• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم۔۔ہارون الرشید

اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم۔۔ہارون الرشید

وہ ایک بہت ہی سرد, اداس اور بوجھل شام تھی اگلے دن یونیورسٹی میں سمیسٹر کے فائنلز شروع ہو رہے تھے یونیورسٹی میں کمبائنڈ سٹڈی کے بعد شام کو گھر پہنچا تو اندھیرا چھا چکا تھا میں نے امی سے کہا کہ میں سونے لگا ہوں, صبح پیپر ہے, رات کو اٹھ کے تیاری کروں گا کمرے میں آ کے رضائی اوڑھ کے سونے کی کوشش کرنے لگا نیند بھی اچھی سی نہیں آ رہی تھی, کچی پکی سی نیند میں نجانے کیسے الجھے گنجلک سے خواب آ رہے تھے کہ ایک دم بہن نے آ کے جھنجھوڑا اور زور سے بولی کہ ہارون! بے نظیر کو پنڈی میں قتل کر دیا گیا ہے مجھے لگا کہ یہ بھی کسی الجھے ہوئے خواب کا حصہ ہے, میں نے سنی ان سنی کر کے سونے کی کوشش جاری رکھی بہن کے پیچھے امی بھی کمرے میں آ گئیں اور بہن نے ایک بار پھر زور سے جگایا اور کہا ,سن نہیں رہے, بے نظیر قتل ہو گئی ہیں۔۔ ایک دم اٹھا تو دیکھا کہ لائٹ نہیں تھی پرویز مشرف کے دور میں نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی لہذا ابھی اس سے نمٹنے کے لیے یو پی ایس یا جنریٹر نہیں لیا گیا تھا۔ ٹی وی لاؤنج میں گیس لیمپ جل رہا تھا جس کی ہلکی, ملگجی سی روشنی کمرے میں آ رہی تھی میں نے ایک دم بہن سے کہا کہ دماغ ٹھیک ہے, لیاقت باغ میں اتنا بڑا جلسہ تھا آج, کس نے قتل کر دیا بے نظیر کو؟؟ جواب آیا جلسے سے نکلتے ہوئے دھماکہ ہوا اور بےنظیر ماری گئیں۔ ایک دم ہونقوں کی طرح اٹھا اور کمرے سے باہر آیا، فکری اور سیاسی طور پر پیپلزپارٹی سے 180 کے زاویے سے مختلف نظریات رکھنے کے باوجود گھر کے سبھی افراد کے چہرے پہ فکرمندی تھی اور ماحول میں گہری اداسی۔ سوشل میڈیا اس وقت عام ہوا تھا اور نہ ہی سمارٹ فون ،امی نے کہا فون پہ کسی سے رابطہ کر کے معلومات لو ،موبائل اٹھایا تو پتہ چلا سروس معطل ہے ،پی ٹی سی ایل اٹھایا تو وہ بھی خاموش تھا، لائٹ تھی نہیں, کسی سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، بڑے بھائی چند دنوں میں جاب کے سلسلے میں سعودی عرب جانے والے تھے تو اپنے کسی دوست سے ملنے پنڈی عسکری الیون گئے ہوئے تھے ،کسی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ دل سخت پریشان اور اضطراب میں تھا ،کافی دیر بعد لائٹ آئی تو تفصیلات پتہ لگیں کہ ملک کس قیامت سے گزر رہا ہے ۔۔بی بی جلسے کی کامیابی پر انتہائی خوش دکھائی دے رہی تھیں, ان کی تقریر ٹی وی چینلز بار بار چلا رہے تھے کیا جاندار اور پرجوش انداز تھا بی بی کی آخری تقریر کا، جب وہ تقریر کر رہی تھیں تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کے آخری لمحات میں کی گئی آخری تقریر ہو گی۔

جلسے کے بعد بی بی گاڑی میں بیٹھیں پرجوش جیالوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں جلسے کی کامیابی کی خوشی اور جوشیلے جیالوں سے محبت ان کے چہرے سے عیاں تھی ایک دم دھماکہ ہوا , ساتھ ہی بندوقوں سے گولیاں تڑتڑائیں اور بی بی گاڑی میں ڈھے گئیں ہسپتال پہنچائی گئیں اور جانبر نہ ہو سکیں اسی روز پنڈی میں مسلم لیگ کی ریلی پر بھی فائرنگ ہوئی لیکن نواز شریف بچ گئے خطرے کے باوجود نواز شریف ہسپتال پہنچے, بی بی کے کارکن بابو کے گلے لگ کے دھاڑیں مار کے روتے رہے۔

ساتھ ہی خبریں چلنے لگیں بی بی کی شہادت کی خبر کے ساتھ ہی کراچی سے خیبر تک بلوے شروع ہو گئے سکول, کالج, یونیورسٹیاں بند ہو گئیں, پیپر کینسل ہو گئے گھر سے نکلنا دشوار ہو گیا بھائی نے تین دن پنڈی میں بڑی بہن کے گھر گزارے, وہ بھی وہاں کس مشکل سے پہنچے, یہ الگ داستان ہے

بی بی کے قتل کے منصوبہ سازوں نے جائے وقوعہ سے چند منٹ میں ہی سارے نقوش دھو ڈالے ملک بھر میں پہلے سے تیار مسلح جتھوں کے ذریعے بینک لوٹے گئے, گاڑیاں توڑی گئیں, سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا یہ سب انہی لوگوں نے کروایا جنہوں نے بی بی کو قتل کروایا سیاسی کارکن ایسی حرکتیں نہیں کیا کرتے اور پیپلز پارٹی کے کارکن اور جیالے تو اس وقت ویسے ہی شدید صدمے میں تھے, دھاڑیں مار مار کے رو رہے تھے, باقی سیاسی جماعتوں کے کارکن اور پوری قوم انتہائی کرب میں تھی, وہ سب ایسا ردعمل دے بھی کیسے سکتے تھے۔

اس ملک میں ہر سیاسی جماعت کے اپنے اپنے شہید ہوتے ہیں لیکن بی بی پاکستان کی متفقہ شہید کہلائیں بی بی کے اپنوں اور پرایوں سب کی آنکھیں چھلکیں امی اس وقت جماعت اسلامی کی ذمہ دار خاتون تھیں لیکن مجھے یاد ہے کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک عزیز خاندان سے فون پر تعزیت کرتے ہوئے امی باقاعدہ رو دی تھیں بے نظیر کی شہادت میں کیا شک ہے کہ وہ مظلوم شہید کی گئی تھیں۔

قدرت کا انتظام دیکھیے, بی بی شہید نے اپنی زندگی میں ایسے خدشات کے پیش نظر جن لوگوں کو ایسی کسی پیش آنے والی صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا, ان میں اس وقت کا اقتدار پر ناجائز قابض پرویز مشرف بھی تھا جو بے نظیر قتل کیس میں مفرور اشتہاری بھی ہے اسے آئین شکنی کے جرم میں عدالت سزائے موت سنا چکی ہے وہ ایسی عبرت بنا ہے کہ اس کی زندگی میں ہی اس کی لاش گھسیٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور وہ بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔

بے نظیر دو بار ملک کی وزیر اعظم رہیں وہ انتہائی سنجیدہ, باوقار, لکھنے پڑھنے والی دانشور خاتون تھیں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ تھیں ہماری بدقسمتی ہے کہ جب وہ باقاعدہ ایک بالغ نظر اور پختہ کار سیاسی رہنما کے طور پر طویل جلاوطنی کے بعد ملک لوٹیں تو پہلے کارساز کراچی پر حملے کا نشانہ بنیں لیکن بچ گئیں اور پھر پنڈی کے حملے نے چاروں صوبوں کی زنجیر توڑ ڈالی ان کے بعد کوئی نہیں جو بیک وقت پاکستان کے ہر خطے میں یکساں مقبول ہو
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *