• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ملازمت، نجی زندگی اور کارپوریٹ ایتھکس ۔۔۔ معاذ بن محمود

ملازمت، نجی زندگی اور کارپوریٹ ایتھکس ۔۔۔ معاذ بن محمود

کہنے والے کی زبان نہیں پکڑی جا سکتی۔ وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں بجٹ کی بارش ہوئی۔ ماہر مالیات مینڈک باہر نکل آئے۔ یہ تازہ مثال ہے۔ اس سے پہلے ماضی میں زینب کیس میں ڈارک ویب زبردستی گھسانے والے ماہرین انفارمیشن ٹیکنالوجی جن کی تعلیم و تجربہ فقط فیس بک پر سیاست اور جنس پر مبنی کارڈز کھیلنے تک محدود ہے، سامنے آگئے۔

مین سٹریم میڈیا نے بات سننے کی آزادی دی۔ سنانے والا ایک مخصوص حلقہ ہی رہا سو سننے والے قابل برداشت رہے۔ سوشل میڈیا نے بات کہنے کی آزادی دی۔ تحریر شدہ مواد کا وہ طوفان آیا کہ مستند غیر مستند کی تمیز اختتام پذیر ہوگئی۔ حقیقت اور خواہش کے درمیان فاصلے کم ہونے لگے کہ حقائق کا مسخ کیا جانا عام ہوا۔
خواہشات کے سراب نے مقبول بیانیے کو جنم دیا۔ حقیقت پسندی مزید معدوم ہوگئی۔ مقبول بیانیے کے نام پر غیر منطقی تصورات جن کا مآخذ ناتجربہ کار نابغے تھے، رائج ہوچلے۔

اس سب کا فائدہ یہ کہ ہر خاص و عام کو زبان مل گئی۔ وہ خبریں جو پہلے نظر انداز ہو سکتی تھیں اب نہیں ہو سکتیں۔ اس سب کا نقصان بھی یہی ہوا کہ ہر خاص و عام کو زبان مل گئی۔ وہ خبریں یا باتیں یا خیالات جنہیں اہمیت نہیں ملنی چاہئے تھی، اب ملنے لگی۔ صرف یہی نہیں، معاملات پر افراد کی رائے میں فاصلہ بھی بڑھنے لگا۔ ہماری اکثریت کسی بھی معاملے کو سفید یا سیاہ دیکھنے کی عادی ہوگئی۔ زندگی کو گرے سکیل پر پرکھنے والے انگلیوں پر گنے جانے کی تعداد میں باقی بچے ہیں۔ لیکن نظر ہمیں صرف مذہبی شدت پسند ہی آتے ہیں۔

تمہید کچھ لمبی ہوگئی۔ مدعا یہ تھا کہ مقبول بیانیہ پکڑ کر ہوا میں اڑنے کا رواج پانے والے اپنی رائے کے سوا کسی اور کی رائے کو طاقت پا لیں تو کفر کا درجہ دے ڈالیں۔ ضروری نہیں کہ ہر معاملے پر حق میں ہونا یا خلاف ہونا ہی ضروری ہو۔ اگر آپ کی زندگی میں ہر معاملہ ایسا ہے جس پر آپ کی رائے واضح اور مضبوط ہے تو آپ کو اپنی شخصیت پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ یا تو سب جانتے ہیں اور جو حال ہی میں جان پائے ہیں اس پر رائے قائم کرنے میں سرعت کا راستہ اپناتے ہیں۔

حسن زیدی جو ایک صحافی اور فلم میکر بھی ہیں، نے ایک طنزیہ ٹویٹ کی۔ جواب میں فضیل تجمل کی جانب سے گالی آئی۔ یہ دونوں کام سوشل میڈیا پر ہوئے۔ اب فضیل تجمل کی نسبت حسن زیدی کے تعلقات یقیناً زیادہ ہیں۔ زیدی صاحب کو کسی نے ٹویٹر پر ہی آگاہ کیا کہ فضیل صاحب بینک الفلاح کے ملازم ہیں۔ زیدی صاحب نے عندیہ دیا کہ وہ بینک الفلاح تک رسائی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد زیدی صاحب نے بینک الفلاح کو شکایت درج کروائی۔ بینک نے فضیل تجمل کو ملازمت سے برخواست کر دیا۔

کہنے کو یہ ایک سیدھا سا واقعہ ہے جس میں ایک نجی ملازم نے نامناسب رویہ اختیار کیا اور جواباً ادارے نے انہیں مع السلام کر دیا۔ لیکن میری نظر میں یہ ایک گہرا اور کئی زاویے رکھنے والا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ذاتی حیثیت میں اس قصے کو لے کر کوئی ایک شدید رائے قائم کر کے اس پر سخت ہونے کے خلاف ہوں۔

ادارے سے باہر کسی کو گالی دینے پر کاروائی ہونا ابھی بھی کارپوریٹ ایتھکس میں شاید قابل بحث معاملہ نہیں۔ ایسے میں بینک الفلاح کی جانب سے اس قسم کا عمل ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

ادارہ ایک entity ہوتا ہے۔ جب تک آپ ادارے کی حدود میں رہتے یا ادارے کے وسائل استعمال کرتے ہوئے ایسا کام نہیں کرتے جو ریاستی قوانین کے حساب سے قابل مواخذہ ہو، ادارتی سطح پر اس کا جوابدہ ہونا ایک سوال ہے۔ مثال کے طور پر ذاتی حیثیت میں کسی نے آپ پر مقدمہ دائر کر دیا۔ آپ حق پر ہیں مگر پہلی عدالت نے آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ اس کا آپ کی پروفیشنل لائف سے کیا تعلق جب تک پروفیشنل لائف اور مقدمے کی نوعیت ٹکراتے نہ ہوں؟ آپ کسی فلمی ستارے یا ماڈل کے شوہر ہیں۔ لڑائی ہوتی ہے۔ معاملہ عدالت تک جاتا ہے۔ طلاق ہوجاتی ہے اور عدالت آپ کو کسی بات پر جرمانہ کرتی ہے۔ اس بنیاد پر آپ کے نجی ادارے کو آپ کی ملازمت پر چوٹ مارنے کا کیا اور کیوں اختیار؟

میرا کام آئی ٹی کا ہے۔ اب کسی سوشل میڈیائی حوالدار کو نظریاتی جھاڑ پلانے پر سارے گِدھ اکٹھے ہوجائیں، اس سے میرے ادارے کے لیے میری انفرادی خدمات کے صلے میں ملنے والے معاوضے پر اثر کیوں ہو؟

یہاں پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ملازم ادارے کا چہرہ ہوتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر ملازم ادارے کا چہرہ نہیں ہوتا۔ یہ میری ذاتی رائے ہے۔ نہ ہی ملازم کو ادارے کا چہرہ سمجھنا چاہئیے۔ ادارے کے وہ ملازم جو کسی طرح سے بیرونی کسٹمرز کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں وہی ادارے کا چہرہ ہوتے ہیں۔

تنخواہ دفتر میں کام کرنے کی ملتی ہے۔ پڑوسی سے نہ لڑنے کی نہیں۔ ہمیں ملازمت کی تعریف کو دیکھنا ہوگا۔ ملازمت اپنی خدمات کے عوض معاوضہ لیے جانے کا نام ہے۔ ہر معاہدے کی طرح اس معاہدے کے حقوق و فرائض بھی محدود پیمانے پر طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہر معاہدے کی طرح یہ معاہدہ بھی ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتی کوئی شق نہیں ڈال سکتا۔

ہاں ادارے کا کوڈ آف کانڈکٹ ہو جس کے تحت آپ نے سوشل میڈیا پر بھی اچھا بچہ بن کر رہنا ہے، اور جسے معاہدے کے حصے کے طور پر قبول کر کے آپ نے ملازمت قبول کی ہو تو معاملہ الگ ہے۔ تب آپ پابند ہیں سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ نہ کرنے کے جسے نہ کرنے کا آپ نے معاہدے میں عہد کر کے دستخط کیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایک پری میچیور مبینہ ٹرینڈ کے طور پر اس قسم کی ایتھکس کے منفی نتائج ان کے فوائد می نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ فرض کریں آپ کا جی ایم کٹر تبلیغی ہے اور آپ میرے جیسے ڈھیلے ڈھالے مسلمان۔ اب میں پیسے لیتا ہوں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز پر مبنی خدمات فراہم کرنے کے، ناکہ رمضان کے دوران روزہ رکھنے کے۔ اب فرض کریں مجھ پر کسی اسلامی ملک میں روزے کے دوران کھانے پینے کا الزام لگا کر اسے جرم ثابت کر دیا جاتا ہے۔ کیا میری نوکری بھی اس “جرم” کو بنیاد بنا کر چھین لینی چاہیے؟

یہ وہی گرے ایریا ہے جسے ہماری سیاسی جماعتیں “یہ بیان فلاں نے ذاتی حیثیت میں دیا” کہہ کر نکل جاتی ہیں۔ پھر نجی ملازم کو یہ ایج کیوں نہیں مل سکتا؟ نجی ملازم کے لیے زندگی بلیک اینڈ وائٹ مت کیجیے۔

یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ حسن زیدی اور فضیل کے معاملے میں اخلاقیات کو بنیاد بنا کر ایک زیادتی کی گئی ہے۔ اخلاقیات ایک ایسا میدان ہے جس کا کوئی معیار مقرر نہیں۔ اگرچہ فضیل کی جانب سے کھلی گالی دینے میں کوئی دو رائے نہیں لیکن ہمارے یہاں خاص کر سوشل میڈیا پر ایسی کئی افراد موجود ہیں جو اخلاقیات کے نام پر اس قدر حساس ہیں کہ اکثر معروف ضرب المثل کے استعمال پر اخلاقی اسباق ازبر کرانا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ انہی میں سے چند دوست پچھلے دنوں سرفراز اور دیگر پاکستانی کھلاڑیوں پر کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ کے بعد تبروں کو “بہت خوب بہت خوب” کہہ کر خوش ہورہے تھے۔ کیا ان کھلاڑیوں پر ہوٹنگ کرنے والوں کی کمپنی سے رابطہ کر کے ان کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کریں؟ کیا شخصی بداخلاقی کو جواز بنا کر رزق حلال کے راستے مسدود کرنا منطق پر مبنی ہے؟

اس ضمن میں مجھ سے ایک سوال کا سادہ کیا گیا۔

“ کیا آپ بہترین ڈرائیونگ کرنے والے ایک بداخلاق ڈرائیور کو ملازم رکھیں گے؟”

بیشک یہ اچھا سوال ہے۔ دل یا instincts کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے تو جواب “نہیں” میں ہے۔ منطق کے حساب سے بات کرنی ہے تو بھائی میں نے اس سے ڈرائیونگ کروانی ہے، قصیدہ گوئی یا گپیں تو نہیں ہانکنی؟ “میں کیا کروں گا” سے زیادہ میرا ارتکاز “مجھے کیا کرنا چاہیے” پر ہونا چاہیے۔ مجھے ڈرائیور چاہیے لہذا مجھے ڈرائیور ہی کا انتخاب کرنا چاہیے۔ میں اپنے نظریات سے کس قدر متصادم ہوں اس کا فیصلہ “میں کیا کروں گا” کے جواب سے مل سکتا ہے۔

ایک بار پھر عرض کروں گا کہ سوشل میڈیا بلیک اینڈ وائٹ نہیں۔ کسی نے کمنٹ میں اگلے کی والدہ ماجدہ کو یاد کر کے کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اسی کمنٹ کا جواب اٹھا کر مگر حبیب بینک کو بھیج دیا۔

اب اگلا پٹتا مر جائے کہ “بکری نے مارا تھا بکرے کو سینگ تو بکرے نے مارا تھا بکری کو سینگ” لیکن ادارے کی نظر میں ملزم مجرم ٹھہرا۔ نوکری گئی۔

جبکہ نوکری ہے کیا؟ اپنی خدمات کے عوض مشاہرہ۔ اس میں اخلاقیات کا کوئی پہلو نہیں۔

اسے ذرا الگ سکیل پر لے جائیں۔

ایک کمپنی کا مالک بداخلاق ہے لیکن کمپنی جو کام کرتی ہے اس میں مہارت اور ملکہ حاصل ہے۔ مجھے اب کمپنی کی مہارت سے غرض ہونی چاہیے یا اس بات سے کہ کمپنی کا مالک رات کو کتنے پائینٹ بئیر پینے کا جرم کرتا ہے؟

اگر بداخلاق ملازم کو برطرف کیا جانا جائز ہے تو کیا کل کو ہونڈا کمپنی بداخلاق صارف کو اپنی مصنوعات بیچنے سے انکار کر سکتی ہے؟

ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ کمپنی کے پاس بغیر کوئی وجہ بتائے ملازم کو ٹرمنیٹ کرنے کا اختیار ہے تاہم اس شق کے استعمال کی صورت میں کمپنی کی جانب سے ملازم کو نوٹس پیریڈ جتنی تنخواہ کے مساوی رقم ادا کی جائے گی۔ یہ دلیل تب تک جائز ہے جب تک ملازم کو برخواست کرنے کی وجہ سامنے نہ لائی جائے۔ جہاں کمپنی عوامی سطح پر “مس کانڈکٹ” یا نامناسب رویے کو بنیاد بنا کر ملازم کو نکالنے کا اعلان کرے وہاں پھر مذکورہ بالا رویے کو نامناسب ثابت بھی کرنا پڑے گا۔

کاش عدلیہ آزاد ہوتی۔ ہمارے کئی مسائل وجود ہی نہ رکھتے۔

آج ہم اس نکتے پر متفق ہیں کہ سیاسی شخصیت کی ذاتی زندگی بھلے کس قدر کچرا ہی کیوں نہ ہو اسے سیاسی زندگی پر اثرانداز نہیں سمجھنا چاہئے۔ کیا بینک الفلاح کی جانب سے یہ کاروائی اسی اتفاق کی کھلی نفی نہیں؟ اگر شخصی حیثیت میں فضیل تجمل کی جانب سے کوئی “بداخلاقی” ادارے کے لیے قابل قبول نہیں تو قومی سطح پر کسی سیاسی لیڈر کی مبینہ “بدکرداری” کیونکر اس کی سیاسی زندگی پر اثرانداز نہیں ہوتی؟

یاد رہے، راقم انصافی حلقوں میں ایک پٹواری سمجھا جاتا ہے تاہم اس معاملے پر وہ ایک مبینہ بداخلاق انصافی کے ساتھ کھڑا ہے کہ بات اصول کی ہے۔ اگر بینک الفلاح ایک ادارے کے طور پر اپنے ملازم کے ذاتی فعل سے سبکی محسوس کرتا ہے اور آپ اسے جائز سمجھتے ہیں تو حکومت پاکستان بھی ایک ادارہ ہے اور وزیراعظم سے لے کر پولیس کا سنتری اس کا ملازم۔ اب وہی کارپوریٹ ایتھکس ان تمام پر بھی لاگو کیجیے۔

مجھے لگتا ہے یہ پری میچیور ضابطہ اخلاق ہے۔ زیادہ احسن یہ ہوتا کہ بینک مؤقف اختیار کرتا کہ یہ کام بندے کا ذاتی فعل ہے جس پر شکایت کنندہ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی ہو جاسکتی ہے۔ چونکہ یہ کام بینک کی حدود یا بینک کے وسائل یا بینک کی جانب سے ملازمت کے اوقات کے دوران نہیں ہوا لہذا بینک اس پر ملزم کو قابل مواخذہ نہیں سمجھتا۔ تاہم ریاستی آئین کی تشریح کے تحت شکایت کنندہ کے پاس قانونی چارہ جوئی کا راستہ ہمیشہ موجود ہے۔ پھر ریاستی سطح پر جرم ثابت ہوجاتا تو بینک کسی مجرم کو ملازمت نہ دینے کی پالیسی کو بنیاد بنا کر بیشک نکال دیتا اگلے کو۔

ہماری تان ہمیشہ کی طرح وہیں آکر ٹوٹے گی کہ ریاستی قوانین جب تک ڈھیلے ہوں گے ایسا ضابطہ اخلاق نجی سطح پر سختی سے لاگو کیا جانا زیادتی ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *