استاد محترم کی خدمت میں۔۔۔۔۔رعایت اللہ فاروقی

کراچی کی ایک تقریب میں عامر خاکوانی کی کتاب پر اپنی رائے دیتے ہوئے دوران خطاب میرے منہ سے ایک کام کا جملہ نکل گیا تھا

“ایک اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو آپ کو یہ احساس دلا دے کہ آپ کچھ نہیں جانتے، یعنی آپ میں اپنے جہل کا احساس پیدا کردے”

میں حلفیہ کہتا ہوں کہ علم تو میرے پاس ہے ہی نہیں جبکہ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ کوئی عالم فاضل قسم کی چیز ہے۔ اور لوگوں کے اس خیال میں اس طرح کے جملوں کا بڑا اہم کردار ہے جو میرے علم سے نہیں بلکہ کہیں اور سے صادر ہوجاتے ہیں اور میرے سامع یا قاری سے بھی پہلے مجھے حیران ہی نہیں کر دیتے بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ میرے علم میں اضافہ بھی کر جاتے ہیں۔ یہ بڑی ہی حیران کن بات ہے کہ میرا کہا ہوا جملہ ہی میرے علم میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے مگر ہے ایسا ہی۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا ہے کہ علم تو میرے پاس نہیں ہے پھر یہ بھرم کیسے قائم ہے اور یہ جملے قلم سے کیسے نکل آتے ہیں ؟ طویل غور سے میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ میرے شیخ اور استاذ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، میرے استاذ حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید اور میرے والد حضرت مولانا محمد عالم رحمھم اللہ میں سے کسی ایک کی یا تینوں کی دعاء لگ گئی ہے کہ میرے جہل من جانب اللہ پردہ پوشی چل رہی ہے۔

عین ممکن ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ یہ بات میں کسر نفسی کے تحت کہہ رہا ہوں تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میرا علم سے کورا ہونا اتنا بڑا سچ ہے کہ میں اس یقین کے ساتھ اس پر حلف بھی اٹھا سکتا ہوں کہ حانث نہیں ہوں گا۔ اس معلوم حقیقت کا ہی نتیجہ ہے کہ مجھے کوئی اہل علم کی مجلس میں مدعو کرلے تو میں پریشان ہوجاتا ہوں کہ میرا پول نہ کھل جائے۔ چنانچہ اس طرح کی مجالس میں اگر بامر مجبوری چلا بھی جاؤں تو پچھلی صفوں میں بیٹھتا ہوں تاکہ نظروں میں نہ آؤں۔ خدا علیم ہے کہ استاد محمد دین جوہر صاحب کا دوبار اسلام آباد آنے کا پروگرام بنا تو دونوں ہی بار اس کی اطلاع پاکر میں پہلے جھٹکے میں تو ایک دم خوش ہوا لیکن چند ہی سیکنڈز میں پریشان بھی ہوگیا۔ خوشی ایک صاحب علم کی ممکنہ زیارت کی ہوئی جبکہ خوف اپنے جہل سے آیا۔ دونوں ہی بار ان کی آمد کا پروگرام ملتوی بھی ہوگیا تو مجھے دکھ بھی ہوا اور خوشی بھی ہوئی۔ دکھ محرومی کا رہا جبکہ خوشی اپنے بچ جانے پر ہوئی۔

جب استاد محمد دین جوہر کے معاملے میں ہی اپنا یہ حال ہے تو سوچئے استاد اجل حضرت قبلہ احمد جاوید صاحب کے حوالے سے اپنا کیا حال ہوتا ہوگا۔ میں تین بار ان کی مجلس میں اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے اور دل و دماغ کے لئے کچھ روشنی پانے کو گیا۔ تینوں ہی بار ان سے بہت دور بیٹھا۔ تقریبات کے بعد لوگ ان کے ساتھ غیر رسمی گپ شپ کے لئے بیٹھے تو میں دور سے ہی اس کے مناظر دیکھتا رہا لیکن قریب نہیں گیا۔ میں تینوں ہی مجالس میں ان کے قریب دو دو بار گیا۔ ایک تب جب ان سے ملاقاتی مصافحہ کرنا تھا اور دوسرا تب جب الوداعی معانقہ کرنا تھا۔ ان تین مجالس میں میں نے ان سے ایک ہی بار گفتگو کی ہے اور وہ فقط اتنی

“میرا اندرون بہت خالی ہے، مجھے آپ کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے”

الیکشن سے کوئی دس پندرہ روز قبل میں اپنے معمول کے مطابق دوپہر کو بیدار ہوا اور موبائل دیکھا تو ایک اجنبی نمبر سے ایک میسج تھا

“کچھ مشورہ کرنا ہے اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو کال اٹینڈ کر لیجئے ورنہ میں عشاء کے بعد فون کر لوں گا”

اس میسج کے نیچے “احمد جاوید” لکھا دیکھا تو خیال یہی آیا کہ کوئی اور احمد جاوید صاحب ہوں گے۔ لیکن پہلی بار پتہ چلا کہ خوش فہمی بھی بسا اوقات بہت کام چیز ثابت ہوتی ہے، ایک موہوم سی خوش فہمی لاحق ہوئی کہ کیا خبر استاد محترم ہی ہوں۔ میں نے فورا استاد عزیز ابن الحسن صاحب کو فون کرکے بتایا کہ ایسا میسج آیا ہے، اس بات کا کتنا امکان ہو سکتا ہے کہ یہ استاد احمد جاوید ہی ہوں ؟ انہوں نے بتایا کہ آج صبح مجھ سے ہی انہوں نے تمہارا نمبر لیا ہے، یہ وہی ہیں۔

قصہ مختصر کہ جب استاد احمد جاوید صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے اپنی ایک رائے پیش فرمائی اور مجھ سے دریافت فرمایا

“کیا میری یہ رائے دیانتا درست ہے ؟ کیا میں اپنے احباب کے سامنے اس رائے کا اظہار کر لوں ؟”

مت پوچھئے کہ یہ سن کر میں کس بری طرح لرز گیا مگر ان کی اگلی بات نے تو مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی پریشانی میں مبتلا کردیا۔ فرمایا

“میں اس کے باوجود آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں نے آپ کے کالم پڑھ رکھے ہیں۔ مجھے آپ کی رائے پر اعتماد ہے”

میں کیا اور میری رائے کیا لیکن اس آزمائش سے نکلنے کے لئے میں نے جلدی سے کہدیا کہ آپ کی رائے بالکل درست ہے۔ پھر اس حوالے سے کچھ اور گفتگو بھی ہوئی اور کال ختم ہوگئی۔ وہ دن ہے یہ دن ہے میں مستقل یہ دعاء مانگتا ہوں کہ میرے رب میں کچھ لکھنے لگوں تو مجھے استاد احمد جاوید یاد نہ آئیں۔ کیونکہ ایسی صورت میں میں لکھ ہی نہیں پاؤں گا۔ میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں کہ اپنی تعریف یا سراہے جانے پر مجھے کم سہی مگر خوشی ہوتی ہے۔ لیکن میں اتنے بڑے انسان سے ملنے والے اعتماد کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ میں تو یہاں سوشل میڈیا پر اپنے ہم عمروں کو بھی اپنی تحریر کے ذریعے مخاطب کرنے کی جرات نہیں رکھتا اور اسی لئے ہمیشہ “نوجوان” میرا مخاطب ہوتے ہیں کہ میں بچوں کی سطح کو مخاطب کرنے کا ہی اہل ہوں چہ جائیکہ بات ہم عمروں سے بھی اس حد تک آگے چلی جائے کہ استاد احمد جاوید جیسا عظیم متکلم، صوفی اور علامہ میرے الفاظ کے فریب میں مبتلا ہوجائے۔ میں اس تحریر کے ذریعے انہی سے یہ عاجزانہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ میرے معاملے میں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا علم، شعور یا ادراک کی دنیا سے بس اتنا ہی تعلق ہے کہ اس کی آخری صفوں میں دبک کر بیٹھ لیتا ہوں۔ آپ جیسے صاحب علم کا مجھ جیسے آوارہ پر محض ایک اچٹتی نگاہ ڈال لینا ہی ایک بہت بڑا سرمایہ ہے، اس سے زیادہ کی میں تاب نہیں رکھتا۔ مجھے بس اپنی مجالس کی آخری صفوں تک ہی رہنے دیجئے اور میری کسی رائے پر ہرگز اعتماد نہ کیجئے۔ مجھ جیسے آوارگانِ زمانہ آپ کو مشورہ دینے کی اہلیت ہرگز نہیں رکھتے۔ اس روز آپ کو ہڑبڑاہٹ میں ہی مشورہ دینے کی بے ادبی کر بیٹھا، حواس قائم ہوتے تو یہ گناہ ہرگز سرزد نہ ہوتا۔ میرا ہرگز یہ خیال نہیں کہ آپ کی سیاسی رائے میرے مشورے پر استوار ہے بلکہ اسے اپنی خوش بختی سمجھتا ہوں کہ میرے بعض حیران کن جملوں کی طرح میری سیاسی رائے بھی قدرت کی جانب سے غیبی طور پر آپ سے ہم آہنگ نکلی جس کے لئے میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں !

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *