ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 214 )

ایک رات کا ذکر ہے/ٹوڈور گریشیا ۔بلغاریہ

ترجمہ۔ثاقب علی! یہ ٹھیک دس سال پہلے کی بات ہے اس عجیب و غریب آدمی کو میں نے پہلی اور آخری مرتبہ دیکھا تھا۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ کہہ لینے دیجئے، وہ موسم بہار کا پہلا دن←  مزید پڑھیے

امن کے بعد۔شینووا اچیبے/ خورشید اقبال

جوناتھن اوِگبواپنے آپ کو بے حد خوش قسمت محسوس کر تا تھا۔ نئے نئے قائم ہونے والے امن کے ان دھندلے دھندلے سے دنوں میں پرانے دوستوں میں ایک دوسرے کو ’’زندگی مبارک ہو‘‘کہہ کر مبارک باد دینے کا چلن←  مزید پڑھیے

پانی کی کہانی

پانی بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ سیال ہے۔ اس کے بہت فائدے ہیں۔ جس شے میں ڈالو اسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ دودھ میں ڈالو تو دودھ، دوا دارو میں ملاؤ تو بالترتیب دوا اور←  مزید پڑھیے

درندے(نظم)

سنا ہے کہ درندوں کے نگر میں بھی کوئی دستور ہوتا ہے انہیں جب بھوک لگتی ہے وہ تب جا کر کسی کو پھر ستاتے ہیں کسی کی جان لیتے ہیں کسی کو قتل کرتے ہیں مگر جب پیٹ بھر←  مزید پڑھیے

بادشاہت/سعادت حسن منٹو

ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ من موہن پاس ہی بیٹھا تھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور کہا ’’ہیلو۔ فور فور فور فائیو سیون دوسری طرف سے پتلی سی نسوانی آواز آئی۔ ’’سوری۔ رونگ نمبر‘‘ من موہن نے ریسیور رکھ دیا←  مزید پڑھیے

جب مَن کی گنگامیلی ہو جائے

جب مَن کی گنگامیلی ہو جائے جاوید خان دل سُرخ سیال کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔جو شریانوں کے ذریعے پورے بدن میں بہتا جاتا ہے۔دِل سُکڑتا ہے ، پچکتا ہے اور تڑپتا ہے۔سُرخ سیال جب واپس پلٹتا ہے←  مزید پڑھیے

قصہ حاتم طائی۔۔ 9

قصہ حاتم طائی —- 9 ظفرجی حاتم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً اس بزرگ کی خدمت شروع کر دی- کئی روز کی مشقت کے بعد ایک روز وہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: اے سعادت مند !!!←  مزید پڑھیے

میر انیس کی فصاحت – غلام ربانی

جب کوئی خیال یا جذبہ لفظوں کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے یا دلی واردات یا کوئی کیفیت لفظوں کے لباس میں سامنے آ جاتی ہے تو شعر بن جاتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ طرزِ ادا میں نزاکت←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (31)…….سلسلہ سوالوں کا

سلسلہ سوالوں کا (آنند : بھوج پتر پر کیوں لکھتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھوج پتر: (درخت کی چھال سے بنائے گئے مخطوطات اپنے دھرم گرنتھ ہم سارے؟ تھاگت : تا کہ آنے والی نسلیں ان کو پڑھ کر سیکھ سکیں وہ سب←  مزید پڑھیے

سمجھوتا۔جاپانی ادب،ترجمہ/ستار طاہر

اگر تم سچ مچ اندھے ہو گئے تو میں یہ دکھ کیسے برداشت کرسکوں گی۔ تمہیں ٹھوکریں کھانے اور اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مجھ سے تو نہ دیکھا جائے گا۔ خدا کرے ایسا نہ ہو ورنہ ہمارا تمام مستقبل تباہ←  مزید پڑھیے

آزمائش/مارک ٹوئن۔انگریزی ادب

دنیا میں اکیلا ہونا بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ اس محرومی کا احساس صرف وہی کرسکتا ہے جو اپنوں کی چاہت کو ترس گیاہو۔ ستائیس برس کی عمر میں ، میں بھی تنہائی کے اسی آزار سے دوچار تھا،←  مزید پڑھیے

زوجہ اول و ثانی کے فوائد و سائیڈ ایفیکٹ

یوسفی نے کہا تھا مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے، اور ہمارا خیال ہے کہ مرد کی خواہش اور عورت کے خواب کا دم اس کے مرنے کے بعد بھی نہیں←  مزید پڑھیے

ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ /حصہ اول

سائن پوسٹنگ! سن تھا 1995 اور مہینہ نومبرکا۔ہم نئے نئے پاس آؤٹ ہو کر ایکسر سائز فائر بال کی کھجور میں اٹکے تھے۔ ایکسر سائز فائر بال ایک لحاظ سے تاریخی جنگی مشق تھی جس میں پوری 11کور نے انتہائی←  مزید پڑھیے

ٹیکسی ڈرائیور/گوربخش سنگھ پریت لڑی

گورمکھی کہانی کا ترجمہ۔۔ ‘‘صاحب…. صاحب…. صاحب جی!’’ رات کے بارہ بجے تھے۔ کمل اسکوٹر کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوجانے کی وجہ سے ایک ہفتہ ہسپتال میں رہی تھی اور آج ہی آئی تھی اور اسے گرم پانی کی بوتل سینکتے←  مزید پڑھیے

قصہ حاتم طائی جدید۔قسط8

حاتم پیر ودھائی اڈّے پر سر پکڑے بیٹھا تھا کہ”ہاتف” نے صدا دی: وے سب توں سوھنیاں … ہائے وے من موہنیاں … میں تیری ھووووووووو …….! اس نے جھٹ جیب سے موبائل نکالا- دوسری طرف شہزادی کا پرسنل سیکرٹری←  مزید پڑھیے

واپسی۔ فرنینڈو سیریٹینو / ہسپانوی ادب

1965 ء میں، میں تئیس سال کا تھا اور ہائی سکول میں زبان اور ادب کا استاد بننے کے لئے پڑھ رہا تھا۔ ستمبر کی ہوا میں موسمِ بہار کی خوشبو آنے لگی تھی۔ ایک صبح میں اپنے کمرے میں←  مزید پڑھیے

گوتم سروپ کی یاد میں/ٹھاکر لچھمن سنگھ

’’دنیا بھر میں سب سے نچلا طبقہ ناخواندہ ہے جو تقریباً نوے فیصد ہے۔ اسی کے درمیان تجارتی اور سیاسی طبقات ہیں جو اپنے اپنے مفادات میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔سب سے آخری طبقہ قلم کار کا ہے جو←  مزید پڑھیے

قصّہ حاتم طائ جدید -7- ظفرجی

قصّہ حاتم طائ جدید -7- ظفرجی میں خاموشی سے اٹھا اور گھر آگیا-مجھے امید تھی کہ شاداں اس پرائیویٹ میٹنگ کو راز رکھے گی اور تنہائی میں میری بات پر ضرور غور کرے گی- آخر ایک جوان عورت کب تک←  مزید پڑھیے

خود نوشت/احمد اقبال۔حصہ چہارم

حصہ چہارم نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا 15 اگست سے قبل ہی نگاہوں میں اجنبیت آگئی تھی۔ زندگی امتحان لیتی ہے تو اخلاقی اورانسانی قدریں اور مذہبی رواداری ہمسائیگی←  مزید پڑھیے

رحمت کی ہوا/ مصری ادب کا ایک شاہکار افسانہ

چھوٹے قد کا آدمی، فلپ سائیکل پر سوار، دوپہر کے وقت گاؤں میں داخل ہوا۔ وہ بہت دور کے ڈاک خانے سے آیا تھا۔ اس کی داہنی آنکھ کے اوپر زخم کا نشان تھا۔ اس نے زردی مائل خاکی رنگ←  مزید پڑھیے