سرائیکی وسیب میں چند دن ۔۔۔۔عامر خاکوانی

پچھلا پورا ہفتہ سرائیکی وسیب میں گزرا۔’’وسیب ‘‘کی اصطلاح سرائیکی خطے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ستائیس رمضان سے لے کر عید کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد تک احمدپورشرقیہ، بہاولپور اور پھر ملتان میں رہا۔سخت گرمی نے ہر ایک کے حواس مختل کر رکھے تھے۔ چھیالیس، اڑتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں آدمی آخر کیا کر سکتا ہے؟روزمرہ معمولاتِ زندگی مگر موسموں کی سختی سے بے نیاز ہیں۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی سخت گرمی پڑتی ہے،جنوبی پنجاب میں مگر صحراکے اثرات سے’’ آتشی مزاج لو‘‘میں تندی، کاٹ بڑھ جاتی ہے۔ ملتان میں تو خاص طور سے یوں لگتا ہے جیسے گرم ہوا کے تھپیڑوں میں خنجر کا نوکیلا پن ہے، چہرے پر اگر کپڑا نہ لپیٹا جائے تو جلد چھلنی چھلنی محسوس ہوتی ہے۔ زندگی کا نصف کے قریب حصہ احمدپورشرقیہ میں گزرا۔یہی گرمی برداشت کرتے رہے، مگر اب اعصاب جواب دے جاتے ہیں، اتنا حوصلہ نہیں رہا یا پھر شائد سہولت کے عادی ہوگئے۔ برسوں پہلے ہاسٹل کے ایک دوست کی بات یاد آتی ہے، اس کا کہنا تھا،’’ تکلیف کا آدمی کیسے عادی ہوسکتا ہے؟ مجبوری میں برداشت کرنا پڑتا ہے، مگر اس مجبوری کی ذلت اور پریشانی کو عادی ہونا کہہ کر توقیر نہ بخشی جائے۔‘‘ پچھلے کئی برسوں سے جب بھی سرائیکی وسیب جانا ہو، ایک عجب طرح کی پژمردگی ، یاسیت اور مایوسی لوگوں کے چہروں پر نظر آتی ہے۔ زرداری حکومت ہو یا ن لیگ کی حکومتیںیا پھر اب عمران خان کی حکومت…لوگوں کا ردعمل ایک ہی طرح کا ہے۔ مایوسی کی چادر میں لپٹے وجود، پھیکی مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک مفقود، لہجے سے ٹپکتی قنوطیت۔ سرائیکی علاقوں کے بارے میں جاننے والوں کو علم ہے کہ وہاں کا معاملہ دیگرعلاقوںسے مختلف ہے۔سرائیکی عوام طبعاً اپنے علاقے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ کہیں باہر جاناخاص کر کسی دوسرے علاقے میں مقیم ہوجانا ان کے لئے بڑا مشکل اور سخت ناپسندیدہ ہے۔ سرائیکی اپنے اس رنج، پریشانی کے لئے لفظ ’’مونجھ ‘‘استعمال کرتے ہیں۔ مونجھ یعنی ’’یاد ‘‘سرائیکی کلچر کا بڑا اہم حصہ ہے۔ لوگ دوسرے شہر میں ملازمت کرنے جاتے ہیں، مگر دل کی ڈور اپنی دھرتی سے جڑی ہے۔گاہے ہجر کی کیفیت شدید ہوتی اور پھروہ تمام بندشیں توڑ کر وسیب کا رخ کرتے ہیں، کوئی پوچھے تو ایک لفظ میں جواب ملتا ہے کہ مونجھ۔سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ اپنے گھر، اہل خانہ ، علاقہ کی محبت، یاد اس شخص کے لئے اب سوہاں روح بن گئی تھی اور چکر لگانا لازم ہوگیا تھا۔ اس مونجھ نے مگر ایک نقصان یہ پہنچایا کہ سرائیکی روزگار کے لئے دوردراز علاقوں کا سفر کرنے سے گریزاں رہے،طویل عرصہ تک فوج میں بھرتی ہونے سے گریزاں رہے، بیرون ملک کا رخ بڑی دیر سے کیا۔ خیر اب تو حالات بہت بدل چکے ہیں، لوگ باہر بھی چلے جاتے ہیں، جبکہ ملازمت، روزگار کے لئے لاہور، کراچی جیسے شہروں کا رخ کیا جارہا ہے۔ لاہور کے اکثر تعمیراتی پراجیکٹس میںکام کرنے والی لیبر کا تعلق سرائیکی خطے سے ہے۔ دراصل روزگار کے مسائل بہت شدید ہوچکے ہیں۔ سرائیکی علاقوں میںپروفیشنل مڈل کلاس سرے سے مفقود ہے۔ ایک خاص قسم کی وڈیروں، جاگیرداروں پر مشتمل ایلیٹ کلاس ہے یا بہت بڑے پیمانے پر لوئر کلاس جن کی آمدنی دس پندرہ ہزار ماہانہ سے کم ہے۔ کم سے کم اجرت کے سرکاری قانون کا اطلاق کاش بہاولپور، ملتان وغیرہ کے نجی سکولوں پر کوئی کر سکے۔ گلی گلی سکول کھل چکے ہیں، ایم اے ، ایم ایس سی کرنے والے لڑکے، لڑکیاں پانچ چھ ہزار پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ انڈسٹری لگ نہیں رہی، سرکاری ملازمت ملتی نہیں۔ کاشت کاری سے بہت لوگ وابستہ تھے، پچھلے چند برسوں سے زراعت بالکل ختم ہوگئی ہے۔ یہ محاورتاً نہیں کہا بلکہ حقیقتاً بات ہے کہ لودھراں، دنیا پور، میلسی، بہاولپور وغیرہ کی سونا اگلتی زمینوں میں اب کپاس کاشت کرنا زبردست گھاٹے کا سودا ہے۔کپاس کی نئی بیماریوں نے فصل تباہ کر دی اور فی ایکڑ پیداوار پہلے سے دس بیس گنا کم ہے، جی دس گنا سے بھی کم ، خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ جہاں پانی میسر ہے، وہاں کماد یعنی گنا اچھی آپشن ہے، مگر تین چار برسوں سے کاشت کاروں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس لئے وہ اپر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس جو بڑے شہروں میں ملتی ہے اور تجزیہ کار جن کو سامنے رکھ کر گفتگو کر تے ہیں، سرائیکی خطے میں یہ مڈل کلاس بہت کمزور ہوجانے کی وجہ سے سفید پوش گھرانے شدید دبائو کا شکار ہیں۔ وہ ہاتھ پھیلا نہیں سکتے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے کارڈ بھی نہیں بنوا سکتے، زکواتہ وہ نہیں لینا چاہتے، لیکن دوسری طرف ان کے لئے زندگی کا سفر جاری رکھنا محال ہوگیا ہے۔ عمران خان نے ملک کی دیگر پاکٹس کی طرح سرائیکیوں میں بھی امید کی جوت جگائی تھی۔ جولائی اٹھارہ کے انتخابات میں تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی، ملتان شہر سے اس نے سب اہم نشستیں جیت لیں،احمد پورشرقیہ سے جیت گئے، بہاولپور میں سابق وزیر بلیغ الرحمان کو شکست ہوئی، راجن پور میں جیت ملی، ڈی جی خان شہر سے زرتاج گل نے لغاری سرداروں کو شکست دی ،میانوالی سے تو سوئپ کیا،یہ وہ کامیابیاں ہیں جن میں عمران خان کے ذاتی ووٹ بینک نے اہم کردار ادا کیا، بعض حلقوں سے اہم الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ دے کر کامیابی یقینی بنائی گئی۔ سرائیکی عوام کوعمران خان سے دو بڑی توقعات تھیں،پہلا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ، دوسرا علاقے کی محرومی دور کرنے کے لئے سپیشل پیکیج اور ملازمتوں کی پیش کش۔ عمران خان نے ابھی تک عمومی طور پر خاصا مایوس کیا ہے۔ اپنی ناتجربہ کاری اور اچھی ٹیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی کارکردگی کا امپیکٹ نہیں بنا پائے ۔ اس مایوسی کا تاثر سرائیکیوں میں بھی نظر آیا۔تاہم مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وزیراعظم کا سٹیزن پورٹل پروگرام غیرمعمولی نتائج دے رہا ہے۔ دو تین جگہوں پر لوگوں نے مختلف واقعات سنائے کہ اس پورٹل پر شکایت درج کرانے کے چوبیس گھنٹوں میں مجاز حکام کا فون آ گیا اور مسئلہ حل ہوگیا۔ یہ واقعات اس قدر حیران کن تھے کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔ سنانے والے معتبر لوگ تھے اور ایک آدھ جگہ پر تو ن لیگی احباب بھی اس کا اعتراف کرتے پائے گئے۔ ہمارے ایک عزیز نے بتایا کہ ان کا عید آبائی شہر کرنے کا پروگرام تھا، شہر کے مضافات میں ان کی زمین اور گھر ہے، وہاں ٹرانسفارمر خراب ہوگیا اور وہ سوچ رہے تھے کہ بجلی نہیں ہے تو عید کرنے نہ جائیں۔ سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرائی تواگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ٹرانسفارمر تبدیل ہوگیا اور بدلنے کے بعد اہلکاروں نے فون کر کے اطلاع بھی دی۔ معلوم نہیں باقی ملک میں کیا پوزیشن ہے، مگر مجھے تو ہر جگہ وزیراعظم شکایت سیل، سٹیزن پورٹل کے مداح ہی ملے۔ لوگ پوچھتے رہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے کیا آپ ڈیٹ ہے؟ اس میں بھی دلچسپی تھی کہ ملتان میں ریجنل سیکرٹریٹ بن رہا ہے یا نہیں؟وزیراعلیٰ بزدار صاحب کے حوالے سے تاثر قدرے تبدیل ہوا ہے،مگر اب شائد دیر ہوچکی ہے۔ لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم وزیراعظم ہائوس سے نکلیں اور عوام سے رابطہ یقینی بنائیں۔ میں نے ہنس کر کہا کہ اتنی گرمی میں تو بیچارے وزیراعظم کو بخش دو، گرمی کم ہوجائے تو وہ غریب باہر نکل سکتا ہے۔اپوزیشن کی تحریک کے حوالے سے عمومی تاثر منفی تھا اور ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ یہ اپنا لوٹا مال بچانے کے لئے اکٹھے ہورہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ابھی تک ڈیلیور نہیں کیا، بجٹ بھی شائد زیادہ دل خوش کن نہ ہو، مگر اس کے حامی ابھی مایوس نہیں ہوئے۔ عمران پر تنقید کرنے والوں کو اندازہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹر احتساب کا شدید حامی ہے۔مہنگائی سے ہر کوئی متاثر ہوتا ہے، وہ لوگ بھی ہو رہے ہیں، حکومت کا دفاع ان سے نہیں بن پاتا، مگر وہ شدت سے چاہتے ہیں کہ لوٹ مار کرنے والوں کا بے رحمانہ احتساب کیا جائے۔ یہ غلط ہے کہ احتساب عوام کا ایشو نہیں۔ معلوم نہیں ایسی بات کرنے والے کس ملک کے عوام کی بات کرتے ہیں؟ایک کھانے پر گفتگو ہونے لگی،میزبان بزرگ عزیزہ نے تیکھے لہجے سے پوچھا کہ عمران خان کی جوتی کو کیا ہوا ہے؟ میں نے حیرانی سے کہامجھے تو معلوم نہیں، جوتی کو کیا ہوسکتا ہے۔کہنے لگیں،’’ عمران خان کا کَھلہ(جوتی)لگتا ہے ٹوٹ گیا ہے، اسے چاہیے کہ لوٹنے والوں کو کھلے (جوتے)لگائے اور سب لوٹا ہوا مال برآمد کرے، ہم اس سے صرف یہی چاہتے ہیں۔ ‘‘یہ وہ خاتون خانہ تھیں جنہوں نے گھر کا بجٹ بنانا ہے اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اور فوری اثر ان پر ہی پڑنا ہے۔ حیرت سے میں نے سوچا، ہمارے لاہور، اسلام آباد کے دانشور، سوشل میڈیائی افلاطون اپنے تبصروں، تجزیوں سے پہلے عام آدمی سے پوچھ لیں تو ان کی معلومات کس قدر اپ ڈیٹ ہوجائیں۔ نوشت: والدہ محترمہ کے انتقال کے شاک سے تاحال باہر نہیں آ سکا، ہر ایک کو اس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے، مگر اس کرب ، خالی پن اور شدت کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو سایہ سے محروم ہوگیا۔ یوں لگتا ہے جیسے سب ذائقے رخصت ہوگئے، خوشبوئیں دم توڑ گئیں، وجود کا بہت بڑا حصہ الگ ہوگیا اور اس کی تکلیف سہی نہیں جاتی۔کچھ یکسوئی ملے تو شائد اس پر لکھوں۔ قارئین سے استدعا ہے کہ والدہ مرحومہ کی بخشش اور ہمارے لئے صبر، حوصلہ کی دعاکریں۔ اللہ آپ کو، آپ کے پیاروں کو اپنی امان میں رکھے، آزمائشوں سے تادیربچائے، آمین۔

بشکریہ 92 نیوز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *