نہ ہی اس پر بات کیوں کہ اس میں پاکستانی سیاستدانوں کی کرپشن او ر جمہوریت پر بات کی گئی ہے  اگر کوئی اس پر بات کرے گا تو بہت سے لوگ اس کتاب کو پڑھیں گے جو جمہوریت کو خطرہ ہو گا ۔

مجھے اس سے غرض نہیں ملالہ پر حملہ اصلی تھا یا  نقلی  ، نہ مجھے اس سے غرض ہے کہ اس کو گولی کہاں لگی تھی مجھے آج کی ملالہ سے غرض ہے اور آگے کیا کرے گی ۔ اگر وہ اچھا کرے گی تو تعریف ہو گی برا کرے گی تو تنقید ۔
ملالہ جیسے لوگ کسی ملک سے ہوں وہ ملک اس سے اپنے لئے فائدے لیتا ہے ، سفارتکاری کے لئے استعمال کرتا ہے ، اور جیسے وہ تعلیم پر کام کر رہی ہے اس سے ایسے کام لئے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ہیرو کے معیار تھوڑے مختلف ہیں ،
آپ اس کو پڑھنے کے بعد اگر شئیر کریں تو آپ کے مطابق جو ایک پاکستانی زندہ ہیرو آپ کی نظر میں ہے اس کا نام بھی لکھیں چاہے وہ نواز شریف ہو ، مریم نواز ہو ، آصف علی زرداری ہو ، خادم رضوی یا سراج الحق اور ہر دوست سے درخواست کریں وہ اپنے ہیرو کا نام لکھے ۔
آخر میں ملالہ کی کتاب سے چند اقتباسات -میں اس کی رائے سے متفق ہوں یا نہیں لیکن اپنے قارئین کے لئے شئیر کر رہا ہوں  ۔

“I   am  proud  that  our  country was  created  as   the world’s  first  Muslim  homeland, but we  still  don’t
agree  on  what  this  means. The  Quran  teaches us  sabar – patience – but  often  it feels that   we have
forgotten  the  word  and  think  Islam     means women   sitting   at    home  in  purdah or  wearing burqas    while
men  do    jihad. We  have  many  strands  of  Islam  in  Pakistan. Our  founder  Jinnah  wanted  the rights of
Muslims  in  India  to  be  recognized, but  the majority  of  people  in  India  were  Hindu”

“. The  Quran  says  we  should  seek  knowledge,
study  hard  and  learn  the  mysteries  of  our  world

“Nowhere is it written in the Quran
that a woman should be dependent on a man. The word has not come down from the heavens to tell us
that every woman should listen to a man.

So I was born a proud daughter of Pakistan, though like all Swatis I thought of myself first as Swati
and then Pashtun, before Pakistani.

Save

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *