• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مرزا حامد بیگ کا”انار کلی“ ایک تاریخی دستاویز ۔۔۔ محمد کامران شہزاد رانجھا

مرزا حامد بیگ کا”انار کلی“ ایک تاریخی دستاویز ۔۔۔ محمد کامران شہزاد رانجھا

تاریخی شعور کی چاشنی سے لبریز ایک ایسا ناول ہے۔جس میں ناول نگار قاری کو بیک وقت ناول میں ماضی اور حال میں محو سفر رکھتا ہے۔ ناول کی حیثیت دستاویزی ہے جس میں فلم یونٹ کے ارکان کی طرف سے ”انار کلی“ فلم بنا نے کے خیال کو مختلف لیکچرز کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔ ناول میں دو طرح کی کہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک کہانی کا مرکزی کردار شہریار، مرزا اور شازیہ ہیں جو ایک دوسرے سے محبت کرنے کے باوجود وقت کے بے رحم ہا تھوں کا شکار ہو کر وصل سے شاد نہیں ہو پاتے اور وقت کی دھول میں ان مٹ اذیت کی سیاہی میں ڈوب کر الگ الگ زیست کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دوسری کہانی تا ریخی ہے جس کا تعلق اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور سے ہے اور محبت کی کہانی کی تکون کا تیسرا سرا”انار کلی“ ہے جو دو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹی کی طرح مسلی اور کچلی گئی۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے انار کلی کے حوالے سے جہاں بہت سی مو شگافیوں کو درست کرنے کی سعی کی ہے وہیں انہوں نے بعض ادبی بدیانتیوں کی نشان دہی بھی کی ہے با لحضوص ڈرامہ ”انار کلی“ کے اصل حقائق کے بارے میں انہوں نے  مفصل معلومات بنیادی ماخذ کی روشنی میں دی ہیں۔
ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے اپنے ”یونیک اسلوب“ کی وجہ سے ناول کو تحقیقی مقالہ بننے سے بچا لیا۔ ناول کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے اور ناول نگار نے جس انداز سے کہانی کو بیان کیا وہ انتہائی متاثر  کن ہے اور ناول نگار کے بنانے گئے مناظر اتنے متحرک ہیں کہ قاری ماضی بعید کے ان دلکش مناظر کے سحر انگیز بیانیے میں کھو جاتا ہے۔کردار نگاری کے ساتھ ساتھ منظر نگاری بھی بہت عمدگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ چنانچہ ناول نگار نے مکانوں،سڑکوں اور دوسرے مقامات بالخصوص قلعہ لاہور کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔

علاوہ ازیں کرداروں کے حلیے،عادات وخصائل اور طرز رہائش کی لفظی عکاسی عمدگی سے کی ہے جیسے حویلی،خلوت خانہ،شیش محل بیگمات اور لونڈیوں کے حجروں کے طویل سلسلے و غیرہ۔ مصنف نے کرداروں کی نفیساتی تحلیل عمدگی سے کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام کردار اپنی جگہ مکمل ہیں۔ واقعات کا تاریخی تسلسل قاری کی توجہ کو ٹوٹنے نہیں دیتا جو کہ ناول نگار کی اپنے فن سے محبت اور کامیاب ناول نگار ہونے کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے ان تمام عوامل کا تجزیہ بھی کیا جس کی وجہ سے اکبر کے عہد اور بعد کے مورخین نے انار کلی کی موت کو چھپانے کی سر توڑ کوشش کی تاکہ شاہی خاندان کے ماتھے سے زنا با لمحرمات کا داغ دھویا جا سکے لیکن یورپی مورخین اور سفر نامہ نگاروں نے ان وجوہات کو تفصیل سے بتا دیا۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرزا حامد بیگ کا یہ ناول اردو ناول کی تاریخ میں نئے سفر کی نوید سناتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *