برطانوی شہروں کے بعد اگر یور پ کے کسی ایک ہی شہر پر پاکستانیوں نے مقامی بزنس پر قبضہ کر لیا ہے تو وہ یقیناًبارسلونا ہی ہیے،امید ہے کہ بہت جلد لوگ برطانیہ کی نہیں بلکہ بارسلونا کی مثال دیا← مزید پڑھیے
وہ کسی سیانے کا “بیت” تو آپ نے بھی سُنا ہوگا کہ: بے کار مباش ، کچھ کیا کر کپڑے ہی ادھیڑ کر سِیا کر ہم نے کپڑے تو کامیابی کے ساتھ ادھیڑ رکھے لیکن سینے کا مرحلہ آیا تو← مزید پڑھیے
بارسلونا میں میٹرو یعنی انڈرگراؤنڈ ٹرین کا سفر بہت سستا ہے، صرف اڑھائی یورو میں آپ ایک جگہ سے دوسر ے جگہ منتقل ہوسکتے ہیں البتہ اگر آپ 25یا ستائیس یورو خرچ کر لیں تو تین چار دن کا ٹکٹ← مزید پڑھیے
*الہجرہ ریزیڈنشل سکول و کالج ، زیارت سے واپسی پر اس شہر میں ہمارا آخری پڑاؤ الہجرہ کالج تھا۔ اس ادارے سے میرا پہلا تعارف ”رضوان بگٹی“ ،ہے جو ایک سیاح اور بائیکر ہونے کے ساتھ ساتھ اس ادارے کا← مزید پڑھیے
کسی بھی کمیونٹی (چاہے وہ نسلی شناخت کی بنیاد پر کمیونٹی بنی ہو یا مذھبی بنیاد پر یا کہیں کہیں یہ دونوں بنیادیں ‘شناخت’ کا بنیادی حوالہ بنیاد جاتی ہیں) میں ایسے مہا ذہین جنم لیتے رہتے ہیں جنھیں اس← مزید پڑھیے
لیجیے تمام کتھا مکمل ہوئی، اب آخری دن تھا اس میں کچھ آرام بھی کرنا تھا اور پیکنگ وغیرہ بھی۔ پہلے تو گن گن کے اس دن کا انتظار ہو رہا تھا مگر یہ دن آیا تو یقین مانیں کہ← مزید پڑھیے
فلک کے دامن میں اک بزم سجی ہے نور کے ہالے میں لپٹی، یہ محفل ستاروں کی ہے وہ ستارے جو کبھی عشق کے سمندر میں خود کو ڈوبو کر بجھا دینا چاہتے تھے لیکن وہ اب بھی اسی شان← مزید پڑھیے
اگرچہ مولانا عبد الرحمن کی ’’مراۃ الشعر‘‘ ۱۹۲۶ء میں منظر عام پر آئی تھی ، مگر اس میں ’’ہماری شاعری (از مسعود حسن رضوی ادیب‘‘) کی مانند نئی شاعری کے خلاف باقاعدہ مقدمہ تیار کرنے کی کوشش نظر نہیں آتی۔← مزید پڑھیے
مجھے اور میرے بچوں کو ہالی ڈے کے لیے ریزارٹ تو پسند ہیں ہی مگر اس سے زیادہ ہم شہر کی ہالی ڈے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ہمیں تاریخی مقامات دیکھنے اور ان کی تاریخ جاننے کا بہت شوق← مزید پڑھیے
باب نمبر:۲ نگمبو ۱۔ شہر میں بکھرے تعمیراتی حُسن کے نادر نمونے اعتراف تھے کہ ان چور اُچکی ےُورپی قوموں نے جنوبی ایشیائی ملکوں کو اگر لوٹا ہے تو کچھ دیا بھی ہے۔ ۲۔ جب اکثریتی طبقہ اقلیتوں کے حقوق← مزید پڑھیے
اگست کا مہینہ جہاں پاکستان کے قیام کی خوشیاں یاد دلاتا ہے وہاں ہر گزرتے برس کے ساتھ کسی نہ کسی نئے رنج کے اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔ ادبی دنیا ہی پر نگاہ کریں تو کیا کیا ہستیاں← مزید پڑھیے
آغا گل سے میرا تعلق ان کے ناول ”بابو“ پڑھنے کی بنیاد پر بنا۔ اس کتاب کا تاثر اتنا مضبوط اور پختہ تھا کہ اس کی وجہ سے میں نے ان کی تمام تخلیقات سلسلہ وار پڑھنے کا ایک مصمم← مزید پڑھیے
اپنے انداز و اطوار میں انڈنیز پرفیشنلز دکھائی دیئے۔ عرفات میں ان کے واش رومز کی طرف نکل گیا وہاں میں نے دیکھا کہ وہاں وہ ہماری طرح بھیڑ بھڑکا کرنے کے بجائے تحمل سے ہر دروازے کے سامنے باقاعدہ← مزید پڑھیے
زیارت زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہے۔ جن دنوں زیارت ضلع سبی کی تحصیل ہوا کرتی تھی، مشہور تھا کہ زیارت کا پولیس اسٹیشن پاکستان کا وہ واحد تھانہ ہے جو سردیوں میں بند کردیا جاتا ہے اور مقامی← مزید پڑھیے
ڈھلتی شام، پھیلتی تاریکی ،شہر کا شور و غل ،طبیعت میں ایک اُداسی کی کیفیت ،دل بوجھل ،مزاجِ آوارہ بجھا بجھا سا تھا۔ رہ رہ کر ناصر کاظمی کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔ بھری دنیا میں جی نہیں لگتا← مزید پڑھیے
میری جین کراس کرنے کے بعد دیدار ہوتا ہے اس راستے کے سب سے ٹھنڈے اور اونچے اسٹیشن کولپور کا۔ کَولپور؛ سطح سمندر سے 1792 میٹر بلند کولپور،اِس وقت بلوچستان کا سب سے بلند ترین ریلوے سٹیشن ہے۔ اس سے← مزید پڑھیے
وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا جس میں ایک شخص سگریٹ لینے جاتا ہے تو دوکاندار اسے ایک پیکٹ تھما دیتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ ” خبردار! سگریٹ نوشی مردانہ کمزوری کا موجب ہے” وہ شخص← مزید پڑھیے
آج محمد خالد فیاض کی ایک پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر خرم شہزاد نے ژاک دریدا کے ایک مضمون کا ترجمہ حواشی کے ساتھ کیا ہے اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور ترجمہ← مزید پڑھیے
یادش بخیر! یہ 1980 کی دہائی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ہم نے میدان کارزار میں قدم رکھا ہی تھا کہ شعر وشاعری کے ذوق نے گھیرلیا۔ اس زمانے میں معیاری مشاعرے اپنے عروج پر تھے۔ یہاں دہلی میں جن مشاعروں← مزید پڑھیے
پچھلی رات کا اختتام کھانے پہ ہوا تھا۔اگلی صبح کا آغاز بھی روٹی سے ہو رہا تھا۔درمیان میں گزری رات میں یہ سمجھ آئی کہ فرانس اور خاص کر پیرس میں دیسی کمیونٹی میں گٹھ جوڑ، دعوتیں، کھانے اور میل← مزید پڑھیے