کفن فروش گورکن۔۔۔حسن نثار

لال حویلی کے لعل شیخ رشید نے دو اہم باتیں کی ہیں جن کا پوسٹ مارٹم بہت ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ ’’لولی لنگڑی جمہوریت کسی حادثہ سے دوچار ہو سکتی ہے‘‘۔ شیخ صاحب کے منہ میں گھی شکر کیونکہ یہ جمہوریت جسمانی طور پر ہی لولی لنگڑی نہیں، ذہنی طور پر بھی ری ٹارڈڈ ہے جسے اخلاقی حوالہ سے اخلاق باختہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ جمہوریت کے دعویداروں کی اکثریت دراصل جمہوریت کی فصل کی سنڈیوں پر مشتمل ہے اور اسی لئے آج تک یہ فصل پوری طرح جوان نہیں ہو سکی۔ جب تک یہ سیاسی سنڈیاں پوری طرح تلف نہیں ہوتیں، جمہوریت لولی لنگڑی بھی رہےگی اور حادثات کے امکانات بھی یونہی روشن رہیں گے۔ گزشتہ دس سال میں یہ جمہوریت اس ملک کے جمہور کا جو حشر کر چکی ہے، اسے ریورس کرنے کیلئے بھی تقریباً اتنا ہی وقت درکار ہوگا۔ ملکی اقتصادیات سے لیکر عوامی اخلاقیات تک چند جمہوری چیمپئنز نے جو چاند چڑھائے اور گل کھلائے اس کی انتہا یہ ہے کہ آج بھارتی وزیراعظم پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر کورا جواب دے چکا۔عمران خان نےبھی کچھ عجلت سے کام لیا۔ شاہ محمود قریشی کا خط ہی کافی تھا۔ نجانے وزیراعظم نے خود پیش قدمی کو ضروری کیوں سمجھا؟ امن کی خواہش اور کوشش ایک انتہائی قابل ستائش بات ہے لیکن عزتِ نفس کی قیمت پر امن شاید کسی بھی پاکستانی کو قبول نہ ہو۔

دوسری بات یہ کہ امن کی امید کس سے؟ جنگ کے دیوتائوں اور انتہا پسندی کی علامتوں سے امن کی توقع، چیلوں اور مردار خور گدھوں سے ماس کی امید کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ خصوصاً ہمارے موجودہ حالات میں جب ملک اقتصادی بحالی اور استحکام کی چومکھی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسی کسی پیشکش کیلئے یہ وقت ہی نامناسب اور ناموزوں ہے اس لئے فی الحال فوکس کریں اقتصادی بحران سے نکلنے پر کہ فی الحال یہی اصل امتحان ہے۔ امن و امان کی بات کچھ دیر بعد بھی کی جا سکتی ہے باقی ماشاءاللہ حکومت خود بڑی سیانی ہے چاہے تو دوبارہ سہہ بارہ سعی کر دیکھے، نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات نکلے گا۔بات چلی تھی شیخ رشید کی دو باتوں سے جو باتوں باتوں میں بھارت جا پہنچی تو اب واپس چلتے ہیں شیخ کی طرف سے ملنے والی اس خوش خبری کی طرف کہ یہ لولی لنگڑی جمہوریت کسی حادثہ کا شکار ہو سکتی ہے تو مختصراً عرض ہے کہ یہ جمہوریت تو خود کسی حادثہ سے کم نہیں جس کے نتیجہ میں تقریباً 22کروڑ پاکستانی زخمی ہیں اور محروم طبقہ تو باقاعدہ آئی سی یو میں پہنچ چکا ہے۔شیخ رشید کے بیان کا یہ دوسرا حصہ باقاعدہ کنفیوژ کر دینے والا ہے کہ ’’سورج مغرب سے نکل سکتا ہے لیکن نواز زرداری کی اقتدار میں واپسی کا کوئی امکان نہیں‘‘۔اصل ایشو یہ نہیں کہ ان دونوں کی واپسی کا امکان ہے یا نہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کی ’’تازہ دم‘‘ اور زیادہ ’’تجربہ کار‘‘ نسلوں کی اقتدار میں آمد کا امکان ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کتنے فیصد؟ایسا ہوا تو وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے جس کا شاید آج تصور بھی ممکن نہیں۔ صرف وہ لطیفہ یاد دلائوں گا جس کا مرکزی کردار اک ایسا گورکن تھا جو اپنے قبرستان میں دفنائے جانے والے مردوں کے کفن بھی بیچ دیا کرتا تھا، اس لئے واقفانِ حال اس کفن چور گورکن سے شدید نفرت کرتے تھے لیکن اس کی موت کے بعد جب اس کے بچوں نے مردوں کے کفن بیچنے کے ساتھ ساتھ ان کے اعضاء بھی بیچنا شروع کر دیئے تو لوگوں نے ان کے باپ کی تعریفیں کرنا شروع کر دیں کہ کتنا بھلا مانس تھا جو صرف مردوں کے کفن بیچنے پر ہی اکتفا کرتا تھا۔شیخ رشید وضاحت کریں کہ کفن چوروں کے بعد اعضاء فروشوں کی آمد کے امکانات کتنے فیصد ہیں تاکہ اسی حساب سے ذہنی طور پر تیار ہوا جا سکے۔آخری بات بہت خوش کن اور حوصلہ افزا ہے کہ عزت مآب جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے حوالہ سے وکلاء حضرات تقسیم ہو گئے ہیں اور وکلاء کی کثیر تعداد نے ہڑتال کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے ججوں کے بے لاگ احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ بقول ان کے…ہم وکلاء بچائو تحریک ہیں، جج بچائو تحریک نہیںجج کوئی مقدس گائے نہیںجس جج پر بھی الزام لگے گا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہو گی۔وزیر قانون کا لائسنس منسوخ کرنا قابلِ مذمت ہے۔ پاکستان بار کونسل 14جون کو دی جانے و الی ہڑتال کی کال واپس لے۔آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے، کسی بھی شخصیت کا نہیں، اداروں کا تقدس ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سے سب آگاہ ہیں، الزامات درست نہ ہوئے تو ریفرنس خودبخود ختم ہو جائے گا۔ادھر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کیمبرج یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا’’فائز عیسیٰ ریفرنس، حکومت نہیں جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے۔ انصاف ہو گا۔حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹا سکتی ہے۔ یہ عدالتوں کا مسئلہ ہے ۔اپنے ججز پر اعتماد کریں۔ قانون کی حکمرانی ہو گی‘‘۔بھلا اس سے زیادہ خوش کن اور حوصلہ افزا بات کیا ہو سکتی ہے لیکن وہ کفن فروش گورکن والا مسئلہ بہرحال اپنی جگہ موجود ہے۔

بشکریہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *