پکڑ دھکڑ دھپڑ دھوس اور بالا بکری چور۔۔۔۔علی اختر

کچی سڑک پر بس دھول اڑاتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی ۔ وہ بس کی سب سے آخر   سیٹ پر بیٹھا اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے اس گاؤں آنے کا فیصلہ کیا ۔ اگر اسے پتا ہوتا  کہ  یہاں کی سڑکیں اور بسیں ایسی ہونگی تو وہ کبھی بھی یہاں اپنا وقت برباد کرنے نہ آتا ۔ سامنے کی سیٹ پر بیٹھے مسافر کی بکری کی مسلسل میں میں سے اسکے دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تھیں ۔ایک تو بس اتنی کھٹارا کہ  اس سنسان راستے پر کبھی بھی دھوکہ دے جائے دوسرا سڑک کچی اور کھڈوں سے بھری اوپر بکری کا شور ۔ اسے لگ رہا تھا  کہ  کچھ دیر اور وہ اس بس میں رہا تو برین ہیمریج سے اسکی موت ہو جائے گی ۔

“بھائی  ! یہ انسانوں کی بس میں بکری کیوں لے آئے ہو ” ۔ آخر اس نے بکری والے مسافر سے ہمت کر کے شکوہ کر ہی لیا ۔ جواب میں بکری والے مسافر نے مڑ کے اسکی جانب دیکھا اور خاموش رہنے کا شارہ  کر کے دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ بکری والے مسافر کی اس حرکت پر تو اسکا پارہ آخری درجہ پر پہنچ گیا ۔ ” میں کہتا ہوں یہ جگہ جانوروں کو لانے کی نہیں ہے ” وہ چیخا ۔ باقی مسافر بھی اس طرف متوجہ ہو گئے ۔ “ہاں یہ شہری بابو ٹھیک ہی تو کہتا ہے ” ۔ کہیں سے آواز آئ ی ۔ “ارے یہ بکری والا ہے کون ؟ ” ۔ “کون ہے تو ” مسافر اسکے ہمنوا تھے ۔ “چوری کی ہے نا یہ “.۔۔ارے یہ تو بالا ہے مشہور بکری چور ” مسافر اس بکری والے مسافر کو پہچان چکے تھے ۔ پکڑو اسے ۔ اسے مار ڈالو ۔ اسے چلتی بس سے دھکا دے دو ۔ بہت سی آوازیں تھیں ۔

آخر مسافروں کے مشترکہ فیصلہ کے مطابق مسافر کی بکری ضبط کر کے اسے بیچ سنسان راستے میں بس سے اتار دیا گیا ۔ شہری مسافر اپنے تئیں کسی قدر سکون میں آچکا تھا ۔ طبیعت ہلکی ہو گئی تھی ۔ بکری چور اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا ۔ سکون کی وجہ سے وہ غنودگی میں چلا گیا ۔ بس ایک سرنگ سے گزر رہی تھی ۔ ہر  طرف اندھیرا چھا گیا ۔

” صاحب ٹکٹ ” وہ کنڈیکٹر کی آواز سے چونکا ۔ “کتنے پیسے ” اس نے کنڈیکٹر کی جانب دیکھ ۔ دیکھتے ہی اسے ایک جھٹکا لگا ۔ کنڈیکٹر وہی بکری چور مسافر “بالا ” تھا ۔ “تمہیں تو ابھی ہم نے راستے میں اتارا تھا . تم واپس کیسے  آگئے “۔ جواب میں کنڈیکٹر نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔ “بتاؤ یہ کیا معاملہ ہے ” وہ چیخا ۔ باقی مسافر بھی اسکی جانب متوجہ ہو گئے ۔ “کیا ہوا شہری بابو ۔ گرمی لگ گئی  ہے کیا ” ۔ کہیں سے آواز آئی  ۔ “بھائیو ! یہ کنڈیکٹر وہی بکری چور “بالا” ہے “.۔۔اس نے حیرانی سے مسافروں کو بتایا ۔ “کیا بکتا ہے ” ۔ “تو ہوتا کون ہے ہمارے گاؤں کے کنڈیکٹر کو چور کہنے والا ” ۔ ” مارو اسے ” ۔ “چلتی بس سے دھکا دے دو ” ۔ ایک معزز اور ایماندار آدمی پر الزام لگاتا ہے “۔ وہ حیران تھا کہ  یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔

“دیکھو شہری با بو ! اگر اس بس میں عزت سے سفر کرنا ہے تو خاموش رہو ۔ ورنہ اتر جاؤ ” آخر کنڈیکٹر نے پہلی بار کچھ بولا ۔ انداز کچھ ایسا تھا کہ شہری مسافر خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ کنڈیکٹر نے چپ چاپ کرایہ  لیا اور واپس جانے لگا ۔ “دیکھو مجھے پتا ہے کہ  تم سب جانتے ہو ۔کیا مجھے بتا سکتے ہو کہ  یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟”۔ کنڈیکٹر نے واپس جاتے مڑ کر مسافر کی جانب   دیکھا، مسکرایا اور بولا ۔ “اس بس میں یہ سب ہوتا رہتا ہے” ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *