• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستانی نمک – ایک اور ٹرک کی بتی۔۔۔عامر کاکازئی

پاکستانی نمک – ایک اور ٹرک کی بتی۔۔۔عامر کاکازئی

کچھ دن سے کٹوں، مرغی، انڈوں، کرپشن، کوئی ٹیکس نہیں دیتا، چور بزنس مین کے بعد ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے سادہ لوح پاکستانیوں  اور انصافیوں کو لگا دیا گیا ہے۔ وہ ہے نمک۔
مضمون کو ان اشعار سے شروع کرتے ہیں، جوکہ ہمارے ملک کی پچھلے ایک سال کی داستان  بھی ہے کہ
کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت
اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے
جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں
سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے
کہانی کچھ اس طرح سے شروع ہوتی ہے کہ اچانک سوشل میڈیا پریہ شور اُٹھنے لگا کہ انڈیا اور اسرائیل پاکستانی نمک کو مٹی کے بھاؤ خرید کر سونے کے بھاؤ بیچ رہا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ایسا کوئی  نہیں جو کہ اس نمک کو برانڈڈ کر کے بیچ سکے۔۔
نمک ایک معدنیات ہے جو کہ سوڈیم کلورایڈ کی ایک قسم ہے۔خام حالت میں یہ کرسٹیلائین منرل کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ جسے پہاڑی نمک بھی کہتے ہیں۔ نمک ہماری زندگی کا ایک لازمی جُز ہے اور کوئی  بھی کھانا نمک کے بغیر  تیار نہیں کیا جا سکتا۔ گو کہ بلڈ پریشر کو زیادہ کرنے میں نمک ایک بہت بڑا عنصر ہے ، مگر پھر بھی نمک کے بغیر کسی بھی کھانے کا ذائقہ بہتر نہیں ہو سکتا۔
نمک کا استعمال کوئی  چھ ہزار سال قبل مسیح میں ملتا ہے، جب اس وقت کے انسان نے پانی کو ابالنا شروع کیا۔ یہ پانی چشموں اور دریا کا تھا، جس سے نمک ملتاتھا۔ آہستہ آہستہ نمک انسان کے لیے اتنا ضروری ہوگیا کہ یہ بارٹر سسٹم کاایک اہم حصہ بن گیا،ایک وقت ایسا بھی  آیا کہ کچھ قبیلے نمک کے پیچھے لڑنے لگے۔
کیا نمک صرف کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کھانے کے لیے نمک صرف چھ فیصد استعمال ہوتا ہے۔ بارہ فیصد پانی کو صاف کرنے کے لیے، آٹھ فیصد سڑکوں پر سے برف ہٹانے کے لیے، جبکہ چھ فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔۔ باقی کا 68 فیصد انڈسٹریل میٹریل کی مینوفیکچرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جس میں کاسٹک سوڈا،کلورین، پی وی سی،پلاسٹک، پیپرپلپ وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا میں تین ذرائع سے نمک حاصل ہوتا ہے۔ جھیلوں یا چشموں سے، سمندرسے اور پہاڑ سے جسے راک سالٹ کہتے ہیں

جیسے کہ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ سارے جہاں کے مسلمانوں کا درد صرف اور صرف ان کے جگر میں ہے، اسی طرح کاایک مغالطہ  آج کل یہ ہوا ہے کہ سارے جہاں کا نمک صرف اور صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے، جو کہ بالکل غلط ہے۔برٹش جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا میں تقریباَ  93 ملک نمک مختلف  ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ نمک کی پیداوار میں اس وقت چین کا پہلا نمبر ہے، جس کی نمک کی پیداوار 22.48 فیصد ہے، دوسرے نمبر پر امریکہ ہے، تیسرے نمبر کا سن کر عام پاکستانی کو تعجب ہو گا کہ وہ انڈیا ہے، جبکہ جرمنی تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان بیسویں نمبر پر ہے جس کا نمک میں مارکٹ کا حصہ صرف اور صرف 0.88 فیصد ہے۔ ایک اور جھٹکا  کھانے کے لیے پاکستانی یہ سننے کے  بعد  تیار ہو جائیں کہ اسرائل میں بھی نمک کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس کا نمبر 44 ہے اور اس کا مارکٹ شیئر ہے ، 0.15 فیصد۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ انڈیا اور اسرائیل خود نمک پیدا کرتے ہیں اور کجا وہ پاکستانی نمک منگوا کر مہنگے داموں بیچیں گے؟ لیکن انڈیا کی آبادی زیادہ ہے اس لیے وہ کچھ مقدار، تقریباً 24 ہزار ٹن پاکستان سے اپنے مقامی استعمال کے لیے برآمد کرتا ہے.

پاکستان میں نمک کی کاتیں تین جگہوں پر ہیں۔ کھیوڑہ، ورچا اور کالا باغ میں ہیں۔ ایک جائزہ کے مطابق ان تینوں کانوں میں دس بلین ٹن نمک کے ذخائر ہیں۔یہ ذخائر چار سو سال تک کے لیے ہیں۔ 1938 میں برٹش انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ میں آئی  سی آئی  انگلینڈ کو رہتی دنیا تک یہ حق حاصل ہے کہ صرف وہ ہی اس کان سے نمک نکال سکتے ہیں۔جب پاکستان کو  آزادی حاصل ہوئی  تو انیکشیشن کے کاغذات میں یہ شرط شامل تھی کہ برٹش انڈیا کے پرانے سارے معاہدوں کو مانا جائے گا۔ اور پاکستان ان کو ختم نہیں کر سکتا۔ یہ کان پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی زیر نگرانی ہیں۔مگر اس طرح جب تک یہ دنیا ہے یا جب تک کھیوڑہ میں یہ نمک ہے، صرف اور صرف Imperial Chemical Industries (ICI) of England ہی نکال سکتی ہے۔
پاکستان کی ایک انٹرنیشنل لیول کی کمپنی ہے، اس کا نام ہے ہب پاک hubpak salt ۔ اس کمپنی کی ہب بلوچستان میں اپنی ریفاینری ہے۔ یہ کمپنی نہ صرف نمک کی مختلف قسمیں بناتی ہے بلکہ نمک کے بہت بڑے ایکسپورٹر بھی ہیں۔ یہ مختلف گریڈز کا سوڈیم کلورایڈ نمک بناتے ہیں جو کھانے، انڈسٹریل اور دوائیوں کی انڈسٹریز میں استعمال ہوتا ہے۔ ان کی فیکٹری کی ایک دن کی پیداواری صلاحیت 620 ٹن ہے۔ ایک بہترین بات یہ ہے کہ یہ کمپنی تمام قسموں کا نمک بناتی ہے، جس میں سمندری، جھیل/چشموں اور راک سالٹ شامل ہے۔ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسماعیل سُتار کا کہنا ہے کہ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جس میں تینوں قسم کا نمک پایا جاتا ہے۔ لیک سالٹ پاکستان کا سب سے بہترین کوالٹی کا نمک ہے۔ پاکستان میں لیک سالٹ وافر مقدار میں ملتا ہےمگر بدقسمتی سے یہ جھیلیں سندھ کے صحراؤں میں بہت اندر کر کے پائی جاتی ہیں، جہاں نہ سڑک ہے نہ کوئی  اور بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔ اسی طرح سمندری نمک بھی گوادر، بلوچستان سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی نمک کی ضروریات تقریباَ 260 ملین ٹن ہے، جس میں پاکستان کا حصہ صرف اور صرف 0.88 فیصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں راک سالٹ صرف اور صرف چار ملین ٹن سالانہ کی مقدار میں نکالا جاتا ہے۔
اس کمپنی کے سی سی او اسماعیل ستارکے مطابق، 1986 میں اس کمپنی نے ہی pink himalayan salt کے نام سے کھیوڑہ کے نمک کو دنیا کے  آگے پیش کیا اور صرف وہ ہی اس نمک کو ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ یہ ویلیو  ایڈڈ  پراڈکٹ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں پسا ہوا نمک پسند کیا جاتا ہے۔ جبکہ بیرون ملک اسے چھوٹے چھوٹے دانوں کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے کیونکہ گورے نمک کو خود گرائنڈ کر کےکھاتے ہیں۔
اسماعیل ستار کے مطابق انڈیا کو کبھی بھی اتنی بڑی مقدار میں نمک برآمد نہیں کیا گیا کہ وہ اسے دوبارہ پیک کر کے اپنے نام سے برآمد کر سکے. یہ مقدار 24 ہزار ٹن سے کبھی زائد نہیں ہوئی ۔یہ نمک انڈیا کے اپنے مقامی استعمال میں آتا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لئے یہ درست ہے تب بھی انڈیا 200 ڈالر فی ٹن کے حساب سے 48 لاکھ امریکی ڈالرز سے زائد کا زرمبادلہ نہیں کما سکتا۔ پاکستان سے بیرون ملک نمک کی جتنی بھی برآمد ہو رہی ہے اس میں ان کے کمپنی کا  حصہ 70 فیصد ہے۔ اب ایک نمک کا بزنس مین جس کی اپنی نمک کی ریفاینری ہو اور اس کا 70 فیصد برآمد میں حصہ ہو، وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے؟
اس سارے افسانے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ نمک کا جعلی قصہ جو کہ  انصافیوں نے مشہور کیا تھا  اس میں صالحین  بھی کود پڑے۔ امیر جماعت اسلامی پختون خوا، جناب سنیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے بنا کسی تحقیق کے جون دس، 2019 کو نمک کے بارے میں توجہ دلاو نوٹس سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروایا۔ جس میں لکھا کہ ” یہ نوٹس  پاکستان کےقیمتی گلابی نمک کو ہندوستان کو اونے پونے داموں میں فروخت کرنے کے حوالےسے ہے۔ ہندوستان ہمارے گلابی نمک سے اربوں ڈالر کمارہا ہے۔اس لیے یہ ایوان اس معاملے میں نوٹس لے۔ اب جہاں حماقتیں ہوں اور انڈیا کا نام ا آے تو صالحین  نہ کودیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اس مضمون کا اختتام اس شعر پر کرتے ہیں
نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں
اس مضمون کی تیاری میں ڈان کے پرویز اشفاق رانا اور بزنس ریکارڈر کے ایک مضمون سے مدد لی گئی ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *