• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان کے بارے میں فیصلے اندھیرے میں نہیں اجالے میں ہوتے ہیں

پاکستان کے بارے میں فیصلے اندھیرے میں نہیں اجالے میں ہوتے ہیں

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ دوسرے ممالک خصوصاً پاکستان کے ہاتھ نیو کلیئر ڈیل کی حمایت کرے اور یہ کہ گروپ دوسرے ممالک کی ضروریات کا بھی خیال کرے،تجزیہ نگار وں کے مطابق “دوسرے فریق ممالک”سے مراد چین کا اتحادی پاکستا ن ہے کہ چین کے ایک اہم عہدہ دار نے حال ہی میں دہلی میں دیے گئے ایک بیا ن میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ پُرامن مقاصد کے ایٹمی توانائی کے استعمال کے خواہاں ممالک کی ضرورت کا خیال رکھے،ادھر مغربی خبر رساں ایجنسیوں اور حکام اعلیٰ نے بتایا کہ نامزد وزیراعظم خاقان عباسی آئندہ کسی وقت چین کا دورہ کریں گے۔ جہاں وہ بھارت اور امریکہ کی طرز پر پاکستان اور چین کے درمیان سول نیوکلیئر ڈیل پر مذاکرات کریں گے۔ اعلیٰ حکام کے مطابق مجوزہ ڈیل کی تکمیل سے چین،پاکستان کو توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے نیو کلیئر میٹریل سپلائی کرے گا۔

وزیراعظم خاقان عباسی کے دورہ ء چین سے ایک بات تو طے ہوجائے گی کہ امریکہ،پاکستان کے ساتھ ایسا ہی کوئی نیوکلیئر تعاون یا معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جیسا کہ وہ بھارت کے ساتھ کر چکا ہے۔یہ بات امریکی حکام کئی بارکہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے امریکہ نے بھارت کے ساتھ جس طرح کانیو کلیئر معاہدہ کیا ہے اس قسم کا نیوکلیئر تعاون اور معاہدہ وہ پاکستان کے ساتھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ امریکہ کے کہنے پر بھارت نے انٹر نیشنل اٹیمک انرجی ایجنسی اور 45رکنی نیو کلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔پاکستان نے اس معاہدہ کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔لہذا امریکہ کو پاکستان سے بھی ایسا ہی معاہدہ کرنا چاہیے،۔

اسی دوران پاکستان کے وزیراعظم (سابق)میاں نواز شریف نے اپنے دورہ میں امریکہ سے پُرزور مطالبہ کیا تھا کہ جس طرح اس نے بھارت کے ساتھ نیوکلیئر تعاون کا معاہدہ کیاہے پاکستان کے ساتھ بھی کوئی اس طرح کا معاہدہ کرے اور پاکستان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کرے۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت الگ الگ ہیں،دونوں ممالک کی سیاست اور کہانیاں الگ الگ ہیں۔گزشتہ دنوں ایک مغربی سفارت کار نے جو کہ یورپی یونین میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز ہے،اپنی شناخت مخفی رکھنے پر مجھے بتایا کہ “امریکہ اور پاکستان کے درمیان جس طرح کے تعلقات ہیں وہ علیحدہ نوعیت رکھتے ہیں۔امریکہ پاکستان کے ساتھ مخالف دہشت گردی جنگ میں تعاون کرنے کے وعدے کا پابند ہے۔پاکستان کا نیوکلیئر عدم پھیلاؤ ریکارڈ ایسا ہی پاک و صاف نہیں ہے جیسا کہ بھارت کا، اس کے علاوہ پاکستان کو توانائی کی ایسی ضرورت نہیں ہے جیسے کہ بھارت کو ہے “۔

یورپی یونین کے ممالک ممبران کی رائے امریکہ سے ملتی جلتی ہے لیکن پاکستان کی نیشنل کمانڈر اتھارٹی اس رائے سے متفق نہیں ہے۔اس نے امریکہ کو “خبردار” کیا ہے۔کہ بھارت امریکہ نیوکلیئر تعاون معاہدہ سے فوجی توازن میں پیچیدگی پیدا ہوجائے گی کہ اس معاہدہ کے نتیجے میں بھارت اپنا مٹیریل تیار کرسکے گا اور تحفظ کے دائرہ کو پس پشت ڈال کر نیوکلیئر ری ایکٹروں سے حاصل کردہ مٹیریل سے نیوکلیئر بم تیار کرسکتا ہے،پاکستان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ پیکج کے طریقہ کار پر عمل کرتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیاء میں فوجی تعاون اور نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔ اور نیوکلیئر دوڑ کا تدارک ہوجاتا ہے ،علاوہ ازیں دونوں ملکوں (پاکستان،بھارت) کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کرنے کی جائز ضرورت کاازالہ ہوجاتا۔

پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان کم سے کم “دھاک” کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس علاقے میں اسلحہ کی دوڑ کو نظر انداز کرنے کے باوجود اپنی سلامتی سے غافل نہیں رہ سکتا اور توانائی کے شعبہ کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ چین نے پاکستان کو تین سو میگا واٹ کے دو پلانٹ چشمہ ون اور چشمہ ٹو دے رکھے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان سب کے باوجود ملک میں بجلی کا بحران اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔میرے حساب سے یہ درست ہے کہ ایشیا کے دو بڑے ممالک چین اور بھارت اپنی نیوکلیئر طاقت میں اضافہ کررہے ہیں ،اس کے علاوہ دیگر ایشیائی ممالک بھی یا تو نیوکلیئر طاقت بننے کی تیاری کررہے ہیں یا اپنے ممالک میں سویلین نیوکلیئر پروگرام چلانے کا ارادہ ظاہر کررہے ہیں۔

مثال کے طور پر ویت نام نے آئندہ دس برسوں میں دو نیو کلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔تھائی لینڈ میں بھی نیو کلیئر پلانٹ کی تعمیر کے مقاصدسے ریسرچ جاری ہے۔ملائشیا نے بھی کہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اپنی نیوکلیئر طاقت کے بارے میں غور خوص کرے گا۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے اپنے ملک میں نیوکلیئر پلانٹس کی تعداد میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جاپان جو ایشیا کا حصہ ہے اور امریکہ اور فرانس کے بعد یہ پروگرام چلانے والا تیسرا بڑ ملک ہے وہ بھی نیوکلیئر ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ کرنے میں مصروف ہے لیکن اس سلسلے میں جاپان بہت محتاط ہے کہ 1999میں کائیمورا پلانٹ میں ایک حادثہ ہوا تھا،وہ اب دوبارہ اس طرح کے حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب ہانگ کانگ کی انتظامیہ پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملک میں نیوکلیئر ایٹمی پلانٹ کی تعمیر جلد از جلد کریں یا پھر سرحد کی دوسری جانب چین سے فائدہ اٹھائیں، اس کا مقصد جزیرہ کے بگڑتے ہوئے ماحول یعنی ماحولیات کا تحفظ کرنا بھی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ہانگ کانگ نے اس آلودگی پر قابو نہ پایا تو دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی چین کے تجارتی تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ایسی صورتحال میں جب ہم پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں تو کوئی بھی ہماری بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے،نہ ہی نیو کلیئر انرجی کے فقدان کے بارے میں،نہ ڈاکٹر قدیر کے بارے میں،نہ ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے بارے میں اور نہ دہشتگردی کے عدم پھیلاؤ کے بارے میں ۔

لگتا ہے کہ گردشیں ہمارے نصیب میں لکھ دی گئیں ہیں،کوئی ملک بھی ہماری بات کا یقین کیوں نہیں کرتا؟۔۔آخر ہمارے ساتھ خرابی کیا ہے کہ بحیثیت قوم کوئی دوسری قوم ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتی؟ ہمارے الفاظ ہمارا چہرہ کیوں نہیں بن پاتے؟،علاقے سے گزرنے والی ہوائیں نامہرباں کیوں ہیں؟،یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رات کیوں ٹھہر گئی ہے؟کیا ہمارے ہاں ذہین لوگوں کا قحط ہے؟آخر خرابی کہاں ہے؟
میں بھی سوچتا ہوں،آپ بھی سوچیے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *