میاں محمد بخش کا تصور عشق۔۔۔۔۔نّیر نیاز خان

انیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں میرپور (حالیہ آزاد کشمیر) کے مضافاتی قصبے(کھڑی) میں ایک کسان کے گھر جنم لینے والے میاں محمد کا رجحان عہد شباب میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ صوفیاء کی طریقت کی پیروی کرتے ہوئے میاں صاحب نے بھی خلوت نشینی کو جلوت کے شوروغل پر ترجیح دی اور کسی پرسکون مسکن کی تلاش میں محو گردش ہو گئے۔ کسی روایتی تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہ تھے ہاں البتہ اپنے روحانی مرشد کی سرپرستی میں ابتدائی دینی و مذہبی تغلیم حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بچپن میں ہی تفکر۔ ریاضت اور من کی دنیا کی طرف رجحان ہو گیا۔ اضطرابی کیفیت منظوم شکل میں لبوں پر آشکار ہونے لگی تو قلم۔دوات اور کاغذ کی کل متاع سمیٹے میاں صاحب نے پنجنی(پنجن بالا۔ چڑہوئی) کے ایک خاموش ویرانے میں ڈیرے ڈال لیے اور آمد کے سلسلے قافیہ۔ردیف۔وزن اور تخلص کے خوبصورت امتزاج کے ساتھ ارض قرطاس پر موتی بن کر بکھرنے لگے۔ پہاڑی اور پنجابی زبانوں کے سنگم پر رہنے کی بدولت میرپوری لہجے میں کئی دہائیوں تک زمان و مکاں کے اثر سے بھرپور ادبی شاہکار کی تخلیق ہوتی رہی جو نئی نسل تک “سیف الملوک ” کی شکل میں پہنچا۔ جس کے سحر میں نہ صرف میاں صاحب کا آبائی وطن جموں کشمیر، بلکہ بٹوارے کے دونوں اطراف کا پنجاب۔ کوہسار اور پوٹھوہار کے ساتھ ساتھ سرائیکی علاقہ بھی ہے۔ میاں صاحب کے عشق کا ایک زاویہ پنجنی گاوں(پنجن بالا) بھی ہے۔ جہاں بن باسی بن کر سیف الملوک جیسا شاہکار تخلیق ہوا۔ اس جگہ سے عشق کا ذکر انہوں نے یوں کیا کہ

قبر میری جے کد پنجنی ہونی تہہ خلقت گلاں کرنی

ڈاہڈے نے ہتھ قلم محمد۔جند نمانی ڈرنی

ہاں تو بات میاں صاحب کے تصور عشق پر کرنی ہے۔ کہیں موضوع سے ہٹ نہ جاوں۔ ان کے تصور عشق کی عمیق گہرائیوں کی ترجمانی شاید ان کے اپنے اس شعر سے بڑھ کر کوئی نہ کر سکے

بال چراغ عشق دا میرے روشن کردے سینہ

دل دے دِیوے دِی رُوشنائی، جاوے وِچ زمیناں

سوچتا ہوں کہ میاں صاحب کو اپنے سیارے(زمین) کے علاوہ باقی زمینوں(سیاروں) کی جستجو اور تلاش کا خیال ڈیڑھ صدی قبل اس زمین کے ایک دور افتادہ علاقے میں بیٹھ کر کیسے آ گیا جن کی تلاش اور ان کی آباد کاری کے لیے آج کا جدید انسان پوری تگ و دو میں مصروف ہے۔ تاکہ نسل انسانی اور زندگی کی مجموعی بقا کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کا تصور میاں صاحب کے ہاں من کی دنیا میں عشق یعنی جستجو اور تلاش کا دیا جلانے سے ملتا ہے۔ نسل انسانی کو باقی مخلوقات خاص کر حیوانوں پر فوقیت کا راز ایک استعارے کا استعمال کرتے ہوئے میاں صاحب فلسفہ عشق کو حیاتیاتی ساخت پر ترجیح دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ

جس دل اندر عشق نی رچیا کتے اس تھیں چنگے

مالک  دے  در راکھی کردے  صابر پکھے ننگے

حیاتیاتی سائنسی علم اور ارتقا کا نظریہ چونکہ میاں صاحب کا موضوع سخن نہیں تھا لہذا انہوں نے عشق کے تصور کو بنیاد بنا کر حیوانوں اور انسانوں میں فرق امتیاز بتانے کی کوشش کی ہے

احمد فراز کے ایک شعر نے اردو دانوں اور شاعری سے شغف رکھنے والوں کے ہاں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے کہ

ہم تو محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز

ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا ہے

عشق مجازی اور عشق حقیقی(دو نقطہ نظر) کے تقابل کے لیے فراز نے جس سخنی انداز کا استعمال کیا۔ میاں صاحب نے اسی زمین پر ڈیڑھ صدی قبل عشق میں واحدانیت کے تصور کو یوں بیان کیا تھا۔

جس دل اندر عشق سمایا اس نیں او فیر جانا

توڑے سوہنے ملن ہزاراں اساں نی او یار وٹانا

پہاڑی۔پوٹھوہاری۔ پنجابی اور سرائیکی بولنے والے اس شعر میں بیان عشق کی واحدانیت میں اپنے محبوب کو اس جیسے ہزاروں خوبصورت لوگوں پر ترجیح دینے اور محبوب کو بٹانے (تبدیلی) کے سودے سے انکار پر میاں صاحب کو یقینی طور پر داد تحسین دیتے ہیں۔ فیض صاحب نے بھی اسی پہرائے میں لکھا تھا کہ

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہے لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض صاحب نے جیت ہار دونوں صورتوں میں ایک ہی محبوب کا انتخاب کرنے کو ترجیح دی۔ پھر پروین شاکر نے بھی اسی زمین پر طبع آزمائی کی کہ

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی

جیتوں تو تجھے پاوں ہارون تو پیا تیری

لیکن جو شدت اور اقرار کی حد میاں صاحب کے تصور عشق میں ہے وہ ادبی جزر باقی شعراء کے تقابلی سخن میں اس گہرائی میں موجود نہیں۔تصور عشق کے اس عمیق فلسفے میں وطن دوستی اور مٹی کی محبت کا عنصر بھی میاں صاحب کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور اس کو اپنے وطن سے دور دیار غیر میں رہنے والے بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ

وطن اپنے نیاں کلراں وچوں تمے چن چن کھائیے

غیر وطن نیاں باغاں وچوں میوے لین نہ جائیے

تمہ ایک جھاڑی پہ اگتا ہے اور اس کی کڑواہٹ اتنی ہوتی ہے کہ اسے زہر کا متبادل مانا جاتا ہے۔ لیکن میاں صاحب نے اپنے وطن کے “تمے” کو غیروں کے میٹھے میوے پر ترجیح دے کر وطن دوستی اور حب الوطنی کو اپنے تصور عشق میں ایک اعلی مقام دیا ہے۔

خالق و مخلوق کے مابین رشتے میں بھی میاں صاحب جستجوئے مسلسل کے طرفدار تھے۔ اور خالق تک پہنچنے اور ابدی رشتہ قائم رکھنے اور حق بندگی ادا کرنے کے لیے عشق میں جستجو اور لگن کے عنصر کو فوقیت دیتے تھے۔

ڈھونڈن والا ریا ناں خالی ڈھونڈھ کیتی جس سچی

ڈھونڈھ کریندا جو مڑ آیا ڈھونڈھ اوہدی گن کچی

رب تک پہنچنے کا واحد ذریعہ میاں صاحب کے ہاں عشق کی اڑان ٹھہرا جس میں ریاضت کے دوران متبادل کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن ساتھ ہی وہ کسی مخصوص مقام پر اسے تلاش کرنے کے بجائے سارے جگ میں اس کی موجودگی کا پتہ بھی دیتے ہیں۔

آپ مکانوں خالی،اُس تھیں،کوئی مکان نہ خالی

ہر ویلے ہر چیز مُحمّد،رکھدا نِت سنبھالی

میاں صاحب کے تصور عشق میں عبادات کا بنیادی رشتہ نقطہء عشق سے منسلک تھا۔ وہ عشق کے تصور کو بنیادی شرط ٹھہرائے بغیر عبادات کو ایک سعئ لاحاصل تصور کرتے تھے اور بندے اور رب کے تعلق میں عبادت اور بندگی کا نقطہء ماسکہ “من کی لو” سے پھوٹنے والی عشق کی چنگاری کو گردانتے تھے۔ جیسا کہ

جے لکھ زہد عبادت کرئیے بن عشقوں کس کاری

جاں جاں عشق نہ ساڑے تینوں تاں تاں نبھے نہ یاری

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو مغالطوں کی بھینٹ چڑھائے بغیر میاں محمد بخش کے کلام کو زمان و مکاں کے پیرائے میں عام کیا جائے۔ اس لیے کہ شاعر کسی بھی معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتے ہیں اور ان کے کلام پر حالات۔ واقعات اور گرد و نواح کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”میاں محمد بخش کا تصور عشق۔۔۔۔۔نّیر نیاز خان

  1. میاں صاحب کے کلام اور انکے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔اچھی کاوش ہے سر ۔امید ہیکہ اپ سے مزید میاں صاحب کے کلام کو سمجھنے میں مدد ملے گی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *