• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  •  سماجی انصاف سرمایہ پر محنت کی فتح میں ہی مضمر ہے ۔۔ناصر منصور

 سماجی انصاف سرمایہ پر محنت کی فتح میں ہی مضمر ہے ۔۔ناصر منصور

 سماجی انصاف سرمایہ پر محنت کی فتح میں ہی مضمر ہے ۔۔ناصر منصور/یکم مئی کے عظیم مبارزہ کو گزرے ایک سو چھتیس برس بیت چکے، اس دوران انسانی سماج بے شمار تجربات، ناقابل یقین حاصلات، الم ناک حادثات، انقلابات سمیٹے نئے اور پرانے سوالات لیے کھڑا ہے, انسان نے خلا میں بستیاں بسانے کو حقیقت کا روپ  دیا، کائنات کے پُراسرار رازوں سے پردہ اٹھا رہا ہے، پیداواری عمل کے لیے ضروری آلاتِ  پیداوار میں وہ جدت لائی گئی ہے کہ عقل دنگ رہ جائے، کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج دریافت نہ کیا جاچکا ہو یا کیا جارہا ہو، لیکن اس ہمہ جہتی ترقی اور سائنس کے کمالات نے دنیا کو ایک جانب حیرت کدہ حسن و طلسم بنا دیا ہے تو دوسری جانب سماج کی ساری حسن کاری کا بنیادی جز و،یعنی انسان اور انسانی محنت  آج بھی اسی بنیادی سوال کو لیے کھڑے ہیں  کہ اس ساری ترقی و تمدن کے باوجود سرمایہ محنت پر حاوی کیوں ہے؟

انسانی ترقی کے سارے مدارج میں اس کا اصل خالق یعنی محنت کش راندۂ درگاہ کیوں ہے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہ سوال معاشی بھی ہے اور سیاسی و سماجی بھی ، یہ سوال مئی 1886 میں “ہے مارکیٹ”  شکاگو میں  اٹھایا گیا تھا اور یہ سوال آج بھی دنیا کے ہر خطہ ہر حصہ میں اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ سوال دراصل محنت اور سرمایہ کے مابین معاندانہ تضاد پر عبارت ہے، جو ہر معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا اور اس پر کھڑی عمارت کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے، چاہے وہ امریکہ یا یورپ کا صنعتی سماج ہو یا پھر ہمارے جیسا پچھڑا ہو قبائیلی، زرعی معاشرہ،اس سماجی بُعد کی موجودگی میں معاشرتی ترقی محنت کش کے لیے بے ثمر ہے تاآنکہ ذرائع پیداوار اور آلاتِ پیداوار اسی طرح اجتماعیت کا مظہر نہیں بنا دیے جاتے جیسا کہ پیداواری عمل میں اجتماعیت کار فرما ہے۔

ظاہری صورت حال کے برعکس صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے محنت کش کی محنت کے استحصال کی نوعیت اتنی ہی شدید ہے جتنی کہ ہمارے جیسے معاشروں میں نظر آتی ہے، گو ہمیں اپنی نسبت وہاں انسانی محنت کا احترام قدرے بہتر نظر آتا ہے جو کہ محنت کاروں کی جدوجہد کا ثمر ہے لیکن سچ یہی ہے کہ جدید پیداواری صلاحیت کی بدولت صنعتی ممالک کا محنت کش کم وقت میں بہت زیادہ دولت پیدا کرتا ہے لیکن پیدا شدہ دولت میں اس کا حصہ انتہائی قلیل ہوتا ہے۔ آپ دولت پیدا کرنے کی ناقابل یقین استعداد کا اندازہ اس ہوشربا حقیقت سے لگا سکتے ہیں کہ دنیا کے شمالی حصہ کے صرف آٹھ سرمایہ داروں کی کُل دولت دنیا کی نصف آبادی کی کُل آمدن کے برابر ہے، آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ٹویٹر کے نئے مالک ایلون مسک کے ذاتی اثاثوں کی قیمت دو سو تہتر ارب امریکی ڈالرز ہے جو پاکستان کے بائیس کروڑ انسانوں   کی سالانہ آمدن کے مساوی ہے۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہر اس معاشرے کا خاصہ ہے جہاں پیداوار کے ذرائع اقلیت کی دسترس میں ہیں. یہی کچھ بلکہ اس سے بدتر صورت میں ہمیں پاکستان جیسے ممالک میں بھی نظر آتی ہے،گو صنعتی طور پر ترقی یافتہ سرمایہ دار ریاستوں میں صدیوں کی روایات لیے طاقت ور انقلابی، جمہوری تحریکوں اور مزدور مزاحمت نے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی گارنٹی دی ہے جو ہمارے جیسے ممالک کے شہری اپنے نیک اعمال کے انعام کے طور اگلے جہاں میں ملنے کی امید لگائے مناجات میں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں عوامی تحاریک اور جمہوری اقدار و روایات کمزور ہونے کی بنا پر محنت کشوں کے حالات کار اور زندگیاں کبھی بھی بحث کا موضوع نہیں رہی ہیں۔ ہماری برسرِ اقتدار یا اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی جماعتیں اور ان کے پشتی بان طاقت ور گروہ عملاً انیس بیس کے فرق کے ساتھ محنت کشوں سے متعلق ایک سی سوچ رکھتے ہیں. یہ وہ ہیں جو فیکٹریوں، کارخانوں. کار گاہوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے ساڑھے سات کروڑ محنت کش انسانوں کی اکثریت کو تنظیم سازی،  سوشل سکیورٹی اور بڑھاپا پینشن جیسے بنیادی حق سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ یہ شرم ناک بات ہے یہ سب سرکاری طور پر اعلان کردہ کم از کم اجرت کو نافذ کرنے میں مجرمانہ حد تک ناکام رہے ہیں،ہمارے جمہوری نظام کے جوہر میں موجود محنت کش دشمن طریقہ کار قانون سازی کو مزدور دوست ہونے ہی نہیں دیتا، پاکستان کے منتخب نمائندوں کو ووٹ دینے والوں میں ستر فی صد محنت کش ہیں لیکن پارلیمنٹ میں نہ تو ان کی کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی ہم درد آواز، ہر گزرتے دن کے ساتھ ریاست اور راج کرنے والے سیاسی و غیر سیاسی گروہوں کو مقامی سرمایہ کی پاسبانی   پر کوئی پشیمانی نہیں ہوتی اور تو اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے سہولت کار بنے غلامی کے طوق کو تمغہ امتیاز سمجھنے میں عار بھی محسوس نہیں کرتے،  حکومت عمران خان کی تھی تو صرف چھ ارب ڈالرز قرض کی خاطر امریکہ کے مفادات کی آلہ کار آئی ایم ایف کے ہاتھوں کروڑوں انسانوں کو معاشی غلام بنانے کو اعزاز گردانا گیا ، ریاستی بنک سامراجی مالیاتی ادارے کے تنخواہ دار کے حوالے اور  “اکنامک ہٹ مین”  کو مشیر خزانہ کے طور مسلط کیا گیا اور اب موجودہ کثیرالجماعتی حکومت بھی اسی سامراجی چوکھٹ پر ماتھا ٹیک رہی ہے اور دو ارب ڈالرز کے اضافی قرض کو مژدہ قرار دے رہی ہے۔ ان میں قدرِ مشترک اگر ہے تو وہ ہے سامراجی مالیاتی اداروں کی خوشنودی میں بازی لے جانے کی دوڑ۔

پچھلے حکمران بھی لاؤ لشکر کے ساتھ کاسہ لیے عرب شہزادے سے بھیک کے طلب گار تھے اور ان کی جگہ لینے والے بھی  گداگری کی روایت کو لائق تقلید مان کر دربار میں حاضر ہو رہے ہیں۔ہر آنے والا حکمران پچھلوں سے زیادہ بد کرداری کا نمونہ چھوڑ جاتا ہے. جس ملک کی آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جہاں گزرے دو برسوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسان کلی یا جزوی طور پر روزگار سے محروم ہو چکے ہوں اور مزید پچاس لاکھ خاندان غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیے گیے ہوں اس ملک کا وزیراعظم گھر سے آفس کا سفر ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرتا رہا ، پہلے حکمران ریاستی تحائف سستے داموں ہتھیا لیا کرتے تھے اب انہوں نے مہنگے داموں  بیچنے کو کاروبار بنا لیا، اسے حکمران طبقے کی ذہنی پستی کا اظہار نہیں تو اور کیا کہا جاسکتا ہے؟

حکمرانوں کی جانب سے کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی کہ بتدریج شدید سے شدید تر ہوتے معاشی بحران سے کس طور نبردآزما ہوا جایے جو ایک ہول ناک انسانی المیہ کو جنم دینے کے امکانات لیے ہویے ہے۔ ایسا المیہ جس کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ مسلط کردہ حکمران گروہوں کی بداعمالیوں اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ یہ حکومتی یا انتظامیہ نااہلی کا بحران نہیں جیسا کہ کہا جا رہا بل کہ یہ معشیت کی ناکامی کےطنتیجے میں ابھرتا ریاستی و معاشرتی بحران ہے . سست روی کے شکار پیداواری عمل کی حاصلات اس قدر نہیں کہ جاری معاشی بحران سے نبردآزما ہو سکے۔ کروڑوں انسانوں کی قوت خرید کمزور ہو چکی ہے ، مقامی منڈیاں دائمی کساد بازاری کا شکار ہیں، مفلوک الحالی دیہاتوں سے اب شہروں کا رخ کر رہی ہے، ملکی برآمدات اور تارکین وطن کی ترسیلات سے حاصل شدہ زرمبادلہ کا اندازہ پچپن ارب ڈالرز کے قریب ہے جو کہ درآمدات کی مد میں اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ ستر ارب ڈالرز  کی حد کو چھو رہا ہے کے لیے خطرناک حد تک ناکافی ہے جسے غیر ملکی قرضہ جات سے پورا کیا جانا ہے. اس وقت پاکستان کے بیرونی قرضے ایک سو اٹھارہ ارب ڈالرز کے ہیں جس میں سے پچاس ارب ڈالرز کا قرضہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں لیا گیا، ملک کو سری لنکا جیسی بحرانی کیفیت سے بچانے اور ادائیگیوں میں توازن کے لیے اگلے تین ماہ میں بارہ ارب ڈالرز کی اشد ضرورت ہوگی جو ملک کو قرضوں کے دَل دَل میں دھکیل دے گا.  ملکی معیشت کی مجموعی صورت حال یہ ہے کہ بیرونی قرضہ جات، دفاعی اخراجات اور انتطامی اخراجات کے بعد بچتا ہی کچھ نہیں کہ عوام کو سہولت پہنچانے والے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکیں۔

سنہ دو ہزار انیس میں آئی ایم ایف سے کیے جانے والے معاہدے  کی وجہ سےطملک کے عوام عموماً  محنت کش خصوصاً اس وقت بدترین معاشی گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں، اشیاء خوردونوش خصوصاً آٹا، دال چاول، چینی، گھی، دودھ، گوشت اور سبزیاں ان کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں،بجلی، گیس، ادویات، پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ، تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کا اضافہ نے ملک بھر میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ افراطِ زر بارہ فی صد کی خوف ناک حد کو چھو چکا ہے،موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے نتائج عوام میں جینے کی رہی سہی رمق بھی ختم کردیں گے۔ حکومتی تبدیلی سطحی بہتری کا اظہار تو ہو سکتی ہے لیکن بنیادی نوعیت کی ترقی کے لیے راست اقدامات اس کے بس کی بات نہیں،کیوں کہ حکمران طبقات کے سیاسی گروہوں کے پاس محنت کش عوام کی زندگیوں میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی اور پروگرام موجود نہیں، عوام کو جذباتی نعرہ بازی کی آڑ میں آنے اور جانے والے دونوں کی جانب سے دھوکہ دیا جارہا ہے، اس صورت حال سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ شکاگو میں اٹھایے گیے بنیادی سوال کی روشنی میں محنت عوام اپنے بنیادی سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے متبادل سیاسی صف بندی کریں۔

پاکستان کی تمام مزدور تنظیمیں ، بائیں بازو کی جماعتیں ، انسانی حقوق کے ادارے ، صحافی ، وکلا،  ڈاکٹرز، پیرامیڈک، اسٹوڈنٹس، نوجوان ، خواتین ، ٹرانس، اقلیتوں، اساتذہ، دانش ور انجمنیں مشترکہ پروگرام پر عبارت عوامی لائحہ عمل سے موجودہ بحران سے نبردآزما ہونے کی سبیل نکال سکتی ہیں۔

ملک کو درپیش بحران سے نکالنے لیے مندرجہ ذیل نکات پر مبنی پروگرام پر جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور اسی کسوٹی پر حکمران جماعتوں کی بدنیتی اور عوام دشمنی کو پرکھا جا سکتا ہے ۔

*سام راجی تسلط سے آزادی اور حقیقی جمہوریت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کو موخر کرنے کا بین الاقوامی طریقہ اختیار کیا جائے۔

*اشیاء تعیش سمیت ایسی تمام مصنوعات کی امپورٹ پر پابندی عائد کی جائے جو مقامی طور پر تیار کی جاتی یا کی جا سکتی ہیں۔

*غیر پیداواری بشمول دفاعی اخراجات میں پچاس فی صد کمی  جائے۔

*پڑوسی ممالک خصوصا بھارت، ایران اور چین سے تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔

*جمہوریت کی مضبوطی اور ملکی معیشت کا پہیہ رواں کرنے کے لیے زرعی اصلاحات کا آغاز کیا جائے، غیر حاضر زمین داری ختم کرتے ہوئے قابل کاشت زرعی اراضی بے زمین ہاری، کسان خان دانوں میں مفت تقسیم کی جائے۔

*وفاقی اکائیوں کو آئینی طور پر بااختیار بنایا جائے۔

* ملکی ایکسپورٹ بڑھانے والی صنعتوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی میں  ریاستی مدد اور رعایت فراہم کی جائے۔

*فیکٹری کارخانون اور کارگاہوں میں لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جایے. یونین سازی اور بنک کے ذریعے اجرتوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے. ٹھیکہ داری نظام کو جرم قرار دیا جائے۔

*  ہر شہری کو تعلیم، صحت اور رہائش فراہم کی جائے، ٹرانس پورٹ کا مربوط نظام وضع کیا جائے۔

*انتخابی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جس میں محنت کشوں، عورتوں اور مظلوم طبقات کی حقیقی نمائندگی یقینی ہو سکی۔

* بااختیار جمہوری بلدیاتی نظام تشکیل دیا جائے۔

*ریاست کے زیرِ انتظام صنعتی و مالیاتی اداروں کی نج کاری کا عمل روکا جائے اور اِنہیں چلانے کے لیے شراکت داروں بشمول محنت کشوں کے نمائندوں سے بہ معنی مشاورت کی جائے۔

*عورتوں، اقلیتوں، ٹرانس جینڈر کو برابر کا شہری عملاً تسلیم کیا جایے، تمام امتیازی قوانین ختم کیے جائیں، عقائد کی بنیاد پر تفریق ختم کی جائے۔

*تقریر و تحریر کی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے قلم کے محنت کشوں پر مسلط غیر اعلانیہ سنسر شپ ختم کیا جائے۔

* ماوراء قانون و آئین شہریوں کی گم شدگیوں کا سلسلہ روکا جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

*تمام ماحول دشمن منصوبوں پر عمل درآمد روکا جائے. ترقی کے نام پر بستیاں منہدم کرنے کا سلسلہ روکا جائے اور بے گھر کیے گئے خان دانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کی جائے۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply