پاگل خان،پاگل پاکستان۔۔۔۔روبینہ فیصل

ہندو اکثریت والی کانگریس اور انگریز سرکار ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے ۔ مگر کیبنٹ مشن کو دھتکار کر نہرو اور پاٹیل نے ہندوستان کے آخری بر طانوی وائسرئے ماءونٹ بیٹن کو اس بند گلی میں لا کھڑا کر دیا تھا جس کے کنارے پر جناح کا مطالبہ پاکستان ہی رہ جا تا تھا ۔ اور محمد علی جناح نے کیبنٹ مشن پلان مان کر خود بھی اس بات پر کمپرومائز کر لیا تھا کیونکہ اس طرح انہیں صوبوں کی خود مختاری کی صورت میں انہیں مسلمان اکثریت والے صوبوں میں اور مرکز میں مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی اس طرح نہ لڑنی پڑے گی جیسی انہیں 1937 کے الیکشن کے بعد ہر محاذ پر لڑنی پڑ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ماءونٹ بیٹن کے پاس پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا ٹرمپ کارڈ تھا جس سے وہ قائد اعظم کی کمر توڑنا چاہتا تھا ،اس تقسیم کا مطلب تھا پاکستان کو اتنی کمزور حالت میں جناح کے حوالے کیا جائے  کہ وہ گھٹنوں پر گھسٹنے کے قابل بھی نہ ہو ۔ ماؤنٹ بیٹن ، جناح کو دلیل دیتا جن حقوق کی بنیاد پرجناح ہندوستان کی تقسیم کی بات کرتا ہے اسی بنیاد پر وہ ہندو اور سکھ اکثریت والے بنگال اور پنجاب کی بات کرتا ہے ۔ ماؤنٹ بیٹن کو جناح کی استقامت پر بہت غصہ آیا کرتا تھا اور وہ ان کے پاکستان کے مطالبے کو”پاگل پاکستان”کہتا تھا ۔ ۔ دوسری طرف گاندھی اور مولانا آزاد تقسیم کے خلاف ڈٹے ہو ئے تھے گو کہ پاٹیل اور نہرو اس مطالبے کے آگے ہار مان چکے تھے جیسا کہ پنڈت نہرو نے خود اقرار کیا ،ہم لوگ تھک چکے تھے اور لمبے عرصے تک جیل میں بھی رہ چکے تھے ۔ ہم میں سے کچھ ہی لوگ جیل جانے پر راضی تھے ۔ پنجاب میں گولیاں چل رہی تھیں اور قتل و خون کی باتیں سنائی پڑ رہی تھیں ۔ تقسیم کی اسکیم میں ہ میں ایک حل نظر آیا اور ہم نے اسے تسلیم کر لیا ۔ ۔ ۔ ہمارا یہ خیال تھا کہ تقسیم غیر مستقل ہو گی ۔ کیونکہ پاکستان مجبورا پھر ہمارے پاس واپس آجائے گا ۔ ۔ ۔

اس کے ساتھ ساتھ نہرو کے وہ الفاظ کہ  نو آبادی کے درجے کا خیال ہی میرا دم گھوٹ دیتا ہے ۔

مولونا آزاد کا تو خیال تھا کہ  پاکستان کو تسلیم کرنا غلط ہے اور شکست خوردگی کی علامت ہے ۔

ماؤنٹ بیٹن آخر تک قائد اعظم کے ساتھ تقسیم کی سودے بازی میں الجھا رہا ۔ ۔ کلکتہ کسی صورت پاکستان کو نہ دینے اور ساتھ میں گورداسپور ، انڈیا کے حوالے کر کے انڈیا کی کشمیر تک رسائی کو ممکن بنانے کی شیطانی سکیم ،پاکستان کو کمزور کرنے کے علاوہ اور کیا تھا ۔

اس کے باوجود ۔ ۔ اپنوں نے ہی قائد اعظم کو برطانوی ایجنٹ کہا ۔ ۔ تصور میں لائیں وہ وقت ، جب ایک طرف جناح ، ہندو کانگریس اور اس میں شامل مولانا آزاد جیسے تقسیم کے مخالف لوگوں کے ساتھ الجھ رہے ہیں اور ماؤنٹ بیٹن انہیں کچا چبا نا چاہتا ہے اوردوسری طرف جن مسلمانوں کے حقوق کے لئے وہ لڑ رہے ہیں ، مذہب کے نام پر تمام مسلمانوں کی قسمتوں کا فیصلہ کر نے والے ملا حضرات بھی ہاتھ دھو کر قائد اعظم کے پیچھے لگے ہو ئے ہیں کبھی انہیں کا فر ِ اعظم اور کبھی انگریزوں کا ایجنٹ کہہ کر دھتکارنے کی تلقین کر رہے ہیں ۔ ۔ اور تیسری طرف قائد اعظم کی بڑھتی ہو ئی عمر اور گرتی ہو ئی صحت بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ ان سب کے باوجود ، جناح نے وہ کر دکھایا جس کا کسی کو گمان تک نہ تھا ۔ کیا کسی کو قائد اعظم کی نیت پر شک ہے ۔

جناح جنہیں گاندھی نے مشترکہ ہندوستان کا وزیر ِ اعظم بننے کی پیشکش کی تھی ، نے وہ تک دھتکار دی تھی ۔ ماؤنٹ بیٹن نے جب گاندھی سے پو چھا کہ جب تم جناح کو وزیر ِ اعظم بننے کی پیشکش کرو گے تو کیا وہ اسے قبول کر لے گا ۔ ۔ گاندھی نے مسکرا کر کہا نہیں کہے گا عیار بڈھے کی ایک اور چال ہے ۔ ۔ یہ نہیں کہ جناح منافقت دیکھ کر منافق کو منافق نہیں کہتے تھے ، یہ نہیں کہ جناح ایک کٹہر( یا پریکسٹنگ) مسلمان تھے ، یہ نہیں کہ جناح اتنے فولادی تھے کہ کبھی اپنے موقف سے پلٹے نہیں تھے ۔ ۔ اس وقت یو ٹرن کی ٹرم ایجاد ہو ئی ہو تی تو جناح کے یو ٹرن کی بھی لسٹ تیار ہو سکتی تھی ۔ ۔ کچھ نمایاں یو ٹرن ( جنہیں مصالحت بھی کہا جا سکتا ہے ) ۔ ۔ گھوکلے اور سروجنی نائیڈو کے ہند و مسلم اتحاد کے سفیر ،لکھنو ء پیکٹ کے موجد ،جناح کیسے صرف مسلمانوں کے حقوق کی آواز بن گئے   کیا اسے یو ٹڑن کہا جائے گا، جو متحدہ ہندوستان پر یقین رکھتے تھے اور سر آغا خان کی قیادت میں ، شملہ وفد1906 جس میں 35 نمائندوں کے وفد نے مسلمانوں کے لئے الگ الیکٹوریٹ کا مطالبہ کیا تھا ، قائد اعظم ایسی کسی بھی تفریق کے حق میں نہ تھے ۔ ۔ ۔ تحریک ِ خلافت کی مخالفت کرنے والے جناح ، یہاں تک کہ ایک جلسے میں جناح کو گاندھی کی سیاست میں مذہب کی آمیزش کو تنقید کا نشانہ بنانے پر ، ہجوم نے انہیں تقریر نہیں کرنے دی تھی اور انہیں سٹیج چھوڑنا پڑ اتھا ۔ ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مایوس ہو کر واپس انگلینڈ چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مذہب کو سیاست سے دور رکھنے والے کو مذہب کے نام پر الگ ملک کا مطالبہ کرنا پڑا ۔ ۔ 1937 کے الیکشن کے بعدیہ نوبت مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ہونے والی حق تلفیوں کو دیکھ کر آئی تھی ۔ وہ اپنے ہند ومسلم اتحاد کے موقف پر بضد نہیں رہے تھے ، مسلمانوں کے مستقبل کے لئے انہیں خود کو بدلنا پڑا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا ہو تا تو وہ اپنی صحت کے پیش نظر جتنے دن زندہ تھے متحدہ ہندوستان پر حکومت کر کے ایک بڑے ملک کے وزیر اعظم ہونے کا ٹاٹل اپنے نام کے ساتھ لکھو اکر بھی اپنے آخری دن پر تعیش حالت میں گزار سکتے تھے ، لیکن ایسا فیصلہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ دیمک  زدہ ، کٹا پھٹا پاکستان لینا قبول کیا ، جہاں ان کی آخری سانسیں ایک ٹوٹی پھوٹی ایمبولینس میں پو ری ہو ئیں ۔ ۔ اپنی ذات کے تعیش کو پرے رکھ کر ایک تھکا دینے والی اور پرآزمائش راستے کو اپنی خراب صحت کے باو جود چننے والا اگر ضدی تھا تو صرف ان لوگوں کی بہتری کے لئے جنہوں نے ان پر اعتماد کر کے اپنے مستقبل کی بھاگ دوڑ پکڑا دی تھی ۔ ۔ ۔ اپنی ذات کی خاطر نہ کوئی ضد کی نہ من مانی ۔ ۔ ماءونٹ بیٹن کا پاگل پاکستان ایک ضدی انسان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بن گیا ۔ ۔

آج اتنے سالوں بعد یہ پاگل پاکستان ایک پاگل خان کے ہاتھوں میں آگیا ہے ۔ ۔ وہی خان جسے کبھی یہودی کا ایجنٹ اور کبھی زانی کہہ کر دھتکارا جا تا ہے ۔ ۔ کہنے والے تو قائد اعظم کو بھی خود غرض اور تاج و تحت کا لالچی کہا کرتے تھے ، کہنے والے کپتان کو بھی بہت کچھ کہا کرتے ہیں مگر ناشکرے پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہے کہ پہلے انہیں جناح جیسا لیڈر مل گیا جس نے ان کے لئے آئینی لڑائی لڑ کر اپنا مطالبہ ہندو اور انگریز کی مرضی کے خلاف منوایا جنہوں نے یہ کہہ کر پاکستان کی تقسیم کو چار وناچار قبول کیا تھاکہ جلد ہی پاکستان ہندوستان سے واپس آملے گا ، پاکستان تو ٹوٹنے کے بعد بھی ہندوستان میں جا کر نہیں ملا ،تو ان کا یہ خواب بھی خواب ہی رہا ۔ ۔ معاشی طور پر ضرب لگانے سے لے کر فوج اور بیور کریسی اور ہر اداروں تک ،کچھ بھی نہیں تھا پاکستان میں اور لوگ کون تھے جو اوپر تھے ، کھوٹے سکے ۔ ۔ انہی نوابوں ، انہی سرداروں کے آسرے جناح ، اس ملک کے قائد بن کر اپنے مقصد میں تو کامیاب ہو ئے مگر ان کی وفات کے بعد کشتی بن ملاح کے جب ڈولنے لگی تو حاسدین کو لگا کہ پاکستان پھر سے ہندوستان میں ضم ہوا کہ ہوا اور ختم ہو مگرسات دہائیوں کے بعد بھی یہ نہیں ہو سکا ۔ ۔ دوسری طرف ہندوستان کے حالات دیکھ کر ، وہاں مسلمانوں کی پسماندگی اور خوف میں گندھی زندگی دیکھ کر قائد کی بصیرت کو بار بارسلام کرنے کو دل کرتا ہے ۔

پاکستان کو ناکامکرنے کے لئے پہلے دن سے یہ کوششیں ، یہ نیتیں اور یہ بد دعائیں اور بد نظریاں شامل حال ہیں ۔ ۔ آج پاکستان جس حال میں ہے اس میں ان سب کا کمال بھی ہے ۔ ۔ یہ سازشیں ، ہمارے ہی فارن آفسز میں ، سول سروس میں ، صحافیوں میں ، سیاست دانوں میں اور دانشوروں میں زہر بن کر پھیلی ہو ئی ہیں ۔ ۔ ہم جانتے ہی نہیں قائد کے پاکستان کو مارنے کے لئے کون کون کس کس روپ میں اس کی جڑوں میں زہر ڈال رہا ہے ۔ ۔ اسی لئے اس پاگل پاکستان کو اسے تباہ کرنے والے گالیاں دیتے اُس پاگل خان کو بھی گالیاں دیتے ہیں تو میرے دل سے محمد علی جناح ، ان کے پاکستان کے ساتھ ساتھ اس پاگل خان کے لئے بھی دعا نکلتی ہے جو اسی پروپگینڈے کا شکار ہے جس کا کبھی جناح ہوا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ میں لیڈر شپ میں جناح اور عمران کا مقابلہ نہیں کر رہی، میں ان بیرونی سازشوں ، بد نظریوں ، بددعاءوں اور بد نیتیوں کا موازنہ کر رہی ہوں جو ہر اس انسان کے گرد گھیرا تنگ کر لیتی ہیں جو پاکستان کو بچانا اور اسے دنیا میں عزت کا مقام دلانا چاہتا ہے ۔ ۔ پاکستان کو بے دلی سے قبول کرنے والے حاسدین اس کو ہر دور میں معاشی اور اخلاقی طور پر تباہ و برباد ، اندرونی انتشار کا شکار ، دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ۔ پاگل پاکستان کو بنانے والا بھی ایک مخلص انسان تھا اور آج کے دور کا پاگل خان بھی اس پاکستان کے لئے مخلص ہے ۔ ۔ اس پر اعتماد کرنا چاہیئے ۔ ۔ فیصلوں پر اعتراض کا حق ہے مگر اس کی تضحیک یا اسے گالیاں دینا یا اس سے نفرت کرنا یہ جائز نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا جمہوریت جمہوریت کا جو رقص کرتے پھرتے ہیں انہیں پہچاننا ہوگا ۔ جمہوریت اور خاندانی شہنشایت میں فرق پہچاننا ہوگا ۔ ۔ جناح کی دلائی ہو ئی آزادی اور دو خاندانوں کی غلامی کے فرق کو پہچاننا ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ پاگل پاکستان زندہ باد ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاگل خان،پاگل پاکستان۔۔۔۔روبینہ فیصل

  1. Very true analysis of history and and current situation.
    Thos e so called liberals who oppose two nation theory should open their eyes now to see the situation in India a

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *