اختصاریئے    ( صفحہ نمبر 21 )

ہم بار بار کامیڈی کی شکل میں جنمے/یاسر جواد

2023ء کا سال میرے لیے بہت اہم ہے، اور جی نہیں چاہتا کہ یہ ختم ہو، مگر آٹھواں مہینہ آ چکا ہے۔ اسی سال کے شروع میں ول ڈیورانٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا، پھر کتاب کہانی کے دو ایڈیشن شائع←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر بہو اب برینڈ نہیں رہی/ڈاکٹر محمد شافع صابر

سنا تھا، پڑھا تھا کہ ڈاکٹر بہو صرف بہو نہیں ایک برانڈ ہوتی ہے۔لیکن ہر گزرتے  دن  کیساتھ یہ برانڈ اپنی اہمیت  کھوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر  بننے کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جو بن رہے ان میں←  مزید پڑھیے

ایک زبردست انقلاب کی آمد ہے/تحسین اللہ خان

آسمان پر آپ نے ستاروں کی ایک ٹرین دیکھی ہوگی اب یہ ٹرین آپ بار بار دیکھیں گے اسکو سٹار لنک کہتے ہیں۔ یہ سٹار لنک ہزاروں سیٹلائٹس کا ایک برج ہے یہ سیٹلائٹس ایک سیدھی ٹرین بناتے ہیں۔یہ ایک←  مزید پڑھیے

مردانگی کی موج کا آخری کنارہ کہاں ہے؟/یاسر جواد

مملکت خداداد پاکستان میں اتنا کچھ گھٹیا ہے اور اتنی گہرائی تک سرایت پذیر ہو چکا ہے اور قبول بھی کر لیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے گھٹیا پن کو دیکھنے کے لیے دوسروں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ مثلاً←  مزید پڑھیے

واقعہ کربلا اور ناصبیت کے حیلے/نعیم اختر ربّانی

آج ایک مولانا صاحب کا بیان سننے کا موقع ملا۔ جناب نے واقعہ کربلا کو یہودیوں کی سازش قرار دیا۔ کہا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے لے کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تک سب کو←  مزید پڑھیے

تاریخی علامت اور علامتی تاریخ/یاسر جواد

نوعِ انسان کے بہترین آئیڈیلز علامتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہم اپنے اندر ’بہترین‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کا اظہار یا دکھاوا کرتے ہیں۔ اچھائی یا نیکی اِس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کے سوا کیا ہے؟ آپ←  مزید پڑھیے

ہماری کہانی کون لکھے گا؟/یاسر جواد

چودھویں صدی میں جرمنی کا ایک شہر تھا ہیملن۔ وہاں کے شہری خوشی خوشی اپنے پتھر کے مکانات میں رہتے تھے۔ مگر چوہوں کی آفت نے آن گھیرا اور طاعون کی وبا پھیل گئی۔ چوہوں نے شہر کو ایک عذاب←  مزید پڑھیے

ذہانت (5) ۔ حادثہ/وہاراامباکر

حفاظت کے شعبے میں (شکر ہے کہ) ایسی مثالیں کم ہیں کہ الگورتھم کے مقابلے میں انسانی رائے کو ترجیح دی جاتی ہو۔ لیکن یہاں پر ہمیں ایک افسوسناک مثال برطانیہ میں ملتی ہے۔ ایلٹن ٹاورز برطانیہ کا سب سے←  مزید پڑھیے

پشتون غیرت/مسکین جی

ان دنوں خیبر پختونخوا  کے علاقے دِیر کے ایک لڑکے نصر اللہ اور بھارت (دہلی) کی ایک لڑکی انجو کی پریم کتھا شہہ سرخیوں کا حصّہ بنی ہوئی ہے۔ میری اس تحریر کا مخاطب نہ ہی عالمی میڈیا ہے اور←  مزید پڑھیے

پائی پیڈے اور شوکت ترین کی مشترکہ عادت/ اعظم معراج

میرے گھر والے نہیں کہتے یہ میرا اپنا شوق ہے۔جس کی خاطر میں ذلیل ہوتا ہوں۔ ہمارے ایک بچپن کے دوست تھے نام تو انکا شائد رشید تھا لیکن نک نیم پیڈا تھا، جب وی سی آر پر کاروباری حضرات←  مزید پڑھیے

ذہانت (4) ۔ عالمی جنگ/وہاراامباکر

سٹانسلاو پیٹروف روس کے ملٹری افسر تھے۔ ان کا کام نیوکلئیر حملوں کے خلاف بروقت وارننگ سسٹم کی نگرانی تھا۔ اگر کمپیوٹر کی طرف سے ایسا کچھ پکڑا جائے تو ان کا کام تھا کہ وہ فوری طور پر افسرانِ←  مزید پڑھیے

تربوز کے چھلکے جیسے بے کار لکھاری/یاسر جواد

کیا یہ یا اس قسم کی روایتی عبارت کوئی اہمیت رکھتی ہے؟ نہیں۔ کیا کوئی اِسے کبھی پڑھتا بھی ہے؟ نہیں۔ تحریروں کے چور اُچکے اِس عبارت سمیت پوری پوری کتاب چرا لینے کے عادی ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے←  مزید پڑھیے

ذہانت (3) ۔ قدرتی بے وقوفی؟/وہاراامباکر

آئیڈاہو کی ریاست میں 2012 میں معذور لوگوں میں سے کئی کو بتایا گیا کہ ان کو ملنے والی ریاستی رقم کم کی جا رہی ہے۔ اور اس میں تیس فیصد تک کی کمی کر دی گئی۔ یہ کوئی سیاسی←  مزید پڑھیے

منٹو کا دھواں: ایک غیر ادبی تاثر/اظہر علی

دھواں منٹو کے ان افسانوں میں سے ایک ہے جن کے سبب منٹو کو عدالتوں کی دھول کھانی پڑی۔ آزادی سے پہلے برطانوی فوجداری عدالت میں دھواں کو فحش، غیر اخلاقی اور سماجی بےراہروی کو فروغ دینے کے جرم میں←  مزید پڑھیے

کوئی ایک امید افزا شعبہ بتائیں؟/یاسر جواد

بچوں سے یونیورسٹیوں میں چار سال تک لاکھوں روپے سالانہ فیس لینے کے بعد جب ٹرانسکرپٹ (رزلٹ کارڈ) لینے کا وقت آتا ہے تو دوبارہ پندرہ پندرہ روپے لیے جاتے ہیں۔ آگے داخلے کے لیے بھی کئی قسم کے ٹیسٹ←  مزید پڑھیے

ہر فکر کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا/اظہر علی

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا ہر فکر کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا       صرف ایک سگریٹ اُردو دنیا کے چیخوف راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ہے۔ یہ کہانی چوبیسوں گھنٹوں پر مشتمل ہے جو سنت←  مزید پڑھیے

مائے نی میں کِنوں آکھاں /عامر عثمان عادل

ایک اور کلی مسل دی گئی ایک اور غریب زادی امیر زادی کے ظلم کا شکار پیارے پڑھنے والو ! 14 سالہ رضوانہ جس کے ابھی کھیلنے اور پڑھنے کے دن تھے ۔ غربت  کے مارے ماں باپ نے اپنی←  مزید پڑھیے

ناپائیدار اور جعلی صدمے (2)-یاسر جواد

پہلا حصّہ پڑھنے کے لیے لنک کھولیے ناپائیدار اور جعلی صدمے (1)-یاسر جواد       کیا ہماری آئیڈیالوجی میں یہ بات شامل نہیں کہ ’فطری‘ طور پر عورت اور کردار متعین کر دیے گئے ہیں؟ کہ عورت کا کام←  مزید پڑھیے

ناپائیدار اور جعلی صدمے (1)-یاسر جواد

بہاولپور یونیورسٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے تاکہ پورے معاشرے کے ’ضمیر‘ اور ’احساس‘ کو بچایا جا سکے۔ کونسی ویگن اور بس، ہسپتال اور ہاسٹل، کالج اور یونیورسٹی ایسی ہے جہاں ہر وقت ہر مرد ہر دکھائی دینے والی←  مزید پڑھیے

مصنوعی آبی پرندوں کے دور میں/یاسر جواد

ہجرتی آبی پرندوں کو اپنی زمین پر اتارنے اور شکار کرنے کے لیے جعلی بطخیں لگانے کا رواج بہت قدیم ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب پبلک ٹرانسپورٹ موجود تھی تو کسی مرکزی سٹاپ پر کھڑی خالی ویگن میں بیٹھنے←  مزید پڑھیے