غربت، قحط اور امرتا سین۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

امرتا سین ایک ہندوستانی معیشت دان ہیں، بنگال میں پلے بڑھے، کلکتہ میں تعلیم حاصل کی، ٹرنٹی کالج، کیمبرج سے معاشیات میں ڈگری لی، پھر بھارت واپس آ گئے اور کلکتہ کی ایک جامعہ سے وابستہ ہو گئے، بعد ازاں سین نے امریکی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا اور لندن اسکول آف اکنامکس، ہاورڈ اور آکسفورڈ میں علم و دانش کے موتی بکھیرے۔ 1988میں امریتا سین کو معاشیات کے شعبے میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، 1999میں ہندوستان نے انہیں بھارت رتن ایوارڈ دیا، 2013میں سین کو فرانس کا سب سے اعلی تمغہ France’s Legion of Honourدیا گیا، یہ ایوارڈ نپولین بونا پارٹ نے 1802میں شروع کیا تھا۔ یوں تو سین نے کئی کتابیں لکھیں مگر اُن کی کچھ کتابوں کو بے حد پذیرائی ملی جیسے The Idea of Justice، دوسری Collective Choice and Social Welfareاور تیسری Development and Freedom۔ حال ہی میں امرتا سین نے بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کے پروگرام ’’ٹو دی پوائنٹ‘‘ میں انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری شورش سے نمٹنے کے لئے ہندوستانی سرکار کی حکمت عملی بے حد ناقص ہے ’’یہ بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سب سے بڑا داغ ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ پہلی رات جب میں یہاں آیا تو سی این این نے کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم پر ایک طویل پروگرا م نشر کیا۔ مظاہروں کو کچلنے کے لئے خوفناک اور پر تشدد طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، اخبارات پر پابندی لگائی جا رہی ہے، ان سب باتوں سے کشمیری تنہا ہو جائیں گے اور ان کے پاس کوئی وجہ نہیں رہ جائے گی کہ وہ خود کو بھارت کے ساتھ قریب کرنے کی کوشش کریں‘‘۔ ایک بھارتی اسکالر کا کشمیر کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کوئی معمولی بات نہیں، ثابت ہوا ہے کہ سین نے زندگی میں فقط ڈگریاں ہی حاصل نہیں کیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی اپنائیں، بڑا آدمی اپنی ڈگریوں سے نہیں بلکہ اپنے نظریات اور کردارسے پہچانا جاتا ہے۔
امرتا سین کی کتابوں پر واپس آتے ہیں۔ 1943میں جب بنگال میں قحط پڑا تو سین کی عمر دس سال تھی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس قحط میں پندرہ لاکھ افراد مرے جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تیس لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ ہندوستان میں اُس وقت برطانوی راج تھا اور سر ونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیراعظم، چرچل کو اس قحط کا اسی طرح ذمہ دار سمجھا جاتا ہے جیسے ہٹلر کو ہولو کاسٹ کا مگر تاریخ چونکہ فاتح اقوام لکھتی ہیں اس لئے فی الحال چرچل کو ہم ’’سر‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کریں گے۔ سن ستّر کی دہائی تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے خوراک کی پیداوار اُس رفتار سے نہیں بڑھتی، یہ مالتھس کا نظریہ تھا جس پر لوگو ں کو ایمان کی حد تک یقین تھا، ہے۔ امرتا سین نے یہ بات غلط ثابت کر دی، 1981میں سین نے ایک کتاب لکھی، نام تھا Poverty and Famines، اس کتاب میں سین نے یہ ثابت کیا کہ قحط زدہ علاقے میں لوگ خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں مرتے بلکہ خوراک خریدنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے مرتے ہیں، سین نے کہا کہ یہ عین ممکن ہے کہ کسی خطے میں وافر خوراک موجود ہو مگر اچانک وہاں لوگوں کی اجرت میں کمی ہو جائے اور ساتھ ہی کھانے پینے کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے تو بہت سے لوگ بھوکے رہنے پر مجبور ہو جائیں گے حالانکہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا دستیاب ہوگا۔ بنگال میں 1943میں جب قحط پڑا تو برطانو ی سرکار نے اس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس میں قحط کی وجہ طوفان، سیلاب اور بیماریوں کی وجہ سے چاول کی فصل اندازے سے کم ہونا بتائی گئی، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ جاپان نے برما پر قبضے کے بعد چاول کی سپلائی منقطع کر دی تھی وگرنہ چاول کی کمی کو درآمد کرکے پورا کر لیا جاتا۔ امرتا سین نے اپنی کتاب میں ان توجیہات کے پرخچے اڑا دیے، سین نے لکھا کہ 1943میں بنگال میں خوراک کی دستیابی 1941کی نسبت 13فیصد زائد تھی جبکہ دو سال پہلے کوئی قحط نہیں پڑا تھا لہٰذا یہ دلیل بے وزن ہے کہ خوراک کم تھی، لہٰذا تیس لاکھ لوگ بھوک سے مر گئے۔ تو پھر ہوا کیا؟ سین کے مطابق 1939سے 1943تک عام آدمی کی اجرت میں نہایت معمولی اضافہ ہوا یعنی 100سے 130کے درمیان جبکہ اسی عرصے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں (اسی سکیل پر) 100سے 385 تک بڑھ گئیں، نتیجہ یہ نکلا کہ غریب کی قوت خرید چار گنا کم ہو گئی اور پیٹ بھر کے خوراک خریدنے کی سکت نہ رہی، دوسری طرف حکومت نے سرکاری اہلکاروں اور صنعتوں میں کام کرنے والوں کو امدادی قیمت پر خوراک فراہم کی، جس سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔ سین لکھتا ہے کہ 1974کے بنگلہ دیشی قحط میں بھی یہی ہوا، جس سال قحط پڑا اُس برس خوراک کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت زیادہ تھی۔

