جب مَن کی گنگامیلی ہو جائے

جب مَن کی گنگامیلی ہو جائے
جاوید خان
دل سُرخ سیال کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔جو شریانوں کے ذریعے پورے بدن میں بہتا جاتا ہے۔دِل سُکڑتا ہے ، پچکتا ہے اور تڑپتا ہے۔سُرخ سیال جب واپس پلٹتا ہے تو تمام فاسد مادے ساتھ لاتا ہے۔پھیپھڑوں میں کھینچی ہوئی آکسیجن ان فاسد مادوں کو خون سے اُٹھا لیتی ہے۔یہ سلسلہ جاری رہتا ہے،جب تک دل سُکڑتا اور پھُولتا رہتا ہے۔مَن کے سُکڑنے اور پھیلنے کوسائنس دانوں اور شاعرئوں نے جُدا جُدا رنگ میں پیش کیا ہے۔سائنس نے دِل کو اک مشین ہی سمجھا جو خون سپلائی کرنے کے لیے ضروری ہے۔مگر شاعروں نے دل کو ہزار طرح سے پکارا ۔دل کا بھر آنا ،کبھی دل کا خُون کے آنسو رونا ،دل کا کسی کی یاد میں تڑپنا ۔اے دل تجھے قسم ہے۔
صُوفیاء نے دِل کے مندر میں محبوب حقیقی کو دیکھا ہے۔
دِل اِک مَندر ہے۔
تُم مُورت ہو
تُم کتنے خُوبصورت ہو۔
محبوب حقیقی جب دل کی آنکھ سے دِکھتا ہے تو مَن مَندر میں پھُول کِھل اُٹھتے ہیں۔عشق حقیقی کے مسافر دل سے پہلے ہوس، نفرت ، لالچ،جھوٹ ، بُغض ،عناداور حسد جیسی تمام زہریلی ،آلودہ اور خاریلی بوٹیاںجڑ سے اُکھاڑ پھینکتے ہیں۔تب مَن میں چمبیلی جیسے خُوبصورت خُوشبودار پھُول ،بوٹے اُگ آتے ہیں۔جن کی خُوشبو سے مَن کی دُنیاء مہکنے لگتی ہے۔مَن جب نفسانی آلائشوںسے پاک ہو جاتا ہے تو دل کے چمن میں بہار ہی بہار رہتی ہے۔صوفی بھی اک سائنس دان ہے وہ فطرت کاطالب ِعلم ہوتا ہے اور فطرت کاوفادار بھی ۔ مادی سائنس کی خدمات سے انکار نہیں مگر بگاڑ بھی برابر ہے۔صوفی کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے اُس میں اُسے ربط نظر آتا ہے جو ہر طرح سے بامقصد ہے بے مقصد نہیں ۔مُثبت طرز ِنظر و طرز فکر ہی انسان کی معراج ہے۔سچے سائنس دان ،عالم ،صوفی کا یہی منشاو مقصد ہے۔
اس لامُتناہی کائنات میں ہمارا سیارہ زمین ،جسم میں دل کی ماند ہے۔اس کے گردا گرد نہ جانے کتنے جہاں آباد ہیں اور ستاروں کے قافلے دَم ِسحر انسانی نظر سے اوجھل ہو کرپھر رات کو دوبارہ محفل جمالیتے ہیں۔کسی فطرف پرست کے لیے نیلگوں آسماں پہ جگ مگ کرتے گو ل گول جگنو اُوپر تلے بِکھرے نکھرے ،ٹھنڈی دُودھیا روشنی لیے خُوش منظر ہوتے ہیں۔ساری رات کے یہ شب گرد فطرت کی رنگینیوں میں جو رنگ اور سرُور بھرتے ہیں لفظ اُنہیں گِرفت میں لینے سے قاصر ہیں۔اُجلی راتوں کی یہ رُونق صرف اُجلے دلوں اور دماغوں کو بھاتی ہے۔شفاف نیلا آسمان اور اُس کے نیچے ہریالی اِس سیارہ زمیں سے پیار کرنے والے ہر شخص کو خُو ش لگتی ہے۔
نیلے گگن کے تلے
دھرتی کا پیار پَلے
دھرتی (زمین،فطرت)سے پیارکرنے والے ہی دراصل مُثبت فکر لوگ ہیں۔ وہ صوفی ،وہی سچے ،وہی عابد، وہی عارف ،وہی عالِم ہیں۔اس سرسبز سیارے کو جوکروڑوں سیاروں و ستاروں اور کہکشائوں میں سب سے خُوبصورت ہے۔اس پہ اُترنے والی اِلہامی تعلیمات جنہیں پاکیزہ وجود لے کر اُترے اور اس کو سنوارا ،اس کو کِشت کو خون میں نہلانے والے اس دھرتی سے پیار کرنے والے ہر گز نہیں ۔شفاف فضا کو گندی گیسوں سے گدلا کرنے،زہریلی منشیات کے ذریعے معصوم زندگیوں کی روشن دُنیا تاریک کرنے والے ،سائنس دان یاعالِم کہلانے کے مُستحق نہیں۔درسگائیں اس وقت تک درس گائیں ہیں جب وہ پیار ،محبت،سچ،اُنس، صبر وتحمل کی تعلیم دیں۔ہزاروں ایکٹر رقبوں پہ پھیلی خوشنما عمارات میں اگر انسانوں سے انسانیت کھرچ کھرچ کر اُن میں نفرت، علاقائیت ،پُرتعیش زندگی کے لیے دوسروں کا استحصال اور حق تلفی کرنے کے خاموش انجکشن لگایا جایں تو پھر چمبیلی کی مہک نہیں رہتی ہر جگہ خار خار ہو جاتی ہے۔
زیر سمندر خُو بصورت دُنیا میلی ہو کر مر رہی ہے۔سمندروں میں انسانی بقا کیلیے سینکڑوں لاکھوں سالوں کی خوراک موجود ہے۔کروڑوں سالوں سے موجود آبی جنگلات ہیں ۔مگر مَن میں چھُپی ہِوس جسے کوئی درسگاہ اُکھاڑ کرنہ پھینک سکی اس فطری حُسن اور وسائل کو دیکھ بے تاب ہو گئی ۔سمندری حیات شدید خطرے سے دو چارہیں۔فضا میں آلودگی جوزیادہ تر فیکٹریوں اور زہرہلے ہتھیاروں کے استعمال سے بڑھ رہی ہے،کی وجہ سے قطبین کی برف پگھلتی جارہی ہے۔آبی پرندے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ماضی کے سیاسی قطبین جن کی سرد جنگ نے آسمان کے بادلوں میں زہربھر دیا جبکہ زمین کو بنجر کردیا تھا۔ان زمینوں پہ انسانی خُون کی بارش آج بھی جاری ہے جبکہ کانٹے دار جھاڑیاں اِس بارش میں مزید پھیل پھول رہی ہیں۔افغانستان ،وسط ایشیا ،موغا دیشو، افریقی ممالک اور شام آج پھر ہوس (سرماے)کی سرد جنگ کی بھینٹ دے رہے ہیں۔ان زمینوں کے آسمان سیاہ اورمٹی زہر خیز ہو چکی۔
انسانی وجود میں بہنے والے سُرخ سیال کی طرح اِس دھرتی کے سینے پہ بہنے والے شفاف پانیوں کے سینکڑوں دریا زندگی کے محافظ ہیں۔دریا مِس ۔سَسِی ۔پی ۔امریکہ کا خُوبصُورت ترین دریا تھا۔دُنیا کے اس چوتھے بڑے دریا میں سالانہ 12.7 ملین پاونڈ کیمیائی مواد گرتا ہے۔دریا ِ ینگٹز چین کے بڑے دریائوں میں سے ایک ہے۔اس میں سالانہ 25 ملین پاونڈ فیکٹریوں او ر سیوریج کا گندہ مواد شامل ہوتاہے۔پاکستان میں پینے کا پانی سپلائی کرنے والے تالابوں میں انسانی فُضلہ شامل ہے۔دریا گنگا بھارت کا مقدس دریا ہے 11 ریاستوں کو پینے کا پانی مہیا کرتا ہے۔ گنگا بھارت کا سب سے آلودہ دریا بن چکا۔اِک ہندی گیت کے بول ہیں۔
میرے من کی گنگا ۔
تیرے من کی جمنا
بول رادھا بو ل
سنگم ہو گا کہ نہیں۔
کیا ہِوس و نفرت کے قطبین کی سرد برف پگھل پائے گی ؟دُنیا کی تمام بڑی درسگاہیں پیار،محبت ،اُنس ،قناعت،مساوات کا مضمون کب سے پڑھائیں گی؟دُنیا کو اُجلے دماغوں اور صاف دل انسانوں کی سخت ضرورت ہے۔مگر شاید ابھی نہیں ،ابھی کچھ ہونا باقی ہے۔مَن کی گنگائیں بہت میلی ہو چُکی ہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *