کالم    ( صفحہ نمبر 275 )

ایک ہاتھ سے کام کرنے والی ٹنڈی قوم۔۔۔۔عطا الحق قاسمی

میں جب اقبالؔ کو پڑھتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ خدا نے کنول کا یہ پھول کن پانیوں میں اُگایا ہے؟ گزشتہ رات کلیاتِ اقبال کا مطالعہ کرتے ہوئے میں ایک دفعہ پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اقبال←  مزید پڑھیے

پیارے مفتی صاحب کے جواب میں۔۔۔۔سلیم صافی

گزشتہ روز جنگ کا ادارتی صفحہ اٹھایا تو اس میں شائع شدہ اپنے پیارے حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی تصویر اور تحریر پر نظر پڑی۔ سوچا کہ انہوں نے دیگر علمائے کرام کی طرح گزشتہ رات قوم سے خطاب←  مزید پڑھیے

ایوان صدر کے طوطے۔۔۔آصف محمود

وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں 23 لاکھ میں نیلام کرنے والی حکومت نے ایوان صدر کے طوطوں کے پنجرے کے لیے 19لاکھ 48 ہزار کا پنجرہ تیار کرانے کے لیے ٹینڈر جاری فرما دیا ۔ بیوروکریسی کی یہ ادا دیکھی←  مزید پڑھیے

بجٹ، حکومتی دعوے اور حقائق۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

حکومتوں کے اپنے مسائل، اہداف اور اقدامات ہوتے ہیں، جن پر اپوزیشن جماعتیں ہمیشہ واویلا کرتی ہیں۔ بالخصوص جب بھی کوئی حکومت بجٹ پیش کرتی ہے تو اپوزیشن بجٹ کی کاپیاں اسمبلی میں پھاڑتی ہے، سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو←  مزید پڑھیے

ملازمت، نجی زندگی اور کارپوریٹ ایتھکس ۔۔۔ معاذ بن محمود

تنخواہ دفتر میں کام کرنے کی ملتی ہے۔ پڑوسی سے نہ لڑنے کی نہیں۔ ہمیں ملازمت کی تعریف کو دیکھنا ہوگا۔ ملازمت اپنی خدمات کے عوض معاوضہ لیے جانے کا نام ہے۔ ہر معاہدے کی طرح اس معاہدے کے حقوق و فرائض بھی محدود پیمانے پر طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہر معاہدے کی طرح یہ معاہدہ بھی ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتی کوئی شق نہیں ڈال سکتا۔ ہاں ادارے کا کوڈ آف کانڈکٹ ہو جس کے تحت آپ نے سوشل میڈیا پر بھی اچھا بچہ بن کر رہنا ہے، اور جسے معاہدے کے حصے کے طور پر قبول کر کے آپ نے ملازمت قبول کی ہو تو معاملہ الگ ہے۔ تب آپ پابند ہیں سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ نہ کرنے کے جسے نہ کرنے کا آپ نے معاہدے میں عہد کر کے دستخط کیا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے ۔۔۔ رضوان ظفر گورمانی

حفیظ شیخ، فردوس عاشق اعوان، شوکت بصرہ، فواد چودھری، ندیم چن جب پیپلز پارٹی کی حکومت میں تھے تب حکومت کرپٹ تھی۔ آج وہ انصاف لانڈری سروس سے دھل کر صاف شفاف ہو چکے ہیں۔ عمر ایوب خان، چودھری سرور، خسرو بختیار سمیت ن لیگی انصافی جب ن لیگ میں تھے تو حکومت کا ہر ایم پی اے ایم این اے کرپٹ تھا آج تحریک انصاف میں سب اچھا ہے۔←  مزید پڑھیے

سرمایہ داری،یہ ایک عالمی ہمہ گیر مسئلہ ہے۔۔۔۔۔اسدمفتی

امریکہ کے ایک ایم ادارہ راسموس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی بحران کا شکار اور قوم اور سرمایہ دارانہ نظام کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کے ساتھ”سوشلزم”جس کو کچھ عرصہ←  مزید پڑھیے

انور سجاد کا خوشیوں کا باغ۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کہاوت تو یہی ہے کہ ’’آج مرے اور کل دوسرا دن‘‘ ویسے کہنا تو یہ چاہئے کہ ’’آج مرے تو کل قیامت‘‘ انور سجاد کو مرے ہوئے آج دوسرا نہیں پانچواں دن ہے۔ میرا دُکھ قدرے کم ہو گیا ہے←  مزید پڑھیے

عزتِ نفس کدھر گئی؟۔۔۔۔آصف جیلانی

پڑوسیوں سے امن اور دوستی کی کوشش بلا شبہ صائب ہے کیوں کہ آپ اپنا وجود اپنے پڑوسیوں سے منقطع کرکے کہیں اور منتقل نہیں کر سکتے۔لیکن پڑوسیوں سے امن اور دوستی کے ماحول کے قیام کے سلسلہ خوش آمدانہ←  مزید پڑھیے

پاکستانی نمک – ایک اور ٹرک کی بتی۔۔۔عامر کاکازئی

کچھ دن سے کٹوں، مرغی، انڈوں، کرپشن، کوئی ٹیکس نہیں دیتا، چور بزنس مین کے بعد ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے سادہ لوح پاکستانیوں  اور انصافیوں کو لگا دیا گیا ہے۔ وہ ہے نمک۔ مضمون کو ان اشعار←  مزید پڑھیے

مقروض کا مقروضوں سے ایک سوال ۔۔۔۔حسن نثار

میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا منظر دیکھ کر خود میری آنکھیں بھی بھیگ جائیں گی۔ بیٹی نے جتنی محبت، وارفتگی کے ساتھ گلے لگا کر باپ کو رخصت کیا وہ واقعی دل د کھا دینے والا لمحہ←  مزید پڑھیے

غربت، قحط اور امرتا سین۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

امرتا سین ایک ہندوستانی معیشت دان ہیں، بنگال میں پلے بڑھے، کلکتہ میں تعلیم حاصل کی، ٹرنٹی کالج، کیمبرج سے معاشیات میں ڈگری لی، پھر بھارت واپس آ گئے اور کلکتہ کی ایک جامعہ سے وابستہ ہو گئے، بعد ازاں←  مزید پڑھیے

رسوائیوں سے ڈرتا ہوں۔۔۔۔حامد میر

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔ ایک دفعہ پھر کچھ لوگ جیت کر ہارنے والے اور کچھ نہتے لوگ ہار کر جیتنے والے ہیں۔ کچھ لوگوں کا انجام دیوار پر لکھا جا چکا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح کسی←  مزید پڑھیے

کفن فروش گورکن۔۔۔حسن نثار

لال حویلی کے لعل شیخ رشید نے دو اہم باتیں کی ہیں جن کا پوسٹ مارٹم بہت ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ ’’لولی لنگڑی جمہوریت کسی حادثہ سے دوچار ہو سکتی ہے‘‘۔ شیخ صاحب کے منہ میں گھی شکر←  مزید پڑھیے

سرائیکی وسیب میں چند دن ۔۔۔۔عامر خاکوانی

پچھلا پورا ہفتہ سرائیکی وسیب میں گزرا۔’’وسیب ‘‘کی اصطلاح سرائیکی خطے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ستائیس رمضان سے لے کر عید کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد تک احمدپورشرقیہ، بہاولپور اور پھر ملتان میں رہا۔سخت گرمی نے ہر ایک←  مزید پڑھیے

مطالعہ پاکستان۔۔۔آصف محمود

برطانیہ میں 8 جون کو سرکاری سطح پر غیر معمولی اہتمام کے ساتھ ملکہ کی سالگرہ منائی گئی، لیکن ملکہ کا یوم پیدائش تو 21 اپریل ہے۔ پھر ان کی سالگرہ کی پر تکلف سرکاری تقریب 8 جون کو کیوں؟’’←  مزید پڑھیے

پاگل خان،پاگل پاکستان۔۔۔۔روبینہ فیصل

ہندو اکثریت والی کانگریس اور انگریز سرکار ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے ۔ مگر کیبنٹ مشن کو دھتکار کر نہرو اور پاٹیل نے ہندوستان کے آخری بر طانوی وائسرئے ماءونٹ بیٹن کو اس بند گلی میں لا کھڑا کر←  مزید پڑھیے

تیسری دنیا میں اعضا کا کاروبار۔۔۔۔اسد مفتی

لندن کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے ’’افریقہ میں فوج نے ستر ہزار سے زیادہ جنگ جوئوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے 550سے زیادہ بچوں اور بچیوں کو جو بارہ سال سے کم عمر کے ہیں، مختلف←  مزید پڑھیے

شکرِ خداوند تعالیٰ۔۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

میرے ایک نہایت عزیز خدا ترس دوست عبدالرشید سیال ملتان میں ایک کلینک چلا رہے ہیں۔ ان کی کتاب امریکی طلبہ کو پڑھائی جاتی ہے۔ خوفِ خدا اور خدمت خلق انکے چہرے، رگ رگ اور اعمال سے نظر آتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

موت پر قابو پانے کی خواہش ۔۔یاسر پیرزادہ

جلال الدین محمد اکبر سے بڑا مغل شہنشاہ کوئی نہیں گزرا، اکبر اعظم اسے کہا جاتا ہے، اس کا دورِ اقتدار تقریباً نصف صدی پر محیط ہے، اکبر نے جنگیں لڑیں، اصلاحات کیں اور اقتصادی ترقی کی مثال قائم کی←  مزید پڑھیے