امرتا سین کی یہ کتاب مجھے اس لئے یاد آئی کہ آج ہمارے ملک میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے، بجٹ میں خالصتاً اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں، بجٹ میں غریب کی حیثیت ایک ہندسے کی بھی نہیں ہوتی، صرف ایک سطر لکھ دی جاتی ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران اتنے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکالے گئے یا غربت میں دھکیلے گئے۔ امرتا سین کے نزدیک یہ بھی درست نہیں، مثلاً 60کی دہائی کے آخر سے 70کے وسط تک بنگلہ دیشی علاقے میں ان لوگوں کی تعداد میں کمی ہوئی جو غربت کی لکیر سے نیچے تھے مگر ساتھ ہی انتہائی غریب لوگو ں کی تعداد میں اضافہ ہوا جن کے پاس مکمل خوراک حاصل کرنے کے پیسے نہیں تھے۔ بجٹ چونکہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے روایتی اصولوں کے مطابق بنایا جاتا ہے کہ اس لئے سفاک ہوتا ہے کیونکہ طلب و رسد کے اصول ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی خطے میں اگر خوراک کی کمی ہوگی تو از خود مارکیٹ اس کمی کو پورا کرلے گی جبکہ ایسا نہیں ہوتا، مارکیٹ پیسے پر چلتی ہے انسانی ضرورتوں پر ترس نہیں کھاتی۔ امرتا سین نے اپنی کتاب میں جمہوریت کا مقدمہ بھی لڑا ہے، سین کا کہنا ہے کہ جمہوری ممالک میں قحط کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ جمہوریت میں آزادی صحافت کی وجہ سے حکومتوں پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح کو دیگر تمام ضروتوں پر مقدم رکھیں چاہے وہ دفاعی ہوں یا اسٹریٹیجک، بنگال میں برطانوی راج نے اس کے برعکس کیا اور نتیجے میں قحط بھگتا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم خوراک میں خود کفیل ہیں اور تمام تر غربت کے باوجود ایسی کوئی صورتحال درپیش نہیں جس کا نقشہ سین نے اپنی کتاب میں کھینچا ہے مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں آج ہمارے ملک کا سفید پوش اور غریب طبقہ انتہائی کسمپرسی میں ہے اور بمشکل سانس لے رہا ہے، بجٹ میں ان بیچاروں کو ڈیمانڈ اور سپلائی کے سفاک اصولوں کے حوالے کرنا ان کا قتل کرنے کا مترادف ہوگا، اگر ہم نے بھی یہی کرنا ہے تو برطانوی راج کیا برا تھا!

کالم کی دُم:کشمیر پر امرتا سین کے بیان پر ہم بہت خوش ہیں، اپنے یہاں بھی ظلم کے خلاف جو مرد حُر آواز اٹھائے اسے سین جتنی پذیرائی تو ملنا ہی چاہئے!

بشکریہ روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *