’’ذرا ہٹ کے‘‘ کی ٹیم کی نیت پر شک نہیں، نہ ہی ان پر کوئی تہمت باندھنا چاہتا ہوں، لیکن کیا ہے کہ آپ ہر دوسرے مہینے ’’ہم سب‘‘ کے آرٹیکلز کے حوالے دے کر اس کی لبرل سیکولر برانڈنگ← مزید پڑھیے
کوئی بھی معاملہ کرنے سے پہلے اس سے متعلق باتوں اور اصطلاحات کو غیر مبہم الفاظ میں لکھ لینا چاہیے۔ یہ نہ صرف قانونی ضرورت ہے بلکہ عوامی ضرورت بھی ہے۔ ایک صاحب میرے پاس مالیات سے متعلق فتویٰ پوچھنے← مزید پڑھیے
آپ نے سنا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا۔ جو کہا‘ چار دن گذر جانے کے باوجود اس کی باس (بدبو) ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی۔ اپنے آٹھ ماہ کے دور صدارت میں انہوں نے جنوبی ایشیا← مزید پڑھیے
امر یکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہو گئی ہیں, جو گیارہ روز تک جا ری رہیں گی. ’’ الچی فریڈم گارٹین ‘‘نا می مشقوں میں امر یکہ اور جنوبی کوریا کے 40 ہز ار اہلکار← مزید پڑھیے
بالاخر کافی عرصہ انتظار کے بعد ٹرمپ کا افغان پالیسی بیان سامنے آ ہی گیا اور یہ اس کے بالکل برعکس تھا جو ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں اس بارے میں کہتا رہا۔تفصیلی بیان سب کے سامنے آچکا ہے۔ سوال← مزید پڑھیے
ٹرمپ کو امریکہ میں ہی سنجیدہ نہیں لیا جاتا ہے۔اس کی وجہ موصوف کا اندازِ فکر اورلا ابالی طبیعت ہے۔ ہمیں مگر اس سے سروکار نہیں۔ ہمیں اس کے ہر بیان اور بالخصوص تازہ دھمکی کو سنجیدہ بھی لینا ہے،اس← مزید پڑھیے
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ دوسرے ممالک خصوصاً پاکستان کے ہاتھ نیو کلیئر ڈیل کی حمایت کرے اور یہ کہ گروپ دوسرے ممالک کی ضروریات کا بھی خیال← مزید پڑھیے
ہماری ویب رائٹرز کلب کی جانب سے 19 اگست 2017 کو پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے سلسلے میں ایک مجلس مکالمہ بعنوان “پاکستان کی آزادی کے 70 سال اور موجودہ تحریکیں“ کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس مکالمہ کا مقصد← مزید پڑھیے
رینے دیکارت نے ہماری موجودگی کی سب سے بڑی دلیل دیتے ہوئے کہا تھا ’’میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں‘‘ لیکن سوچنا بھی تو اپنے اثبات کی محتاج ہے اور یہ اثبات ’’اظہار‘‘ کی صورت ہوتا ہے۔ اظہار زبانی بھی ہو سکتا ہے، تحریری بھی۔ پھر انسان چونکہ معاشرتی حیوان ہے اس لئے اس کے مفادات باہم مربوط ہیں۔ یہی مربوط مفادات اسے ایک نظم اجتماعی کی جانب لے جاتے ہیں اور یہ نظم اجتماعی ارتقاء سے گزرتا ہے۔ ارتقاء نئے سوالات کھڑے کرتا ہے اور یہ سوالات ترقی کے لئے جوابات چاہتے ہیں۔← مزید پڑھیے
اس ملک خداداد کو اللہ نے بہت نوازا ہے ، قدرتی وسائل ، بہترین موسم اور باصلاحیت لوگ۔ ایسے ایسے نابغہ روزگارلوگوں نے اس ملک میں جنم لیا کہ جسے پوری دنیا نے قدرومنزلت سے دیکھا ۔ ڈاکڑ عبدالسلام ،← مزید پڑھیے
پچھلے تیس سال سے یہودیوں کے اس قبرستان میں کوئی یہودی دفن نہیں ہوا، یہ قبرستان کراچی کے علاقے میوہ شاہ میں واقع ہے. بتایا جاتا ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہوئے والے آخری دو افراد یہودیوں کی مسجد← مزید پڑھیے
ہم اپنے نظامِ شمسی میں دور دور تک پہنچ رہے ہیں، ہم نے خود کار کاریں تیار کر لی ہیں، مگر ابھی تک ہم اپنے روزمرہ کے مسائل حل کرنے میں بے اختیار ہیں. سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقیاں دنیا← مزید پڑھیے
میرے بہت سارے دوستوں نے اعتراض کیا کہ لاہور کے حلقے این اے ایک سو بیس سے نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے ٹکٹ اپنی اہلیہ، بیگم کلثوم نوازشریف کو جاری کیوں کر دیا ہے، یہ دوست خاندانی سیاست← مزید پڑھیے
کچھ باتیں ایسی ہیں جو ماضی کے جھروکے سے نکل نکل کر آج میرے شعور کے دروازوں پر مسلسل ٹکرا رہی ہیں. اگرچہ آج اس سانحے کو گزرے بہت دن ہو چکے ہیں. لیکن غم کی تکمیل آج ہوئی ہے.← مزید پڑھیے
نظام سیاست کا ایک وقیع لیکن سادہ سا عنصر جمھوریت ھے جس کے معنی کاروبار ریاست میں عوام کی رائے کا احترام ھے۔ برصغیر میں کالونیل ازم کے توسط سے قومی ریاستوں اور جمھوریت سے عام لوگ متعارف ھوئے تو← مزید پڑھیے
گزشتہ چند مہینوں کے دوران میں راقم الحروف کو کرسچین اسٹڈی سنٹر اسلام آباد کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ کی بعض نشستوں میں شرکت اور حاضرین کے سوالات کے جواب میں اپنے فہم کے مطابق گزارشات پیش کرنے کا← مزید پڑھیے
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے ویسا ہی بیان دیا ہے جیسے بیانات عمومی طورپر عوامی اعتماد سے محروم رہنے والے فرسٹریٹڈسیاستدانوں کے ساتھ منسوب ہوتے رہے ہیں تاکہ منتخب سیاستدانوں او راداروں کی توہین کی جا← مزید پڑھیے
آج 17 اگست ہے اور سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کی 29ویں برسی۔ آج ہی کے دن یعنی 17اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب بستی لال کمال کی فضاوں میں ایک طیارے کا حادثہ کیا پیش آیا جنرل← مزید پڑھیے
میں تو یہاں ایمسٹر ڈیم میں بیٹھ کر پاکستان کے یوم ِ آزادی کے حوالے سے اپنے اور اپنے ارد گرد یورپ میں بسنے والے ہم وطنو کے خیالات اور تاثرات جاننا چاہوں گا کہ میں تاریکی میں گم شدہ← مزید پڑھیے
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تین ایسے تاریخی دن5 جولائی 1977، 4 اپریل 1979 اور 17 اگست 1988 ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست اور سوچ کو بدل ڈالا۔5 جولائی 1977کی صبح جب پاکستانی عوام سوکر اٹھے تو انہیں پتہ← مزید پڑھیے