چٹھی آئی ہے۔۔فخر اقبال خان بلوچ

میں  تمہارا ایک پرانا ساتھی ہوں ،میں اب کافی بوڑھا ہوچکا ہوں ،اور مختلف جگہوں پر بوسیدہ سی لاٹھیوں کے سہارے تمہارا منتظر رہتا ہوں،ماضی میں میرا ایک ہی رنگ تھا ، جو وقت کے ارتقاء کے ہاتھوں اب چند مختلف رنگوں میں رنگا گیا ہے ،میں وسیلہ تھا تمھارے رابطوں کا، شاید کچھ کو یاد ہو۔۔۔

نئی نسل سے مجھے توقع نہیں مگر چند ایسے نوجوان بھی ہوں گے جو میرے بارے میں کچھ نہ کچھ علم رکھتے ہوں گے ۔۔

یاد کرو ، ایک ایسی بوسیدہ عمارت ، جس کی جھلنگا نما ، چیں چوں چی کڑچ جیسی آوازیں نکالتی بیت سے بنی ہوئی شیشم کی بوڑھی کرسیاں اور ان پر بیٹھے ہوۓ عینک والے ادھیڑ عمر اور بوڑھے لوگ، کسی رجسٹر پر یا کسی انبار پر جھکے ان پر کچھ لکھتے مصروف نظر آتے لوگ ۔۔ایک مشین کی ٹک ٹک ٹک کی مسلسل نکلتی آواز، اور اس کے ساتھ بیٹھا تیزی سے لکھتا ہوا ایک شخص۔۔

ایک کونے میں قدرے بڑی  سبز پوش میز کے عقب میں اچھی سی کرسی پر بیٹھا  وہ  سفید بالوں سے آراستہ ،  پرانے مگر کسی قدر صاف بہتر اور شکن سے پاک کپڑے پہنے ہوۓ بابو۔۔

سر پر ٹوپی کاندھے پر تھیلا اور سائیکلوں پر سوار آتے جاتے کچھ کمزور کچھ  مدقوق مگر پھرتیلے  لوگ ، جن کی خاکی وردی اور کاندھوں پر کسی ستارے کے بنا لگی ہوئی سادہ پٹیاں،

ایک ڈیسک سے  ٹھک ٹھکا ٹھک ٹھک ٹھکا ٹھک کی مسلسل آتی آواز،

میں گیٹ پر ایستادہ مستعد اور اکثر پیٹ بے انتہا بھرا ہونے کے باعث کھٹی ڈکاریں مارتا خوش و خرم کھڑا تمہیں تکتا تھا،تم کبھی سائیکل پر، کبھی سکوٹر پر کبھی تانگے سے اتر کر،کاریں تو ہوتی ہی خال خال  تھیں، کبھی موٹر سائیکل پر میرے قریب سے گزر کر اندر چلے جاتے تھے،کبھی کبھار تم انتہائی مسرور و مسحور نامہ محبت تھامے میرے قریب ہوتے اور اسے مجھ میں اتار دیتے اور سیٹی بجاتے واپس ہو لیتے۔۔

تم مجھے تو جیسے کبھی اہمیت ہی نہیں دیتے تھے، تم سمجھتے تھے جو تمھارے دل کا حال ہے مجھے نہیں معلوم مگر تم بھولے تھے نا ، مجھے سب پتا ہوتا تھا ، کہ وہ خوشبو کا جھونکا کسے بھیجا جا رہا ہے .کبھی تمہارا چہرہ ستا ہوا ہوتا تھا، تم اس دن پیدل چلتے ہوۓ آتے تھے،اور قریب آ کر خاموشی سے اسے مجھ میں سرکا کر  ویسی ہی خاموشی سے مڑ جاتے تھے، کیوں کہ اجنبی شہر میں کون پوچھتا ہے اور ابا کو یہ دوسرا خط تھا تمہارا کہ جلدی کریں،

کبھی تم اندر جا کر بابے سے جب پیسے پکڑ کر باہر آتے تھے تمہارا مطمئن چہرہ دیکھ کر میں بھی اطمینان کی سانس لیتا تھا کہ چلو کچھ دن تو عافیت سے گزریں گے۔۔انہی بوسیدہ دیواروں والے گھر،  اور میرے کمزور اور غریب گھر والوں کے ساتھ میں نے پچاس سال گزارے،ہمیں کوئی غم نہیں تھا، کوئی فکر نہیں تھی، خوشیاں زیادہ اور دکھ کم تو تھے ہی،ساتھ ہی  سب کے سانجھے بھی  تھے ، اسی لیے گزر بھی جاتے تو جلدی بھول جاتے ، سب مطمئن تھے اپنا اپنا کام دل لگا کر کرتے تھے،

بوسیدہ فرنیچر، ہلتی چٹختی کرسیاں اور میزیں ، ٹک ٹک ٹکا ٹک والی وہ تار والی مشین اور ٹائپ رائٹر کی ٹھک ٹھک ، لفافوں پر لگتی مہریں ،  بند ہوتے لفافے ، عید پر ڈھیروں ڈھیر عید کارڈز، چوڑیوں کے تحفوں کے پارسل، عید ی کے منی آرڈرز، کسی کسی کے برطانیہ گئے ہوۓ چاچے مامے کی طرف سے بھیجے گئے چاکلیٹ کے ڈبے، آموں کی پیٹیوں پر نیلی روشنائی سے لکھے نام و پتے، پنشن لینے  آنے والے بوڑھوں کی خوش گپیاں۔۔

یہ سب خوشیاں ہی تو تھیں۔۔۔

ہاں کبھی کبھی کسی کی موت کا تار آ جاتا تھا تو سائیکل پر سوار میری فیملی کا کوئی بوڑھا، جب تار والے پتے پر تار دینے جاتا تو ساتھ والے ہمسایوں کے گھر پہلے جاتا کہ فلاں گھر میں کسی کے عزیز کے انتقال کی خبر ہے، اپنی خواتین کو بھیج دیں کہ گھر والوں کو تسلی دے سکیں، پھر تار اسی گھر کے کسی سیانے کو پڑھ کر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دے کر دکھی دل سے اگلے پتے کی راہ لیتا جہاں کسی کی شادی کا کارڈ دینا ہوتا تھا ۔

پھر کچھ ایسا ہوا کہ اس ملک میں عفریت نے جنم لیا، جس نے اس ملک کی طنابیں  کھینچ  دیں، جہاں معاشرت، برداشت  رواداری حلم بردباری روایات میلے ٹھیلے ، بیساکھی، بسنت، اور ہمسائیگی و دل جوئی مذہبی عفریت کے زہریلے پنجوں میں پھڑپھڑا کر دم توڑ گئیں ۔۔۔وقت بدلنا شروع ہوا-

پھر ایک دن میں حیران پریشان کھڑا انتہائی کم ہو جانے والی آمد و رفت پر دل گرفتگی سے سوچ رہا تھا کہ یہ ضیاء ہے گھپ اندھیرا ؟ کہ اچانک ایک کان پھاڑ دینے والی آواز آئی اور میں ایک طرف گر پڑا میری دو ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں ،دائیں طرف پیٹ کے قریب ایک لوہے کا ٹکڑا لگنے سے ایک بڑا سا سوراخ ہوگیا ،

لوگ چیخ رہے تھے ، لہو بہہ رہا تھا، مائیں اجڑ رہی تھیں ، باپ اپنے دل کو پکڑے تڑپ رہے تھے ، نعرے بھی لگ رہے تھے اور منبر اپنے منہ سے آگ اگل رہا تھا، منہ سے نکلتی نفرت کی جھاگ کے چھینٹے پاک سر زمین کو ناپاک کر رہے تھے .

پھر سب کچھ تبدیل ہوگیا، لوگ آنا کم ہوتے گئے، اور زمانہ معاشرہ روایات و اقدر دم توڑ گئیں۔۔۔

اچانک کچھ دن اور گزرے تو فاقہ کشی تک نوبت آنے لگی، لیکن اچانک مجھے مختلف کپڑے پہنا کر   سوٹڈ بوٹڈ کر کے کھڑا کر دیا گیا،کہیں لال رہنے دیا، کہیں سبز پہنا دئیے اور حد تو یہ ہے کہ پیلا چولا بھی پہنا دیا ۔۔

لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، میں۔۔ جس نے  اس ملک میں تین نسلوں کو جوان ہوتے دیکھا، بہت ساری خوشیوں اور قدرتی آنے والے دکھوں کے بانٹنے کا وسیلہ بنا ، اب تو بس باہر سے خوش باش نظر آتا ہوں لیکن یقین کرو پورا پورا دن میرا پیٹ خالی رہتا ہے، میں خالی خالی نظروں سے تم سب کو تکتا رہتا ہوں، کوئی مجھے دیکھتا تک نہیں، کل لاہور کے پنجاب تعلیمی بورڈ کی حدود میں لگے ہوۓ لیٹر بکس کو ڈاک خانے کے ملازم نے میرے سامنے  کھولا ۔۔اس میں ہاتھ پھیرا تو وہ  اندر سے  خالی تھا۔۔

جی ہاں میں لیٹر بکس ہوں، میں ایک گزری ہوئی کہانی ہوں ، گزرا ہوا کل ہوں ، سنا ہے اس ملک میں سب کچھ بدل گیا ہے –

ثقافت و روایات دم توڑ جائیں تو باقی سب کچھ آہستہ آہستہ مرنا شروع ہوجاتا ہے ۔۔ میں بھی مرنے والا ہوں۔۔

بقول میرے بڑے بھائی منور بلوچ کے ۔۔

خالی پڑا مکان ہوں —- کبھی دیکھنے تو آ!

کل تعلیمی ثانوی بورڈ میں لیٹر بکس کو خالی پا کر نہ جانے یہ سب کچھ کیوں لکھ دیا۔ ایک دکھ تھا شاید روایات کے مرنے کا، تو مرتے ہوۓ لیٹر بکس کو ہی زباں دے دی ۔اس نے مجھے پکار کر کہا تھا، دیکھو میں مر رہا ہوں- میں نے سنا ہے کہ تم اب اپنی خوشیاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں شئیر کر لیتے ہو ، لیکن یاد رکھنا، وہ میٹھا میٹھا انتظار کا درد، وہ لفافہ کھولنے سے باہر نکلنے اور عید کارڈ پڑھنے کے درمیاں والا  چند لمحوں کا تجسس، وہ کسی کے ہاتھ سے لکھے جذبات پڑھنے والی خوشی کہاں سے لاؤ گے ؟

بسنت بھی گئی اور بیساکھی بھی،

اب تو بیساکھیوں والے تلوار نکالے ہر روایت کو ،رواداری کو اپنے نظریات کے ترازو میں تول کر فیصلے صادر کر رہے ہیں ، مجھے اب مر ہی جانا چاہیے، مجھے تم ایسوں کے درمیاں اب نہیں رہنا۔۔میں نے بے بسی سے اس کی ایک تصویر بنا لی کہ یادوں میں تو محفوظ رہے – کیوں کہ ہوسکتا ہے کسی دن کہیں کہیں لگے ہوۓ یہ لیٹر بکس بھی نا پید ہو جائیں ہماری روایات ثقافت رواداری اور برداشت کی طرح !!

فخر اقبال خان بلوچ
فخر اقبال خان بلوچ
بی کام- ایل ایل بی لہو رستے قلم کا ہاتھ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *