اوپن یور ہارٹ آئی ایم کمنگ ہوم۔۔۔۔حسن کرتار

میں حیران ہوں کہ اب تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ وہی زرداری ہے جو جیل میں بھی ہو تو نور شور پہ ہاتھ صاف کرلیتا ہے۔ یہ وہی زرداری ہے جسکی بہن فریال تالپور پچھلے دس سال سے سندھ کی کٹھ پتلی حکومت چلا رہی ہے۔ جس کی مرضی کے بغیر ایس پی تک کا تبادلہ نہیں ہوتا۔ جس کے بارے میں ان کے قریبی ساتھی جو اکثر فوج کے بڑے افسران سے انکی خفیہ میٹنگز بھی کرواتے تھے نے ایک بار مزاح میں کہا کہ روزِ قیامت صرف فریال تالپور کو جوتے لگیں گے باقی سب کو خدا معاف کر دے گا۔۔۔

اب کچھ لوگ کہتے ہیں سندھ بدل گیا ہے وہاں زرداری گروپ آف ایوری بزنس نے بہت ترقیاتی کام کروائے  ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تین چار سال پہلے جب میرے سندھ کے دورے ہوتے تھے اس گناہ گار نے سندھ کو بھٹو دور سے بھی زیادہ بدتر پایا تھا۔۔۔ ہم جاپان کی فارن منسٹری کے تعاون سے سندھیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہے تھے۔ اور خاکسار مانیٹرنگ اینڈ ایولیوایشن کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔۔۔ ہوتا کیا تھا وہاں بڑے افسران کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مجھے اتنا کھانا کھلایا جائے اتنا کھانا کھلایا جائے کہ میں سوائے  کھانا کھانے کے اور کچھ نہ کرسکوں۔ یہاں تک کہ ہر رخصتی پر میری گاڑی زبردستی تحائف سے بھر دی جاتی۔ اور ہماری فنڈنگ سے کام کیا ہوا؟ ۔۔۔جعلی ڈاکٹر بھرتی کئے گئے۔ ہمیں جن کلینکس کا وزٹ کرایا جاتا انکا دوبارہ جب ہم سرپرائز وزٹ کرتے تو وہاں سرے سے کلینک ہی نہیں ہوتا تھا یعنی صرف دوروں کے لئے ہنگامی انتظامات کئے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک بار سویڈن پلٹ میرے پختون کولیگ جو پہلی بار سندھ کا دورہ کر رہے تھے لوگوں کے پچکے پچکے مایوس بیمار چہرے دیکھ کر رو پڑے اور کہا واللہ اتنی غربت تو میں نے افریقہ میں بھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔

ان باتوں کو چھوڑیں کہ جس پہ گزرتی ہے وہ ہی بہتر جانتا ہے۔ زرداری صاحب کے جیالے سوچ رہے ہیں کہ انکے جیل جانے سے اگر ووٹ بنک میں کوئی اضافہ ہوگا تو یہ محض ٹپیکل جیالانہ خوش فہمی ہے کہ موجودہ نسل وہ نسل ہے کہ جائیداد ملنے کے انتظار میں دن رات دل ہی دل میں اپنے ماں باپ کی رخصتی کی دعائیں کر رہی ہے۔۔۔ اس نے جو کرنا ہے سوشل میڈیا پہ ہی کرنا ہے سڑکوں کیلئے وہی ہزار دو ہزار جیالے ہی دستیاب ہونگے جنہیں اب بھی یہ خبط ہے کہ شاید زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔۔۔

اور زرداری کے مخالفین جو سوچ رہے ہیں کہ شاید زرداری خاندان کا واقعی میں کوئی احتساب ہوگا اور تمام لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی وہ ان جیالوں سے بھی زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں کہ بھولے لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ یہ وہی زرداری ہے جس نے انکے ہینڈسم لیڈر کے ساتھ مل کر سینیٹ میں فوج کی حکومت اور مضبوط کی تھی۔۔۔ یہ وہی زرداری ہے جو ملک ریاض کا جگری دوست  ہے۔ ملک ریاض کون ہے؟ سب کا دوست ہے۔۔۔

سب جانتے ہیں کہ جرنیل سیاستدان صنعتکار بزنس مین ماڈلز شاڈلز صحافی جج مج آپس میں ایک ہیں یا ایک جیسے انٹرسٹ رکھتے ہیں یعنی پیسہ پیسہ پیسہ۔ یہ اگر اس سے آگے کی کوئی  سوچ رکھتے ہوتے تو ایمان سے بتائیں آج ملک کا یہ حال ہوتا؟ میر صاحب پاگل تھے جنہوں نے فرمایا:

کیا کہیئے اپنے عہد میں جتنے امیر تھے
ٹکڑے پہ جان دیتے تھے سارے فقیر تھے۔۔۔

لہذ اایک مسلسل شغل ہے جو چل رہا ہے آپ بھی تب تک انجوائے  کیجیئے جب تک کچھ اور انجوائے  کرنے کو نہیں ملتا ۔ ویسے بھی نہ نور ہے نہ ایمان ہے تو کہاں سے بنیں بے نظیر؟ یہی الفاظ کی جگالی ہی کی جاسکتی ہے آپ بھی کیجیئے ہمیں بھی کروایئے کہ اور کیا کریں؟۔۔۔ خدا پاگل تھوڑی ہے آخر کچھ سوچ کر ہی ہمیں ایسا بنایا ہوگا۔ نہیں؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *